بلوچ قومی راہشوں شہید رحمت جان اور شہدائے مرگ آپ اور تحریک آزادی کے روح روان شہید غلام محمد بلوچ شہید لالا منیر شہید شیر محمد بلوچ کو خراج تحسین شہداء کی لازوال جدوجہد اور غیر معمولی قربانیاں ہمارے لئے مشعل راہ ہے بلوچ سالویشن فرنٹ
1.4.2014
بلوچ وطن موومنٹ بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ اور بلوچ گہار موومنٹ پر مشتمل اتحاد بلوچ سالویشن فرنٹ کے ترجمان نے بلوچ قومی راہشوں شہید رحمت جان اور شہدائے مرگ آپ اور تحریک آزادی کے روح روان شہید غلام محمد بلوچ شہید لالا منیر شہید شیر محمد بلوچ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہداء کی لازوال جدوجہد اور غیر معمولی قربانیاں ہمارے لئے مشعل راہ ہے آزادی کے لئے ان کی کوششیں شہادت جانفشانی بے لوث اور صبر آزما جدوجہداور جانی مالی قربانیاں رائیگاں نہیں جائے گی ترجمان نے کہاکہ شہدانے قومی آزادی کو نصب العین بناکر جدوجہد کے بنیادوں کو اپنے خوں سے ایندھن دیکر نہ صرف زندہ و تابند رکھابلکہ بلوچستان کی کاز آزادی کو عالمی برادری کے توجہ کا مرکز بنا یاہمیں شہدا ئے آجوئی کے ادھورے مشن اور ارمانوں کے پایہ تکمیل کے لئے آزادی کے جذبوں اور ولولوں کے ساتھ ہمہ وقت قربانی کے لئے تیار رہنا چاہیے ترجمان نے کہاکہ بلو چ شہداء کی قربانیوں کا تقاضا ہے کہ ہم شہداء کے کاز کو مضبوط کرکے بلوچ قوم کے ایک ایک فرد کوتحریک آزادی سے مر بوط کرے اور ان کے جدوجہد کی روشنی میںآگے بڑھ کر ریاست کے قبضہ اور تسلط سے بلوچ وطن کو آزاد کرین دنیا میں انسان کی جان سب سے زیادہ قیمتی ہے لیکن آزادی کی جدوجہد کا شعور آزادی کو جان سے بھی زیادہ قیمتی کرتا ہے کیونکہ غلام قوم کی کوئی زندگی اور حیثیت نہیں ہوتی پہچان اور شناخت آزاد قوموں کے ہوتی ہے ترجمان نے کہاکہ بلوچستان کی آزادی میں سب سے بڑی رکاوٹ قبضہ گیر اور اس کی غیر حقیقت پسندانہ رویہ ہے جو بلوچستان پر بلجبر تسلط قائم کرکے بلوچستان کو اپنا اٹوٹ انگ سمجھ کر بلوچ تحریک آزادی کو کچلنے کے لئے بے پناہ وسائل اور طاقت استعمال کررہی ہے اورہزاروں سال سے وجود رکھتے ہوئے الگ آزاد بلوچ ریاست پر جبر ا قبضہ کرکے تمام تر بین الاقوامی قوانیں معائدوں اور دستاویزات کی خلاف ورزی کرکے دنیا کے آنکھوں میں دھول جھونک کر مختلف قوتوں کے کاسہ لیسی کے عوض ملنے والی مالی و فوجی امداد سے بلوچستان کو آگ خون میں ڈبوکر ایک طویل غلامی کی آسیب میں بلوچ قومی وسائل کی لوٹ مار کا سلسلہ جاری رکھ کر بلوچ قوم کی معاشی تعلیمی ثقافتی اور سیاسی استحصال کررہاہے ترجمان نے کہاکہ توتک میں اجتماعی قبروں کی دریافت ریاست کی ظالمانہ کاروائیوں کا اولین معاملہ نہیں اس سے قبل بھی توتک میں تین اجتماعی قبرون سے ڈیڈھ سو سے زائد مغوی بلوچوں کی مسخ لاشیں ملی اور خدشہ ہے کہ ہزاروں بلوچ جنہیں ریاست نے حراست میں لے کر اسی طرح شہید کرکے اجتماعی قبروں میں دفنا دیئے اور یہ واقعات ریاست کے دہشت گردانہ کاروائیوں کا معمولی حصہ ہے جو بے نقاب ہوائے جبکہ بلو چ قوم اولین دن سے یہی موقف اختیار کیا ہواہے کہ قبضہ گیر بلوچستان میں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم اور بلوچ عوام کے منظم قتل عام میں ملوث ہے جبکہ ریاستی عدالتیں بلوچ عوام سے ہمدردی کی نسبت سے نہیں بلکہ ایک طرح سے عالمی دنیا کو تسلی اور باور کرانے کی بہیمانہ او ر جھوٹی پالیسیوں کے زریعہ یہ دکھانے کی کوشش کررہے کہ وہ بلوچستان میں غیر جانبدارانہ کردار کے ساتھ ریاستی جارحیت کا نوٹس لے رہاہے لیکن عدالتیں محض لوگوں کی اشتعال اور جذبات کو سرد کرنے اور بلوچ عوام کی سائیکی سے کھیل کر ریاستی جرائم پر پردہ ڈال رہے ہیں جب تک ریاستی جنگی جرائم کے خلاف عالمی سطح کا انٹرنیشنل کریمنل ٹریبونل نہیں چلایا جاتااور ایک بھر پور مہم کے زریعہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے ساتھ انسان دشمن ریاستی قوتوں کو سزاء نہیں سنائی جائے گی تب تک بلوچ عوام ریاستی عدالتوں کو فریق عدالتیں خیال کرکے ان کی کردار کو مشکوک اور ناقابل اعتبار سمجھتی ہے اور ان پر بھروسہ کرکے ان سے آس اور امیدکے تمام پہلوؤں کو بلوچ آزادی کی موقف کی توہیں سمجھتی ہے


