×

اقوام متحدہ کی سیکریٹری جنرل کی پاکستان میں موجود گی میں شہیدرضا جہانگیربلوچ اور شہید امداد بوچر سمیت کمبری پل کے علاقہ میں پہلے سے حراست میں لئے گئے افراد کو فائرنگ سکواڈ کا نشانہ بناکر شہید کیا گیا بلوچ سالویشن فرنٹ

اقوام متحدہ کی سیکریٹری جنرل کی پاکستان میں موجود گی میں شہیدرضا جہانگیربلوچ اور شہید امداد بوچر سمیت کمبری پل کے علاقہ میں پہلے سے حراست میں لئے گئے افراد کو فائرنگ سکواڈ کا نشانہ بناکر شہید کیا گیا بلوچ سالویشن فرنٹ

14.8.2013

بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جارے کئے گئے ایک بیاں میں کہاہے کہ اقوام متحدہ کی سیکریٹری جنرل بانکی موں کی جانب سے قبضہ گیر ریاست کے لئے تعریفی کلمات اور بلوچ وطن میں ریاستی دہشت گردی پر زبان بندی ریاست کی مجرمانہ دہشت گردی کی کھلی حمایت اور جارحانہ پالیسیوں کی حوصلہ افزائی ہے ترجمان نے کہاکہ ہندوستان کے خونریز تقسیم کے بعد معرض وجود میں لانے والی غیر فطری ریاست کی وجود نے نہ صرف خطے کو عدم استحکام سے دوچارکردیا ہے بلکہ دہشت گردی کے خالق کی حیثیت سے خطہ کو جنگ اور خونریزی میں دھکیل کر انسانی بحران پیداکرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے بلوچ وطن پر قبضہ اور بڑے پیمانے پر خونریزی بلوچ قوم کی نسل کشی اسی ریاست کے سیاہ اور مکروہ چہرہ کو آشکار کرتے ہیں دہشت گردی کے خالق کو دہشت گردی کے خلاف قربانی دینے جیسے تعریفی کلمات سے نوازنا زمینی حقائق کی توہین ہے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل ایک ایسے وقت میں پاکستانی ریاست کا دورہ کررہے ہیں جب بلوچستان میں ریاست اپنی جارحانہ کاروائیوں میں شدت لائی ہے مغوی بلوچوں کی حراستی قتل کو جھڑپوں اور جعلی مقابلہ کا نام دے کر ان کی لاشیں پینکھی جاری ہے بلوچ سیاسی کارکنوں اور آزادی پسندوں کو اندوہناک واقعات کے زریعہ شہید کیا جارہا ہے اقوام متحدہ کی سیکریٹری جنرل کی پاکستان میں موجود گی میں شہیدرضا جہانگیربلوچ اور شہید امداد بوچر سمیت کمبری پل کے علاقہ میں پہلے سے حراست میں لئے گئے افراد کو فائرنگ سکواڈ کا نشانہ بناکر شہید کیا گیا مچھ مری کالونی میں آپریشن اورمعصوم مری بلوچ فرزندوں کا اغواء اور قتل عام ریاست کی ننگی جارحیت ہے فورسزپورے بلوچستان کو سیکورٹی حصار بناکر بلوچ آبادیوں میں گھس کر لوگوں کو اغواء کرنے کے بعد شہید کررہے ہیں پچھلے ایک ہفتہ میں بیس سے زائد بلوچ فرزندوں اور سیاسی کارکنوں کو جعلی مقابلہ اور بمباریوں سے شہید کیا گیا نیو کاہان اور اسپلینجی سے اب تک کئی بلوچ فرزندوں کو غائب کردیا گیا ہے جو ریاستی کاروائیوں کی تازہ ترین مثال ہے ترجمان نے شہید رضا جہانگیر بلوچ اور اور شہید امداد بوچر اور شہید رفیق سمالانی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانیاں ایک آزاد اور روشن مستقبل کے لئے ہیں جدوجہد آذادی کو ہر قسم کی دشوار مرحلوں اور تلخ تجربات کا سامنا کرپڑتا ہے اس طرح کی کاروائیوں سے بلوچ قوم کو خوف زدہ نہیں کیا جا سکتا شہادتیں بلوچ قومی و اجتماعی شعور پر گہرے اثرات مرتب کررہے ہیں ریاست کے خلاف نفرت و انتقام کی آگ تیزی سے بڑھک رہی ہے جو مسلط ریاستی ڈھانچہ پر کاری ضرب ہے ترجمان نے کہا کہ بلوچ وطن کو پاکستانی کی اکائی کہنے والے زہریلے پراپیگنڈے کررہے ہیں بلوچ وطن مقبوضہ علاقہ ہے یہاں طاقت اور فریب کے بل بوتے پر حکومت قائم کی گئی ہے جوانسانی اور قومی حقوق کی خلاف ورزی ہے انسانی حقوق کی پاسداری کا بھاشن دینے والے اقوام عالم کی تنظیم اقوام متحدہ بلوچ قومی مسئلہ پر اپنی پوزیشن واضح کریںیا اپنے چہرے سے انسانی حقوق کا لیبل اتاردیں کیا ریاستی دہشت گردی پر خاموشی انسانی حقوق کی پاسداری کا تقاضے کے ضمرے میں آتے ہیں یا انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والوں کی پشت پنائی اور حمایت کی عکاسی کرتے ہیں بلوچ قومی مسئلہ کا راہ حل آزادی ہے جو اقوام متحدہ کے رائج قوانیں اور عالمی دنیا کے اصولوں کے عین مطابق مطالبہ ہے عالمی دنیاکو اس مسئلہ پر سنجیدگی سے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے

Previous post

مسنگ پرسنز کے کیمپ کو جلانے کی عمل کو ریاستی گماشتوں کی بزدلی قرار دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دنوں مجھ سمیت وائس فار مسنگ پرسنز کے وائس چیئر میں ماما قدیر کو11اگست یوم آزادی کے دن کے مناسبت سے تقاریب منعقد کرنے پر قومی سرگرمیوں سے باز آنے کی دھمکی دی گئی جو ر

Next post

بولان میںآپریشن معصوم بلوچ فرزندوں کا حراستی قتل اور نیوکاہان مری کیمپ پر چھاپہ اور چاردیواری کی پائمالی بلوچ نسل کشی پر مبنی برترین ریاستی دہشت گردی ہے