×

بلوچ سالویشن فرنٹ کی جانب سے بلوچستان کے بعض علاقوں جن میں شال مستونگ مچھ قلات سوراب نوشکی اور خضدارمیں غیر فطری ریاستی الیکشن کے خلاف پمفلٹ تقسیم کئے گئے ہیں جس میں بلوچ قوم کے نام پیغام میں کہا گیا ہے کہ ہم ایک الگ قوم ہے ہماری اپنی الگ تاریخ اور شناخت

بلوچ سالویشن فرنٹ کی جانب سے بلوچستان کے بعض علاقوں جن میں شال مستونگ مچھ قلات سوراب نوشکی اور خضدارمیں غیر فطری ریاستی الیکشن کے خلاف پمفلٹ تقسیم کئے گئے ہیں جس میں بلوچ قوم کے نام پیغام میں کہا گیا ہے کہ ہم ایک الگ قوم ہے ہماری اپنی الگ تاریخ اور شناخت

26.4.2013
بلوچ سالویشن فرنٹ کی جانب سے بلوچستان کے بعض علاقوں جن میں شال مستونگ مچھ قلات سوراب نوشکی اور خضدارمیں غیر فطری ریاستی الیکشن کے خلاف پمفلٹ تقسیم کئے گئے ہیں جس میں بلوچ قوم کے نام پیغام میں کہا گیا ہے کہ ہم ایک الگ قوم ہے ہماری اپنی الگ تاریخ اور شناخت ہے 1948کے جبری قبضہ سے قبل بلوچستان کی اپنی آزاد حیثیت تھی جب کہ 27 مارچ1948کو بلوچ وطن پر غیر فطری پاکستانی ریاست نے فوجی حملہ کی صورت میں قبضہ کیا جب کہ قلات سٹیٹ کے دو پارلیمانی ایوان جن میں بلوچ قوم کے تمام طبقوں کے نمائندگی کرنے والے اراکین پارلیمان موجو د تھے انہوں نے واضح اورکھلے الفاظ میں الحاق کی شرط کی مخالفت کرتے ہوئے اسے ایشیا میں تین کروڑ بلوچوں کی غلامی سے تعبیر کیاجب کہ قابض ریاست نے بلوچ ریاست کے دو نوں ہاؤسز کی اس دوٹوک موقف کے برعکس مجرمانہ جارحیت کے زریعہ بلوچ وطن پر قبضہ کرکے بلوچستان کو جبری طور پر الحاق کیا جب کہ اس الحاق کے شروع ہی دن سے بلوچ قوم نے نہ صرف مخالفت کی بلکہ جدوجہد کے تمام ذرائع استعمال کرکے اس غیر قانونی قبضہ کے خلاف سیاسی وعملی جدوجہد کے زریعہ آزاد بلوچستان کے مطالبہ کو اپنی جدوجہد کا محور و مقصد بنایا بلوچ جدوجہد آذادی کی تاریخ کی تختی پر ایسے کئی سپوتوں کے نام موجو د ہے جو تاریخ میں امر ہوگئے نہ کہ زمانہ کی دھول سے ان کی قبریں ہموار ہوں گے نہ ان کی شاندار تاریخ کو حذف کیا جاسکتا ہے ہزاروں خود غرض انسانوں سے ان کا کردار ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اس لئے منفرد رہیگا کہ انہوں نے عظیم مقصد آزادی کے لئے قربانی کی شاہراہ پر چلتے ہوئے اپنی جان سے گزرکر اپنی زات اور انا کو بالاطاق رکھتے ہوئے اپنی آذادی کے دفاع پر اپنی موت کو ترجیح دی ۔بلوچ سپوتوں کے بے لوث جدوجہد نے قبضہ گیر ریاست کو نفسیاتی عارضہ میں مبتلاء کردیاہے اسلئے وہ اس قبضہ کو چھپانے اور تحریک آزادی کو سبوتاژ کرنے کے لئے بلوچ سماج سے گنے چنے باجگزار پیدا کرکے اپنے شریک کار بناکر ان ہی کے زریعہ شروع ہی سے آلودگی پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے جن میں بلوچ پارلیمانی جماعتیں سر فہرست ہے ان ہی کے زریعہ بلوچ قومی مسئلہ کے حوالہ سے تضادات کنفیوژن اور ابہام پھیلایا جارہا ہے یہی لوگ ہے جن کے آئین ومنشور پاکستانی فریم ورک کے گرد گھومتے ہیں جنہوں نے بلوچستان کی الگ ملکی حیثیت کے بجائے اسے پاکستان کا ایک اکائی اور صوبہ قرار دیکرزمینی حقائق کے برعکس شرمناک حد تک دروغ بیانی کرکے پاکستانی سیاست کو فروغ دیکر نہ صرف قابض کی براہ راست ترجمانی کررہے ہیں بلکہ بلوچ قوم کا نظریاتی استحصال کرکے بلوچ قوم کو دھوکہ دے رہے ہیں اب تو اس کنفیوژن کی انتہا ہوگئی ہے کہ بلوچ جدوجہد آزادی کو وہ بلوچ قوم کی ناراضگی قرار دے کرشعوری طورپر بلوچ تحریک آزادی کے سامنے کھڑے ہیں اور ان کے انتخابی محفلوں اور پریس بیانات میں بار بار وہی گھسی پھٹی موقف کو دہرائی جارہی ہے جس میں بلوچ قوم کی محرومی صوبائی خود مختیاری ، ناراضگی اوربیروزگاری جیسے تیسرے درجہ کے بلوچ دشمن موقف واضح نظر آتی ہے حالانکہ بلوچ قومی مسئلہ نہ چند انکریمنٹس ہے کا نام ہے نہ کوئی مطالبہ ہے نہ کسی نوکری کا مسئلہ ہے نہ کوئی رائلٹی مانگنا ہے نہ نام نہاد ترقی و تعلیم ہے بلکہ اصل مسئلہ اور مرض غلامی ہے جس سے نجات آزادی کی جدوجہد کی میں مضمر ہے ریاست اور ان کے زرخرید پالیمانی جماعتیں ہر چند کے بلوچ مسئلہ کے حوالہ سے جو مجرمانہ دروغ بیانی کرکے بلوچ قوم کو بہکانے اور ورغلانے کی کوشش کررہے ہیں اور بلوچ مسئلہ کوپنجابی سیاست کے مینار نام نہاد پارلیمنٹ میں حل کرنے کی جو ڈھونگ رچاتے ہیں اور جمہوری سیاست کی بات کرکے بلوچ قومی آزادی پر سمجھوتہ کرکے بلوچ وطن کا سودا لگاکر یہ تکیہ کلام اختیار کئے ہوئے ہیں کہ ہم جمہوری طریقہ سے اپنا حق لیں گے یا پھر یہ کہتے ہیں یہاں جمہوریت ہے ہمیں ووٹ دیکر اسمبلیوں میں بھیجوہم تمہاری حقوق کی جنگ لڑیں گے ریاست کے کشتی میں سواران لوگوں میں سے آج تک جس نے بھی پاکستانی پارلیمنٹ میں گیا غلامی کی زنجیریوں کی کڑیوں میں ایک اور اضافہ ہوا ۔جبکہ قابض نے بلوچ وطن کی دو جمہوری ایوانوں کے فیصلہ کے برعکس بلوچ وطن پر قبضہ کیاپھریہ کیسی جمہوریت ہے کہ یہ لوگ کہہ رہے ہیں کیا وہ یہ بھول چھکے کہ یہی ریاست دو بلوچ پارلیمانی ہاؤسز کی جمہوریت پر شب خوں ماراجب کہ قابض کے پاس نہ کوئی جمہوریت ہوتا ہے نہ کوئی انسانی فکر جب وہ کسی کے وطن پر قبضہ کرتا ہے تو اس عمل کو نہ جمہوری کہا جاسکتا ہے نہ مہذب اس کی مہذب حدیں وہاں ختم ہوجاتی ہے جب وہ کسی قوم کے وطن پر قبضہ کرلیتا ہے اس کے وسائل لوٹتا ہے ان کی ادب سیاست زبان سائنس تاریخ کلچرعلم تجارت اور ترقی کو تباہ کردیتا ہے اور اسے محض غلامی کا ایک وحشیانہ نظام دیتا ہے اس کی آزادی کی سوچ اور احسا س کو ختم کردیتا ہے دنیا کی تاریخ میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی کہ قابض کہ پارلیمنٹ اور جمہوریت مقبوضہ قوم کے لئے مسیحائی کردا ادا کریں بلکہ ان کی فطرت اور خمیرمیں ایسے کوئی انسانی وصف سرے سے موجود ہی نہیں ہوتا ہاں اگر یہ پارلیمنٹ کسی کو کچھ دیتاہے تو ان باجگزار ون کی مراعات سے نواز تاہے جو اس پارلیمنٹ میں ہمارے آزادی انسانی حقوق نسلوں اور مسقبل کا سودا کرتے ہیںیہ پارلیمنٹ نہیں لاٹ کی بھگی ہے جس میں بلوچ قوم کی عزت و ناموس کاسودا کیا جاتا ہے اسی پارلیمنٹ کے پالیسیوں کے زریعہ بلوچ قوم کی نسل کشی کی جارہی ہے اس کی تاریخ ہے کہ وہ مقبوضہ قوم سے ان کی بنیادی انسانی حقوق اور فطری ترقی بھی چھین لیتا ہے آج تک جتنے بھی پارلیمانی پارٹیاں جو اس میں حصہ دار ہے ان کی آئین و منشور میں صوبائی خود مختیاری سے بڑھ کر غلطی سے آزادی کا لفظ جگہ نہیں بنا سکا اگر قبضہ گیر کی پارلیمنٹ سے کچھ ملتا تو گاندھی جیسے سیاسی لیڈر پبلک سیفٹی جیسے استحصالی بل کو منظور ہونے اورہندوستانیوں پر گوروں کی تششد کو روک سکتا تھا ۔بلوچ سالویشن فرنٹ کی جانب سے تقسیم کئے گئے اس دستی پمفلٹ میں بلوچ قوم سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ غیر ملکی ریاستی الیکشن کا ئیکاٹ کرکے ووٹ کاسٹ نہ کریں اور پاکستانی بیلٹ پیپروں کو خالی واپس کرکے دنیا کو بتادے کہ ہم نہ پاکستانی ہے اور نہ ہی اس کے غیر فطری الیکشن اور نہ ہی نام نہاد فراڈ جمہوریت کو قبول کرتے ہیں الیکشن میں حصہ لینا اور ووٹ کاسٹنگ کا حصہ بننا آزاد بلوچستان کے راہ میں قربانی دینے والے شہداء کے لہو اور مقصد سے غداری ہے بلوچ قوم اپنے شہداء کے لہو کے پاس رکھتے ہوئے ووٹ نہ ڈالیں ان کی یہ معمولی قربانی بلوچ جہد آزادی کے لئے قوت اور طاقت ثابت ہوگی۔

Previous post

شہید آغا محمود خان احمد زئی کا کردار تحریک آزادی میں ہمیشہ دہرائی جا ئے گی جسے پچھلے سال اسی دن ہماری فکری سرکل سے جسمانی طور پر جدا کیاگیا اگر چہ ان کی جسمانی جدائی کی خلاء کو پر کرنے کے لئے کئی سال لگ سگتے ہیں لیکن نہ تو ان کی شہادت بانجھ ہے نہ تو ان ک

Next post

ریاست پارلیمانی سیاست کو بلوچ جہد آزادی کے خلاف ایک اہم ٹول کے طور پر استعمال کرتا آرہاہے بلوچ سالویشن فرنٹ