×

بابائے بلوچ سردار خیر بخش مری کا بلوچ قوم کے نام پیغام

بابائے بلوچ سردار خیر بخش مری کا بلوچ قوم کے نام پیغام

مجھے بلوچ گلزمین ماں کی طرح عزیز ہے میرے لیے وہ بلوچ انتہائی قابل احترام ہیں جو بلوچستان کی آزادی کی جدو جہد میں مصروف عمل ہیں اور ہر وہ شہید مجھے بالاچ کی طرح عزیز ہے جس نے وطن کے لیے جان قربان کردی میں شاید دھرتی کے لیے وہ سب کچھ نہ کر سکا جس کا وہ مجھ سے تقاضا کرتی ہے لیکن میری بلوچ قوم سے یہ اپیل ہے کہ وہ اپنی دھرتی کا قرض ضرور اتاریں میرے جانے کے بعد وہ ہر گز مایوسی و بدظنی کا شکار نہ ہوں۔ دشمن تمھیں کمزور کرنے اور کچلنے کے لیے ہر طرح کے حربے استعال کرے گا۔ لالچ دے گا، ڈرائے گا دھمکائے گا۔ نفسیاتی وار کرے گا، ٹکڑوں میں بانٹنے کی کوشش کرے گا۔ لیکن تمھیں انفرادی و اجتماعی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے ثابت قدمی سے تحریک آزادی کو آگے لے جانا ہوگا۔ آزادی کے لیے بلوچ شہدا نے اپنا خون بہایا، بچے یتیم ہوئے، ماؤں سے انکے لخت جگر چھینے گئے بہنوں سے بھائی الگ کئے گیے اس تحریک کے لیے غیور و محب وطن بلوچوں نے قربانیاں دیں۔ اپنے شہدا کے مشن کو نہیں بھولنا۔ اس جدو جہد آزادی کو روکنا مت۔ اسے آگے لے جانا۔ اپنے شخصی و گروہی مفادات کو ایک طرف رکھتے ہوئے آپسی اتحاد و اتفاق سے آزادی کے لیے جدوجہد کرنا۔ تمھاری منزل صرف آزادی ہونی چاہیے۔ اتحاد و اتفاق میں ہماری کامیابی ہے نا اتفاقی سے ہمارا نقصان ہوگا اور آزادی کے حصول میں وقت لگے گا لیکن تمھارے پاس وقت نہیں ہے، دیر کروگے تو نقصان اٹھاو گے تمھاری شناخت خطرے میں ہے اسی لیے جتنی جلد ممکن ہو حصول آزادی کے لیے جدو جہد تیز کرواور میں پر امید ہوں کہ بلوچ ایک دن ضرور آزاد ہونگے اپنے فیصلے کرنے میں خود مختار ہونگے بلوچ ایسی دھرتی کے مالک ہونگے جہاں ہر طرف امن و انصاف ہوگا۔ایک مہذب قوم کی حیثیت سے دنیا کی دیگر مہذب اقوام میں بلوچ کا شمار ہوگاسندھی عوام کے لیے بھی میں یہی کہوں گا کہ ظلم کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔ تمھاری ثقافت و زبان پنجاب سے مختلف ہے۔ اپنی پہچان کو زندہ رکھنے اور سرزمین کی آزادی کے لیے اپنی جدو جہد جاری رکھیں ۔

Previous post

نواب مری کی جسدکا بین الاقوامی ماہرین سے معائنہ کرا کر موت کے اسباب معلوم کئے جائیں، نواب مری کو بھی کاہان کوہستان مری لے جانے کے بجائے نیوکاہان کوئٹہ میں اپنے فکری ساتھیوں کے قبرستان میں سپرد خاک کیا جائے۔حیربیار مری

Next post

بلوچ قوم کے سپریم لیڈر سردار مری کی وفات قومی سانحہ اور ناقابل تلافی نقصان ہے ان کی تاریخی و نظریاتی جدوجہد اور مثالی کردار ہمارے لئے ایک ورثہ ہے سردار مری کی موت قدرتی نہیں انہیں مارنے کے لئے عام طریقوں سے ہٹ کرنئے حربہ استعمال کئے گئے