بلوچ عوام بلوچ گہار موومنٹ کے زیر اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے ہونے والے مظاہرہ میں اپنی بھرپور شرکت یقینی بناکرتوتک اجتماعی قبروں دریافت و بر آمدگی ا ور بلوچستان میں انسانی حقوق کی پائمالیوں کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرائیں۔ بلوچ سالویشن فرنٹ
31.1.2013
بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے بلوچ اور بلوچستان کے دیگر وطن دوست و قوم دوست اقوام سمیت تمام بلوچ تنظیموں اور پارٹیوں سے درخواست کی ہے کہ مقبوضہ بلوچستان توتک کے علاقہ میں بلوچ لاپتہ افراد کی اجتماعی قبروں کی برآمدگی کے خلاف بلوچ آزادی پسند خواتین کی تنظیم بلوچ گہار موومنٹ کے زیر اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے ہونے والے مظاہرہ میں اپنی بھرپور شرکت کو یقینی بناکرتوتک اجتماعی قبروں کی دریافت و بر آمدگی ا ور بلوچستان میں انسانی حقوق کی سنگین نوعیت کی پائمالیوں کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرائیںیاد رہے کہ بلوچ گہار موومنٹ کے زیر اہتمام مظاہرہ یکم فروری سہ پہر تین بجے ہوگا ترجمان نے کہاکہ ریاست مارو اور پھینکوکے بعد اب دوسرے مرحلے میں مارو اور دفن کرو کے پالیسیوں کے تحت بلوچ فرزندوں کو شہید کرکے انہیں گمنام اجتماعی قبروں میں بے گور کفن مٹی کے ملبے تلے دفن کررہاہے توتک میں اجتماعی قبروں کی دریافت انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالہ سے بہت بڑا واقعہ ہے لیکن جنگی جرائم پر مبنی اس واقعہ کے خلاف اقوام متحدہ سمیت عالمی میڈیا اور اور انسانی حقوق کے دعوی کرنے والے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں بلوچستان مین انسانی حقوق کے خلاف ورزیان معمولی کا حصہ ہے روزانہ کے بنیاد پر اس پیمانے کے درجنوں اندوہناک واقعات رونما ہورہی ہے لیکن ریاستی دہشت گردی اور انسانی حقوق کے پائمالیوں کانوٹس لینے کے بجائے ایسے واقعات کو مسلسل نظر اندا ز کیا جارہا ہے بلوچستان میں انسانی زندگیوں کے ساتھ کھیلنے اور بڑے انسانی بحران پیدا کرنے کے لئے ریاست بلوچ قوم کی نسل کشی کا سلسلہ تیز کرکے اپنی ملٹری مائیٹ کا بے تحاشا استعمال کررہی ہے جنگ زدہ بلوچستان میں اب تک کئی ہزار بلوچوں کو اغواء کیا گیا ہے اور کئی کو شہید کیا گیا ہے ہزاروں ماؤں کے لخت جگر چھین لئے گئے ہزاروں خاندانو ں سے ان کا سایہ چھین لی گیا ہے اور اب بھی ریاستی کاروائیاں اسی شدت کے ساتھ بلوچستان کے کونے کونے میں جاری ہیں کوئی بھی علاقہ اور گھر ریاستی دہشت گردی سے محفوظ نہیں ترجمان نے کہاہے کہ ریاستی قبضہ کے نتیجہ میں وقوع پزیر ہونے والے واقعات اور اب اجتماعی قبروں کی عظیم انسانی سانحہ پر اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے مکمل سکوت اور دوہرے معیارپر بلوچ قوم کو نہ صرف تشویش لاحق ہے بلکہ انسانی حقوق کے علمبردار تنظیموں سے بلوچ قوم کا اعتبار اٹھ گیا ہے اقوام متحدہ کے اس دوہرے معیارسے لگتاہے انسانی حقوق کی بات محض ڈھکوسلہ اور نمائشی ہے


