×

بلوچ عوام کا ریاستی الیکشن سے بائیکاٹ اور آزادی کے حق میں زبردست پیش قدمی تاریخی ریفرنڈم کی حیثیت رکھتی ہے قبضہ گیر بندوق کی نوک پر الیکشن کے لئے رائے عامہ اور بیساکھی بنانے کی کوشش کی اور 11 مئی کے دن بھی بلوچ شہری آبادیوں کو اپنی جارحیت کا نشانہ بناکر ب

بلوچ عوام کا ریاستی الیکشن سے بائیکاٹ اور آزادی کے حق میں زبردست پیش قدمی تاریخی ریفرنڈم کی حیثیت رکھتی ہے قبضہ گیر بندوق کی نوک پر الیکشن کے لئے رائے عامہ اور بیساکھی بنانے کی کوشش کی اور 11 مئی کے دن بھی بلوچ شہری آبادیوں کو اپنی جارحیت کا نشانہ بناکر ب

12.5.2013
بلوچ سالویشن فرنٹ نے اپنے جاری کردہ مرکزی ترجمان میں کہا ہے کہ بلوچ عوام کا ریاستی الیکشن سے بائیکاٹ اور آزادی کے حق میں زبردست پیش قدمی تاریخی ریفرنڈم کی حیثیت رکھتی ہے قبضہ گیر بندوق کی نوک پر الیکشن کے لئے رائے عامہ اور بیساکھی بنانے کی کوشش کی اور 11 مئی کے دن بھی بلوچ شہری آبادیوں کو اپنی جارحیت کا نشانہ بناکر بلجبر ووٹ کاسٹ کروانے کی کوشش کی لیکن بلوچ عوام آزادی کے صفوں میں کھڑے ہوکرشاندار جرائت کے ساتھ ریاستی الیکشن کو مسترد کرکے اپنے گھروں سے نہیں نکلے بلوچ عوام کی جانب سے تاریخی عوامی ریفرنڈم نے پارلیمانی گماشتوں اور قبضہ گیر ریاست کو حیران کن شکست سے دوچارکران کے رونگھٹے کھڑے کردیئے مقبوضہ بلوچستان میں ووٹنگ کاتناسب5فیصد بھی نہ رہا اس ٹرن آؤٹ سے ثابت ہوتا ہے کہ بلوچ عوام آزادی سے کم کسی بھی مطالبہ کو دوٹوک مسترد کرچکے ہیں ترجمان نے کہا کہ ہم نے پہلے بھی کہا تھا کہ مٹھی بھر پارلیمانی جماعتوں کہ پشت پر ریاستی طاقت اور سوچ موجود ہے انہیں بلوچ عوام کی قطعاحمایت حاصل نہیں عوامی فیصلہ نے ثابت کردیا کہ بلوچ وطن میں پارلیمانی پارٹیوں کی حیثیت ریاستی گماشتوں کی سوا کچھ نہیں ویران پولنگ سٹیشنزاور اکثر علاقوں میں پولنگ کا نہ ہونا ریاست کے منہ پرزور دار طمانچہ ہے کہ اس سے قبل قبضہ گیر کی جانب سے یہ کہا گیا تھا کہ دواضلاع کے علاوہ باقی بلوچستان میں الیکشن کے لئے حالات سازگار ہے لیکن بلوچ عوام کی تاریخی فیصلہ اور الیکشن میں عدم شرکت نے ریاست کے اس بے بنیاد دعوی کو بے نقاب کردیا کہ یہ کسی قبیلہ یا کسی سردار نواب کی کی جنگ نہیں بلکہ یہ ایک مکمل قومی جنگ ہے جو آزادی کی مطالبہ پر مبنی ہے ترجمان نے کہاکہ بلوچ عوام نے آزادی مخالفوں کے خلاف فیصلہ دے دیا ہے جو ہمارے لئے فتح کے دن سے کم نہیں گوکہ ابھی تک ہم آزادی کے منزل پر نہیں پہنچے لیکن یہ ہمارے لئے بہت بڑا اعزاز ہے کہ بلوچ عوام نے آزادی کی مقام پر پڑاؤ کے لئے گرمجوشی اور ولولے کے ساتھ آگے بڑھ چکے ہیں اور یہ کریڈٹ کسی ایک پارٹی یا تنظیم کو نہیں جاتی بلکہ بلوچ سماج میں اس انقلابی تبدیلی میں بلوچ شہداء سمیت تمام آزادی پسندعسکری اور سیاسی تنظیموں پارٹیو ں اور جہدکاروں انقلابی کارکنوں علاقائی و بین الاقومی سطح پرحقیقی بلوچ قوم دوست رہنماؤں دانشوروں لکھاریوں اور بلوچ ماؤں بہنوں کا تاریخی کردار شامل ہے جو قومی آزادی کی جدوجہد میں اپنے غیر معمولی قربانیوں اور بے لوث عمل سے بلوچ عوام کو جدوجہد کے راستہ پر لاکھڑا کرکے کروڑوں بلوچوں کوتحریک جرائت ولولے اور تنظیم سے روشناس کردیا ہے اور سب سے بڑھ کرتحریک آزادی نے بلوچ عوام کا اعتماد اور ولولے مضبوط کرچکاہے جس سے بلوچ سماج میں آزادی کا ایک گہرا سوچ پروان پاچکاہے اور یہ صورتحال ریاستی قبضہ میں دراڑیں ڈھال کرریاستی قبضہ کے لئے تابوت تیار کرچکاہے اب دنیا کی کوئی طاقت بلوچ قوم کی حقیقی منزل ابھرتے ہوئے آزاد بلوچستان کو اپنے ناپاک ارادوں اور سازشوں سے نہیں روک سکتا بے پناہ تشدد اور ریاستی دہشت گردی کے بعد بھی بلوچ عوام کے پاؤں اکھڑنے کے بجائے آزادی کے مطالبہ پر جم چکے ہیں جب کہ حالیہ عوامی ردعمل نے پارلیمانی جماعتوں کو بھی شدید اعصابی تناؤ سے دوچار کریا ہے وہ جان چکے ہیں کہ بلوچ عوام نہ صرف انہیں مسترد کرچکے ہیں بلکہ مقداری اور معیاری حوالہ سے آزادی کی تحریک کو بھرپور انداز میں سپورٹ کررہے ہیں ترجمان نے کہا کہ عالمی زرائع ابلاغ نے بھی اس بات کا اعتراف کرلیا ہے کہ بلوچ آبادی والے علاقوں میں ووٹنگ کا عمل نہ ہونے کے برابر ہے جب کہ پاکستانی الیکٹرانک میڈیا حقائق کو چھپانے کی بھر پورکوشش کرکے اپنی روایتی اورجانبدارانہ کردار کا بھر پور مظاہرہ کیا جو نہ صرف قابل مذمت ہے بلکہ صحافت جیسے مقدس پیشہ کے سینے میں خنجر گھونپنے کی مترادف ہے حالانکہ ریاستی الیکٹرانک میڈیا کوئی ایسا فوٹیج دکھانے میں بھی نا کام رہے کہ جس میں بلوچ آبادی والے علاقوں میں ووٹنگ کا کوئی جوش خروش تھا شال کوئٹہ کے پشتون آبادی والے علاقوں کی پولنگز کافوٹیج دکھا کر عالمی دنیا کو باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ بلوچستان میں ووٹنگ کا عمل معمول کے مطابق جاری ہے جوزمینی حقا ئق کی بلکل برعکس اور حقائق کی منافی ہے جب کہ پرنٹ میڈیا نے ریاستی دباؤ کے باوجود اپنا غیر جانبدارکردار اداکرکے اپنی صحافتی زمہ داریاں احسن طریقہ سے ادا کرکے الیکشن بائیکاٹ کے سلسلے میں آزادی کے لئے جدوجہد کرنے والے جماعتوں کی بیانات کی صحیح کوریج کی ترجمان نے کہا کہ فیصلہ کن عوامی ریفرنڈم اقوام متحدہ اور عالمی اداروں کے آنکھیں کھولنے کے کافی ہے کہ بلوچ عوام نے اکی لیکشن بائیکاٹ کی صورت میں ریاستی قبضہ اور جبری الحاق کے خلاف اپنا فیصلہ دے چکائے اقوام متحدہ بلوچستان کی مقبوضہ حیثیت کو سامنے رکھتے ہوئے بلوچ وطن کو جنگ زدہ علاقہ قرار دے کر آزاد بلوچ ریاست کو تسلیم کریں اور تمام انسان دوست ممالک بلوچ قومی آزادی کی جدوجہد کے ساتھ اخلاقی اور سفارتی تعاون کا سلسلہ جاری رکھ کر بلو چ قوم کی دفاع اور آزادی کی جدوجہد کی حمایت کریں

Previous post

بی ایس ایف نے 28 مئی کو بطور یوم سیاہ منانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ دن بلوچ قوم کے لئے سیاہ دن کی حیثیت رکھتے ہیں بلوچ قوم اسے یوم آسروخ کے طور پر مناکر قبضہ گیر کے خلاف بھر پور نفرت کا اظہار کرے بلوچ سالویشن فرنٹ

Next post

نیو کاہان مری کیمپ پر ریاستی فورسزکا دھاوا ریاستی دہشت گردی کا تسلسل ہے بلوچ قوم کو غلامی کے شدت احساس نے میدان جنگ میں کھڑا کردیا ہے بلوچ سالویشن فرنٹ