بلوچ قوم اپنی مادر وطن کے تحفظ اور ریاست کے ناجائز قبضہ گیریت کے خاتمہ کیلئے جدوجہد کررہی ہے۔میر حیربیار مری
29.3.2014
بلوچ قوم دوست رہنماء حیربیار مری نے کہا ہے کہ بلوچ قوم اپنی
مادر وطن کے تحفظ اور ریاست کے ناجائز قبضہ گیریت کے خاتمہ کیلئے جدوجہد کررہی ہے حیربیار مری اکیلا نہیں بلکہ میری سوچ سے متفق رکھنے والوں کو آج ریاست لاپتہ کرکے ان کی
مسخ شدہ لاشیں پھینک رہی ہے موجودہوزیراعلیٰ کو ریاست اپنی ضرورت کے تحت استعمال کررہی ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کے دوران کیا انہوں نے کہا کہ نواب اکبرخان بگٹی اور دیگر بلوچ قبائلی عمائدین نے جبری الحاق سے قبل قابض ریاست کے نمائندوں سے ملاقاتیں ضرور کی تھیں مگر ان ملاقاتوں کا ہر گز یہ مقصد نہیں کہ کوئی آئے اور ہماری سرزمین پر قبضہ کر لے جہاں تک بات شہید نواب اکبرخان بگٹی کی ہے انہوں نے بھی کبھی کسی کو یہ دعوت نہیں دی تھی کہ کوئی بلوچستان پر قابض ہو جائے میں ایک عام بلوچ ہوں اور اپنی سرزمین کے تحفظ کیلئے جدوجہد کررہا ہوں کالعدم تنظیموں سے میرا کوئی تعلق نہیں تاہم بلوچ قوم کیخلاف ہونے والے مظالم اور سرزمین کی آزادی کیلئے جاری جدوجہد کی بھرپور حمایت کرتا ہو بلوچ عوام کے حقوق اور ریاست کے مظالم کیخلاف ہم نے آواز بلند کرنے کا عہد کررکھا ہے اگر بلوچ عوام مجھے لیڈر سمجھتے ہیں تو یہ ان کی محبت ہے اور اگر کوئی یہ کہہ کہ انہیں ہماری جدوجہد عملی نہیں لگتی تو یہ ان کی ناقص رائے ہے ہم سمجھتے ہیں کہ ہم یہاں دنیا کو باور کرارہے ہیں کہ بلوچستان میں آج بھی ریاست مظالم ڈھارہی ہے جیٹ طیاروں کے ذریعے بلوچ آبادی پر آگ اگلی جارہی ہے چند روز قبل ہی چند روز قبل بلوچ آبادیوں پر ریاستی طیاروں کے ذریعے بمباری کی گئی جس میں 20 سے زائد لوگ شہید ہوئے انتہائی افسوس کیساتھ کہنا پڑتا ہے میڈیا لندن تک تو آسکتی ہے مگر اپنے کرب میں واقع بلوچستان میں نہیں جاتی جہاں پر ریاست اور اس کے ادارے اپنی قبضہ گیریت کے قبضے گاڑے ہوئے بلوچ عوام پر ظلم ستم ڈھا رہے ہیں انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عبدالمالک کو ریاست آج اپنی ضروریات کے تحت استعمال کررہی ہے اور وہ کیوں استعمال ہورہے ہیں اس کا جواب وہ ہی دے سکتے ہیں تاہم یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ حالیہ قابض ریاست کے انتخابات میں بلوچستان میں صرف تین فیصد لوگوں نے انتخابات میں حصہ لیا تین فیصد ووٹ لیکر بلوچ عوام کی کوئی کیا نمائندگی کرے گا حالیہ انتخابات کا واضح طورپر بائیکاٹ کرکے بلوچ عوام نے ریفرنڈم کردیا ہے کہ اب وہ ریاست کے محکوم نہیں رہیں گے بلکہ پوری بلوچ قوم آج اپنی سرزمین کی آزادی اور تحفظ کیلئے جدوجہد مسلسل میں مصروف عمل ہے جو لوگ آج ریاست کیساتھ بیٹھ کر بات کررہے ہیں انہی لوگوں نے بلوچوں کو پہلے انگریزوں اور بعدازاں قابض ریاست کا غلام بنایا ہم بلوچ سرزمین پر ریاست کے غیر قانونی اورغیر انسانی قبضہ کیخلاف ہیں آج حیربیار مری اس سوچ کا حامل نہیں بلکہ اس سوچ سے بہت سے بلوچ متفق ہیں جنہیں ریاست خوف کے مارے لاپتہ کرکے ان کی مسخ شدہ تشدد زدہ گولیوں سے چھلنی لاشیں پھینک رہی ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مسئلہ پر اے پی سی بلانے کی باتیں کی جارہی ہیں اگر اس اے پی سی میں بلوچستان کی آزادی کا ایجنڈا شامل کرکے اس میں بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندوں کو مدعوں کیا گیا تو میں آل پارٹیز کانفرنس میں ضرورشرکت کروں گا ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پشتون بلوچستان میں نہیں بلکہ جنوبی پشتونستان میں رہتے ہیں جس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ محمود اچکزئی سے بھی اس سے متفق ہیں لہٰذا سرزمین کی آزادی کے بعد پشتون اپنی سرزمین پر آباد رہیں اور جو آباد کار آزاد بلوچستان میں رہنا چاہتے ہیں وہ رہیں یہ ان کا حق ہے انہوں نے کہا کہ ہمارے انڈیا اور دیگر ممالک کیساتھ روابط تو جوڑے جاتے ہیں مگر آج تک اس سے شواہد پیش نہیں کئے گئے درحقیقت ریاست کی کوشش ہے کہ بلوچوں کو دائمی غلام رکھا جائے وہ واضح طورپر کہتے ہیں کہ اگر بلوچ قوم کی آزادی کی جدوجہد میں کوئی ہماری معاونت کرے یا نہ کرے بلوچ جہد آزادی شہداء کے فکر و فلسفے کے مطابق جاری رہے گی ہم اس ریاست اور اداروں کے نہ تو آئین کو مانتے ہیں اور نہ ہی کسی قانون کو مانتے ہیں تو صرف اور صرف بلوچ عوام اور سرزمین کی آزادی کو جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم بلوچستان کی آزادی حکمرانی کیلئے کرنا چاہتے ہیں تو یہ ان کی گٹھی ہوئی سوچ کا عکس ہے میں صرف بلوچستان کو آزاد کرانا چاہتا ہوں وہاں حکمرانی کرنا نہیں چاہتا میں بلوچستان کا حکمران نہیں بلکہ خیرخواہ بنکر رہنا چاہتا ہوں بلوچستان میں اجتماعی قبروں کی دریافت ان حکمرانوں اور قبضہ گیر ریاست کے اداروں پر طمانچہ ہے جو سرزمین بلوچستان میں سب اچھا ہے کہ راگ الاپ رہے ہیں درحقیقت ریاست اور اس کے ادارے بلوچ جہد آزادی سے خائف ہوکر انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کے مرتکب ہورہے ہیں اور اپنی اسی بوکھلاہٹ میں وہ بلوچ فرزندوں کو ریاستی عقوبت خانوں میں غیرانسانی تشدد کا نشانہ بناکر ان کی لاشیں اجتماعی قبروں کی صورت میں بلوچ قوم کو دے رہے ہیں تاکہ بلوچ قوم کو جہد آزادی کی راہ سے دستبردار کیا جاسکے جو ان کی بھول ہے متحد بلوچ اپنی آزادی کیلئے جدوجہد کررہے ہیں اور آزادی کی جدوجہد ہمیشہ مشترکہ کاوشوں سے کی جاتی ہے ہم پوری دنیا بتا رہے ہیں بلوچ سرزمین پر ریاست نے تاریخ کو مسخ کرکے پیش کیا مگر ہم اپنی تاریخ کے نہ صرف امین ہیں بلکہ اس کے ہر ایک پہلو سے آشنا بھی ہیں غلامی کیخلاف جدوجہد جاری رہے گی غلامی قبول کرنا ہی ہو گی غلامی قبول کرنا ہتھیار پھینکنے کے مترادف ہے ہماری سرزمین پر آگ برس رہی ہے اور اس کیخلاف جدوجہد جاری رہے گی وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین ماما قدیر کی جدوجہد ایک انہیں جس طرح لانگ مارچ کے دوران ریاست اور اس کے اداروں نے تنگ کیا وہ ریاست کی منفی سوچ کی عکاسی کرتا ہے ۔


