بلوچ ایک گہرے تاریخی تبدیلی سے گزر رہے ہیں اور اس انقلابی تبدیلی کو بلوچ جہد کاروں نے اپنی جان کی قیمت ادا کرکے جنم دی شہید علی شیربلوچ نے سیاسی و قلمی محاذ پر رہنمائی کی بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ
: 24.9.2013
بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ کے آرگنائزر سعید یوسف بلوچ نے تنظیم کی جانب سے ایک سٹڈی سرکل پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بلوچ ایک گہرے تاریخی تبدیلی سے گزر رہے ہیں اور اس انقلابی تبدیلی کو بلوچ جہد کاروں نے اپنی جان کی قیمت ادا کرکے جنم دی شہید علی شیر ان سپوتوں میں سے ایک ہے جنہوں نے سیاسی اور قلمی محاز پر بلوچ قوم کی رہنمائی کی
شہید ایک پیشہ ور انقلابی کی طرح بلوچ کاز سے عملی اور فکری طور پر وابسطہ رہے وہ ایک مدبر اور قومی دانشور کی حیثیت سے بلوچ نیشنلزم میں ایک استاد کی صورت میں رہنمائی کی ایسے بے لوث و خاکسار رہنماء صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں ان کی شہادت یقیناًایک المیہ ہے لیکن ہمیں افسوس نہیں کیونکہ شہادتیں قومی تحریکوں کی کامیابی کی غمازی کرتے ہیں ایسے لوگ جو اپنی جان کی قیمت پر آزادی کی تحریک کی چلاتی ہے ایسے لوگ تاریخ میں انمٹ ہوتے ہیں ان کی قبرستان زمانہ کے دھول سے نہیں مٹتے جو اپنی زندگی فنا کرکے قومون کی آزادی کے لئے قربان ہوتے ہیں انہون نے کہا کہ شہداء نے اس فلسفہ کو سچ ثابت کیا کہ نظریاتی اور انقلابیون کے سامنے مقصد کی اہمیت جان سے بڑھ کر ہے اور ان کی شہادت دشمن کی اس خیال کے بھی نفی کرتی ہے کہ شہادتین اغواء گرفتاریاں تحریک کے ابھار کو ٹھنڈا کرتے ہیں بلکہ اس کی تپش کو مزید حرارت دیتے ہیں انہوں نے کہا کہ آزادی کی پاداش میں شہید ہونے والے ساتھیون کی غیر معمولی قربانی نے بلوچ قوم کو ان کی آزادی سے قریب تر کردیا ہے آج پاکستانی ریاست مارو اور پیھینکو کا جو سلسلہ شروع کیا ہے یہ اس کی زہنی حواس باختگی کی نشانی ہے کیونکہ بلوچ قوم ان کی قبضہ اور کنٹرول سے نکل کر آزادی کی جانب گامزن ہیں وہ بلوچ قومی تحریک کو تشدد اور کاؤنٹر انسرجنسی کے تمام حربوں کے استعمال کے بعد بلوچ قوم کے فرندوں کا آزادی کے تحریک سے رشتہ ختم نہیں کرسکا جتنے بھی بلوچوں کے لاشین گرائے گئے اس سے کئی گناہ زیادہ بلوچ اس تحریک میں شامل ہوگئے انہوں نے کہا کہ ہم دنیا سے سفارتی اور اخلاقی تعاون کی درخواست کرتے ہیں کہ وہ بلوچ قوم کا سفارتی مدد کرکے بلوچ قومی آزادی کی مسلمہ حیثیت کو تسلیم کریں کیونکہ بلوچ پنجابی ریاست کی غیر قانونی اور ناجائز قبضہ کے خلاف اپنا دفاع کررہی ہے اس کی مثال صرف بلوچ نہیں دنیا کے ہر قوم نے بیرونی حملہ آوروں کے خلاف جدوجہد کی ہے اور بلوچ قوم بھی وہی بین الاقوامی حق استعمال کررہی ہے اس کے برعکس پاکستانی ریاست نہ صرف بلوچ کو شہید کرررہی ہے بلکہ اپنے خاموش دستوں اور پارلیمانی گروپس کے زریعہ بلوچ قوم کو فریب دی رہی ہے انہوں نے کہا کہ اس غیر مہزب دشمن سے اس سے زیادہ ہم توقع نہیں رکھ سکتے کہ وہ ہمیں مارنے اور شہید کرنے کے علاوہ کیا کرسکتا ہے اس کے پاس یہی ایک آپشن ہے کہ بلوچ سرزمین کے غیر قانونی قبضہ سے دستبردار ہو کر نکل جائیں یا پھر جس جنگ کے زریعہ اس نے بلوچ وطن پر قبضہ جمایا ہے اس سے کئی گناہ بلوچ ان پر جنگ مسلط کرکے اسے اپنے سرزمیں سے بے دخل کردے گا انہون نے کہا کہ پارلیمانی جماعتون کی موقع پرستی نے ان کا کردار نمایاں کیا کہ کہ آزادی کے بجائے درجہ چہارم کی ملازمتوں کے لئے بلوچ نوجواں کو راغب کرکے ریاست کا کام آسان کررہے ہیں وہ بلوچ تحریک آزادی کی قطعی مخالف کام کررہے ہیں اور وہ بلوچ قوم پرست پارٹیان نہیں بلکہ ریاستی پارٹیاں ہے جو الیکشن اور ووٹ کے زریعہ ریاستی قبضہ کے لئے جواز پیداکرکے بلوچ تاریخ آزادی اور زمینی حقائق سے غداری کررہے ہیں


