بلوچ آزادی کی تحریک کو کاؤنٹر کرنے کی مجرمانہ پالیسی پر عمل پیرا گماشتہ ریاست ایک دفعہ پھر نیمرغ چھپر اور رودینجو میں بڑے پیمانے پر سر چ آپریشن شروع کردی ہے بلوچ سالویشن فرنٹ
6.3.2013
بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے چھپر رودینجو اور نیمرغ میں ریاستی دہشت گردی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچ آزادی کی تحریک کو کاؤنٹر کرنے کی مجرمانہ پالیسی پر عمل پیرا گماشتہ ریاست ایک دفعہ پھر نیمرغ چھپر اور رودینجو میں بڑے پیمانے پر سر چ آپریشن شروع کردی ہے بڑے پیمانے پر ملٹری دستوں کی آمدو رفت جاری ہے گھر گھر تلاشی کی جارہی ہے نہتے بلوچ عوام کو تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ترجمان نے کہا کہ آپریشن اور ماس کلنگ کے زریعہ بلوچ قومی تحریک کو سبوتاژ نہیں کیا جا سکتا یہ ریاست کی غلط فہمی ہے کہ آزادی کی تحریک جو آج جس سطح پر پہنچ چکاہے اسے روکناقابض ریاست کے لئے دیوانہ کا خواب ہے ترجمان نے کہا کہ بلوچ یک گہرے تاریخی تبدیلی سے گزر رہے ہیں اور اس انقلابی تبدیلی کو بلوچ محاز آزادی پہ لڑنے والے جہد کاروں نے اپنی جان کی قیمت ادا کرکے جنم دی شہادتیں قومی تحریکوں کی کامیابی کی غمازی کرتے ہیں ایسے لوگ جو اپنی جان کی قیمت پر آزادی کی تحریک چلاتے ہیں وہ تاریخ میں انمٹ ہوتے ہیں ان کی قبرستان زمانہ کے دھول سے نہیں مٹتے جو اپنی زندگی فنا کرکے قومون کی آزادی کے لئے قربان ہوتے ہیں انہوں نے کہا کہ شہداء نے اس فلسفہ کو سچ ثابت کیا کہ نظریاتی اور انقلابیون کے سامنے مقصد کی اہمیت جان سے بڑھ کر ہے اور ان کی شہادت دشمن کی اس خیال کے بھی نفی کرتی ہے کہ فوجی جارحیت تشدد اغواء گرفتاریاں تحریک کے ابھار کو ٹھنڈا کرتے ہیں بلکہ اس کی تپش کو مزید حرارت دیتے ہیں انہوں نے کہا کہ آزادی کی پاداش میں شہید ہونے والے ساتھیون کی غیر معمولی قربانی نے بلوچ قوم کو ان کی آزادی سے قریب تر کردیا ہے آج پاکستانی ریاست مارو اور پھینکو کا جو سلسلہ شروع کیا ہے یہ اس کی ذہنی حواس باختگی کی نشانی ہے کیونکہ بلوچ قوم ان کی قبضہ اور کنٹرول سے نکل کر آزادی کی جانب گامزن ہیں وہ بلوچ قومی تحریک کو تشدد اور کاؤنٹر انسرجنسی کے تمام حربوں کے استعمال کے بعد بلوچ قوم ندوں کا آزادی کے تحریک سے رشتہ ختم نہیں کرسکا جتنے بھی بلوچوں کے لاشیں گرائے گئے اس سے کئی گناہ زیادہ بلوچ اس تحریک میں شامل ہوگئے انہوں نے کہا کہ ہم دنیا سے سفارتی اور اخلاقی تعاون کی درخواست کرتے ہیں کہ وہ بلوچ قوم کا سفارتی مدد کرکے بلوچ قومی آزادی کی مسلمہ حیثیت کو تسلیم کریں کیونکہ بلوچ پنجابی ریاست کی غیر قانونی اور ناجائز قبضہ کے خلاف اپنا دفاع کررہی ہے اس کی مثال صرف بلوچ نہیں دنیا کے ہر قوم نے بیرونی حملہ آوروں کے خلاف جدوجہد کی ہے اور بلوچ قوم بھی وہی بین الاقوامی حق استعمال کررہی ہے


