بلوچ سالویشن فرنٹ کے اپیل پر شہدائے بلوچستان کے نسبت سے 13نومبر کے شٹر ڈاؤن ہڑتال کو کامیاب بناکر راج دوستی کا ثبوت دیتے ہوئے شہدائے بلوچستان کے دن کو عقیدت و احترام کے ساتھ مناکر آذادی کے شہیدوں کو بھر پور انداز میں خراج عقیدت پیش کریں بلوچ گہار موومنٹ
7.11.2013
بلوچ گہار موومنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے ایک اخباری بیان میں بلوچ عوام سے اپیل کی ہے کہ بلوچ سالویشن فرنٹ کے اپیل پر یو م شہدائے بلوچستان کے نسبت سے 13نومبر کے شٹر ڈاؤن ہڑتال کو کامیاب بناکر راج دوستی اوروطن دوستی کا ثبوت دیکر شہدائے بلوچستان کے دن کو عقیدت و احترام کے ساتھ مناکر آذادی کے شہیدوں کو بھر پور انداز میں خراج عقیدت پیش کریں جنہون نے وطن کی آذادی اور بلوچ وت واجہی کے لئے اپنی زندگیوں کو داؤپر لگاکر قربانی کی اعلی مثال قائم کرکے شہادت کی قابل رشک منزل کو چھولیا ترجمان نے کہا کہ 13 نومبر ہمارے لئے تجدید عہد کا دن ہے کہ ہم شہداء کے روشن کئے ہوئے مشعلوں کی روشنی کو کسی بھی صورت مدہم نہیں ہونے دیں گے بلوچستان کی آذادی ہی شہداء کی جدوجہد کی اصل منزل اور مقصد ہے اوراسی مقصد کے حصول کے لئے آزادی کی قربان گاہ پر ہزاروں بلوچ فرزندوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کرغلامی کے خلاف جدوجہد کی اور ہزاروں بلوچ غیرت مند فرزند ریاستی اداروں کے حراست میں ہیں انہیں لاپتہ کرنے کی محرکات اور ریاستی مزموم مقاصد بھی یہی ہے کہ ایک طرف ان فرزندوں کی آذادی کی جدوجہد سے نظریاتی وابسطگی کو ختم کیا جائے اور دوسرے طرف ’’تلاش کرو اور مارو‘‘پالیسی کے تحت آزادی کے حلقوں میں خوف کا ماحول پیداکرکے بلوچ عوام کے حوصلوں کو کمزور کیا جائے لیکن آزادی کی تحریک سے جڑے بلوچ فرزند جدوجہد سے دستبرداری کے ریاستی مطالبہ کو ٹھوکر مارکر اپنے زندگیوں کو آزادی کے نذر کرکے شہادت قبول کی آج بھی قبضہ گیر بلوچ تحریک آزادی کا راستہ روکنے کے لئے اپنی مجرمانہ کوششوں کے ساتھ تحریک کے خلاف کریک ڈاؤن کرکے بلوچ قومی آزادی کی مسلمہ حیثیت کو جھٹلانے کی بھر پور کوشش کی جارہی ہے اور ریاستی مکروہ کوششوں میں کٹھ پتلی حکومت بھی شامل ہے جو بلوچ آزادی کی تاریخی حقیقت سے انکاری ہوکر شاہ سے زیادہ شاہ کی وفادادی میں مصروف ہیں اور بلوچ تحریک آزادی کے خلاف ریاستی دہشت گردی پر پردہ ڈالنے کے لئے بلوچ آزادی کی تحریک کو امن و امان کے مسئلہ سے منسوب کرکے دروغ گوئی کررہی ہے مقبوضہ ریاستوں کی تاریخ ہے کہ کٹھ پتلی حکومتیں قابض کی کاسہ گدائی کے علاوہ اور کچھ نہیں کرسکتے وہ صرف قابض کی قبضہ کی دورانیہ کو بڑھانے اور قوم کو غلام بنانے کے گھناؤنے عمل میں ریاستی دہشت گردی کو جمہوریت اور نام نہادنظریات کے نام پرتحفظ دینے کی کوشش کرتے ہیں


