×

اسپیلنجی کابو اور جوہان کے گرد و نواح میں ریاستی فورسز کی جارحیت مستونگ میں چار بلوچ فرزندوں کی حراستی قتل اور ان کی لاشیں مسخ کرکے پھینکنے کا مجرمانہ عمل اور بلوچ راجی شاعر مبارک قاضی کے گھر پرحملہ جاری بلوچ نسل کشی کا تسلسل ہے بلوچ سالویشن فرنٹ

اسپیلنجی کابو اور جوہان کے گرد و نواح میں ریاستی فورسز کی جارحیت مستونگ میں چار بلوچ فرزندوں کی حراستی قتل اور ان کی لاشیں مسخ کرکے پھینکنے کا مجرمانہ عمل اور بلوچ راجی شاعر مبارک قاضی کے گھر پرحملہ جاری بلوچ نسل کشی کا تسلسل ہے بلوچ سالویشن فرنٹ

20.6.2013
بلوچ وطن موومنٹ بلوچ لبریشن پارٹی اور بلوچ گہار موومنٹ پر مشتمل الائنس بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ اسپیلنجی کابو اور جوہان کے گرد و نواح میں ریاستی فورسز کی جارحیت مستونگ میں چار بلوچ فرزندوں کی حراستی قتل اور ان کی لاشیں مسخ کرکے پھینکنے کا مجرمانہ عمل اور بلوچ راجی شاعر مبارک قاضی کے گھر پرحملہ جاری بلوچ نسل کشی کا تسلسل ہے قابض فورسز انتہائی بے رحمی کے ساتھ بلوچ آبادیوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بناکر بلوچ خون بہانے پر فخر اور تکبر کے ساتھ اپنی نام نہاد عملداری اور قبضہ کو دوام بخشنے کے لئے قتل و غارت کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اسپلینجی اور گرد و نواح میں گزشتہ بیس دنوں سے ریاستی فورسز کی جانب سے گھر گھر تلاشی کا سلسلہ جاری ہے اور اب تک کئی گھروں اور گدانوں کو جلانے سمیت کئی بلوچ فرزندوں کو شہید کرنے سمیت کئی نہتے بلوچوں کو اغواء کیا گیا ہے ترجمان نے کہا ہے کہ قومی آزادی کی ناقابل شکست جدوجہد نے ریاست کو بوکھلائٹ کا شکار کردیا ہے اور وہ بڑے پیمانے پر خونریزی اور نسل کشی کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے اعصابی اور نفسیاتی جنگ کے زریعہ بلوچ آزادی کے صفوں کو کمزور کرنے اور شکست دینے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور بڑے پیمانے پر طاقت استعمال کرنے کا مقصد بھی یہی ہے کہ بلوچ قوم کاتحریک آزادی سے رشتہ کو کمزور کیا جاسکے اور بے رحم قتل عام کے زریعہ لوگوں کو خوف میں مبتلاء کرکے آزادی کے پنپتے جذبے اور نظریہ کو ماند کرکے زہنوں کو خوابیدہ کیا جاسکے لیکن قبضہ گیر کی یہ جارحیت اور مزموم ہتکھنڈے آزادی کے نظریہ و شعور سے لیس بلوچ قوم کے فرزندوں کے حوصلوں اور امیدوں میں کسی قسم کی تزبزب پیدا نہیں کرسکتے بلکہ شہادتوں اور ریاستی حملوں کے بعد بلوچ قوم میں مزید نٖفرت انتقام اور غصہ کے تمام مظاہر چنگاری کے بن کر انقلاب میں تبدیل ہو چکے ہیں ترجمان نے کہا کہ بلوچ گلزمین بلوچ قوم کی ملکیت ہے قبضہ گیر کے دعوی غیر قانونی اور ناجائز ہے بلوچ قوم ریاستی مداخلت کے خلاف مدافعتی جدوجہد کررہی ہے اور اپنی دفاع کررہی ہے جو اقوام متحدہ کے چارٹر اور انسانی و بین الاقوامی قوانیں کے عین مطابق ہے جب کہ قبضہ گیر خلاف ورزی اور مداخلت کے زریعہ بلوچ وطن پر قبضہ کرکے طاقت کے زریعہ بلوچ وطن کی ملکیت کا دعوی کرکے جس انداز میں بلوچ نسل کشی کرکے خطے میں خونریزی کے عمل میں شدت لاکر تمام قومی انسانی اسلامی اور بین الاقوامی قوانیں کی دھجیان اڑارہی ہے اقوام متحد ہ کی جانب سے ریاستی دہشت گردی پر خاموشی اور گزشتہ دنوں قبضہ گیر کے لئے خیر سگالی کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اقوام متحدہ پاور اور دہشت گردی کی حمایت کرتی ہے اور کمزور اور غلام قوموں کے حمایت نہیں کرتی اور نہ ہی کمزور قوموں کے اخلاقی ہمدردی کا جزبہ رکھتی ہے یہ تنظیم جس چارٹر کا ماسک پہن کر قوموں اور انسانوں کے حقوق کے جو دعوی کر رہا ہے اس ماسک کے پیچھے اس کا اصلی چہرہ کچھ اور ہے ان کے نزدیک انسانوں اور قوموں کا نعرہ ڈھکوسلے کے سوا کچھ نہیں ترجمان نے کہا کہ 6دہائیوں پر محیط بلو چ قوم کی غلامی کی تاریخ کا ہر لمحہ اور ہر اوراق خون آلود ہے بلوچ قوم نے کھبی بھی قبضہ گیر کے سامنے سرنگوں ہوکر ان کی غلامی اور اطاعت کو قبول نہیں کیا اور ہمیشہ سے اپنی جان کی قربانی دیکر مصالحت اور کمپرو مائز کو مسترد کرکے دفاعی جدوجہد کو اولیت دی جس سے ریاست ایسے کئی واقعات کے ساتھ اپنی جبر و دہشت گردی کا مظاہرہ کیاجو دل دہلانے اور رونگٹھے کھڑی کرنے والی ہے لیکن قبضہ گیر کی جانب سے نفسیاتی خوف دلانے کی مزموم ہتھکنڈے آزاد بلوچ وطن کی سوچ کو کمزور نہ کرسکی اور آج بھی قبضہ گیر اسی پہلواور اسی انداز میں ہتک آمیز اور دہشت گردانہ پالیسیوں کے ساتھ بلوچ قومی تحریک کے خلاف کئی شکلوں اور کئی صورتوں میں بلوچ قوم کی خونریزی کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں بلوچ عوام قومی شعور سے لیس ہوکر ان سے ایک فیصد بھلائی کی توقع نہ رکھیں اور ان کی کسی بھی ہمدردی کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے آزادی کی جدوجہد کی صفوں میں کھڑے ہوکر تحریک کے لئے قوت اور طاقت بنیں

Previous post

شہید مالک ریکی نے مغربی بلوچستان کے آزادی کاعلم بلند کرکے ایرانی قبضہ گیروں کے خلاف فعال جدوجہد کی اورآخر دم تک کسی بھی مصالحت سے بالاتر ہوکرقبضہ گیرکے غلامی کے بجائے آزادی کی جدوجہد اور شہادت کو ترجیح دی

Next post

پاکستانی زرائع ابلاغ الیکٹرانک میڈیا کی جانب سے تحریک آزادی کو انتہاپسندی سے جوڑ کر بلوچ قومی جدوجہد کے خلاف غلیظ اور بے بنیاد پروپیگنڈوں کا تشہیر کرنا قابل مزمت اور صحافیانہ زمہ داریوں کی منافی ہے