بلوچ ریجن میں چین کی اثر و رسوخ و مداخلت سمیت تحریک آزادی میں خواتین کی کرادر و اہمیت اور تنظیم کو فعال بنانے کے لئے موثر اور جامعہ حکمت علمی ترتیب دینے کے حوالہ سے مختلف ایجنڈے زیر بحث لائے گئے بلوچ گہار موومنٹ اجلاس
3.3.2013
بلوچ گہار موومنٹ کا ایک اہم اجلاس زیر صدارت مرکزی وائس چیئر پرسن زمور آزاد بلوچ منعقد ہوئی اجلاس میں بلوچ قومی سیاسی صورت حال عالمی وعلاقائی سیاست بلوچ ریجن میں چین کی اثر و رسوخ و مداخلت سمیت تحریک آزادی میں خواتین کی کرادر و اہمیت اور تنظیم کو فعال بنانے کے لئے موثر اور جامعہ حکمت علمی ترتیب دینے کے حوالہ سے مختلف ایجنڈے زیر بحث لائے گئے بعد ازا ن نوشکی سے بلوچ گہار موومنٹ میں شامل ہونے والے بلوچ خواتین کو باقائدہ تنظیمی ذمہ داریان سونپی گئی اور نوشکی ھنکین کا قیام عمل میں لاکر چار رکنی آرگنائزنگ کمیٹی تشکیل دے دی گئی جس کے مطابق آرگنائزر بانک سیمک بلوچ جبکہ ڈپٹی آرگنائزر بانک آفرین بلوچ منتخب ہوگئے جبکہ بانک سعدیہ بلوچ اور بانک زینب بلوچ کمیٹی کے ممبر ہوں گے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے تنظیم کے مرکزی وائس چیئر پرسن زمور آزاد اور نوشکی ھنکین کے نو منتخب آرگنائزر بانک سیمک بلوچ نے کہا کہ جہد آزادی میں خواتین کی شمولیت وشرکت ناگزیر ہے قومی کازمیں جس طرح ایک بھائی اور بزرگ اپنی کردار اور ذمہ داریاں ادا کررہا ہے وہاں قطعی طورپر ایک بلوچ بہن کی بھی وہی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ریاستی جبر اورقومی غلامی سے نجات کے لئے اسی پیمانے سے آزادی کے لئے جدوجہد کریں انہوں نے کہاکہ بلوچ خواتین کے قومی وانقلابی عمل میں شرکت نہ صرف تحریک کے لئے طاقت کا سبب بن رہی ہے بلکہ قبضہ گیر کے لئے درد سر اور پریشانی کا باعث بھی ہے آج بلوچ خواتین کی تحریک میں بھر پور شرکت ریاست کے لئے قدم قدم مشکلات پیدا کررہی ہے ہمیں غلامی کے خلاف اپنی صلاحیتوں کو مزید کاآرمد بناکر ذہن سازی اور تنظیمی سازی کو اہمیت و اولیت دینی چاہیے کیونکہ ایک منظم تحریک ایک منتشر ہجوم سے ہزار گناہ زیادہ طاقت ور ہوتاہے انہوں نے کہاکہ یہ ہماری تنظیمی فرائض میں شامل ہے کہ ہمیں قومی مبلغ کا کردار اداکرتے ہوئے شعور و آگائی کے پر چار کو تیز کرکے بلوچ خواتین کوانقلابی تعلیم سے روشناس کراکر انہیں نظریاتی طور پر تیار کریں تاکہ جہد آزادی کے دوران آنے والے مشکلات اور مصائب کا مقابلہ انقلابی نظریات کی زریعہ کیا جائیا نہوں نے کہا کہ عسکری جدوجہد کے ساتھ ساتھ شعور و آگائی کسی بھی تحریک کے لئے ریڈھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں شعورو آگائی کے بغیر کوئی بھی انقلابی تحریک کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوسکتا جہد آزادی ہمیں جان سے گزرنے کا سبق دیتا ہے ہمیں تحریک میں اپنی ذات اور انا کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ہمیں اپنی آپ میں اپنی جان مال اور گھر بار کو قربان کرنے کاجذبہ اور حوصلہ پیدا کرناچاہیے ہمیں مشکلات رکاوٹیں اور مصائب سے نمٹنے کے لئے ذہنی طور پر تیار رہنی چاہیے دنیا کے آزادی کے قومی تحریکوں میں خواتین دستہ اول کے حیثیت سے اپنا کردار ادکرتی رہی ہے ویت نام کیوبا اور کوریا کے آزادی کے تحاریک سمیت موجودہ عالمی آزادی کی تحریکوں میں کردستان اورفلسطین میں آزادی کے لئے سیاسی وعسکری جدوجہد میں خواتین بڑے تعداد میں سرپر کفن باندھنے بر سر پیکار ہے آخر میں انہوں نے گوادر پورٹ کے متعلق کہا کہ چین اخلاقی جرائت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس معائدے سے دست بردار ہوجائے کیونکہ بلوچ سرزمین کے مالک بلوچ قوم ہے جو اپنی آزادی کی جنگ لڑرہی ہے یہ غیر فطری معائدہ ہے جو بلوچ مرضی و منشاء کے برعکس ہے بلوچ قوم اس معائدہ کوبین الاقوامی قوانین کے خلاف ورزی قرار دیتی ہوئے واضح کیا ہے کہ بلوچ مرضی و منشاء کے بغیر بلوچ وحدت سے منسلک کوئی بھی معائدہ قابل قبول نہیں ہوگی


