بلوچ قومی آزادی کا حصول نیشنلزم میں مضمر ہے دنیا کے تمام مظلوم اور مقبوضہ اقوام اپنی دفاع اور جدوجہد کے لئے نیشنلزم کی بنیاد پر لڑی ہے میر قادر بلوچ
3.1.2014
بلوچ وطن موومنٹ کے سربراہ اور بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی سیکریٹری جنرل میر قادر بلوچ نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہاہے کہ بلوچ قومی آزادی کا حصول نیشنلزم
میں مضمر ہے دنیا کے تمام مظلوم اور مقبوضہ اقوام اپنی دفاع اور جدوجہد کے لئے نیشنلزم کی بنیاد پر لڑی ہے قومون کی پہچان شناخت اور دفاع کے لئے واحد راستہ قوم دوستی کا فلسفہ ہے بلوچ قوم بنیادی طور پر ایک قبائلی نظام سے منسلک رہاہے جو خالصتا بلوچ ازم سے مربوط ہے جو آج کے سیکولر نظام حکومت سے قطعا کم نہیں گوکہ آج بلوچ قبائلیت میں فرسودگیاں آئی ہیں انگریز اور پاکستانی قبضہ کے بعد بلوچ قبائلی نظام کو ایک دہشت کے علامت کے طور پر پیش کرکے اسے ریاست کے لے بطورسٹپنی استعمال کیا گیا اور ایک طرف اس کے خلاف ریاستی سطح پر پروپیگنڈہ اور دوسری طرف سردارون کو مراعات اورقوت دے کر انہیں بلوچ قوم آزادی کے خلاف ریاستی پاکٹ کے طور پر استعمال کیا جارہاہے اور ان ہی کے زریعہ بلوچ قوم کو غلام بنایا جارہاہے ریاست اور ان کے زرخرید قوت آج بلوچ ازم کے خلاف پروپیگنڈہ کررہے ہیں کہ بلوچ لسانی اور نسلی بنیادوں پر ایک تفریق پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن اس کے پیچھے وہ سوچہے جو ریاست اپنے مفادات اور حاکمیت برقرار رکھنے کے لے مختلف بنیادوں پر بلوچ قومی آزادی کے خلاف محاذکھول کرڈس انفار میشن پھیلا رہی ہیں جب کہ پاکستان ایک قوم نہیں بلکہ مختلف اقوام کا قید خانہ ہے لیکن آج اصل حقائق کو مٹاکر بلوچ جدوجہد کو غلط رنگ دینے کی کوشش کیاجارہاہیے اور اسلام کو جواز بناکر یہ بات کیا جارہاہے کہ ہم سب مسلمان ہیں گوکہ ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے جب ہم اسلام کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں اس میں کہیں اسلامی ریاست کا ذکر نہیں ملتا آج بھی دنیا کے کئی مسلمان ممالک ہیں لیکن وہ قومی پہچان و شناخت کے ساتھ دنیا کے نقشہ پر موجود ہیں بیان میں کہا گیا ہے کہ اسلام ایک مذہب ہے جو ایک آفاقی نظریہ ہے اسے ایک خطہ یا وحدت میں قید نہیں کیا جاسکتاجبکہ نوآبادیا تی سوچ کے تحت اسلام اور قوم کو آپس میں گڈ مڈ کرکے ایک غیر فطری اور زمینی حقائق کے برعکس اصطلاح کو جواز بناکر قوموں کی آزادی سلب کرکے لاکھوں انسانوں کو خاک و خون میں تڑپا جارہاہے آج بلوچ جو جدوجہد کررہے ہیں اس میں نہ کوئی بین الاقوامی سازش ہے اور نہ ہی کوئی مذہبی عمل و دخل ہے بلکہ قومی تضادات کی بنیاد پر بلوچ قوم اپنی دفاع کی جدوجہد کررہے ہیں بلوچ ہزاروں سے مسلمان ہیں اور ہم بحیثیت مسلمان اپنے مسلم ہونے پر فخر کرتے ہیں اسلام ہماری خوں میں رچی بسی ہیں بلوچ قوم کی تاریخ رہی ہے کہ وہ ہر سچائی پر لبیک کہاہے لیکن کھبی بھی کسی منفی خیال کو قبول نہیں کہا کہ انہوں نے کہاکہ نوآبادیاتی سوچ کے تحت کسی بھی نظریہ و جدوجہد کی ہمیشہ غلط اور بے بنیاد تشریح کیا جاتا ہے جس طرح کے آج سیکولرزم کو مذہب سے متصادم قرار دیکردانستہ اس کے معنی و مفہوم بگاڑ دہیے ہیں حالانکہ سیکولرزم محض ایک سیاسی نظام حکومت ہے اسے مذہب کے مخالف لاناقطعا صحیح نہیں جب کہ دنیا کے بہت سے ممالک اپنے ریاستی امور کوسیکولرزم کی بنیادوں پر چلارہے ہیں لیکن کہیں بھی ایسی مثال نہیں کہ سیکولرزم کسی کی مذہبی تصورات و عقائد پر قدغن بنی انڈیا اس کی سب سے بڑی مثال ہے جہاں ہندو مسلم سکھ عیسائی بدھ مت اور دیگر مزاہب اپنے مزہبی امور بلا کسی روک ٹھوک کے چلارہے ہیں انہوں نے کہا کہ بلوچ ایک ایسی سیکولر ریاست کا خواہاں ہیں جو بلوچ ازم کی خطوط پر استوار ہو کیونکہ بلوچ ازم بلوچ معاشرہ کی ایک مکمل اور جامعہ تعریف ہے جوہماری مزہبی عقائد ریاستی امور اخلاقی اصول سماجی سیاسی و ثقافتی اقدار اور انصاف کے اعلی اصولوں کے عکس ہے


