بلوچ قوم سے اپیل ہے کہ وہ ریاست کے زیر تسلط الیکشن کو مسترد کرکے ووٹ کاسٹ نہ کریں ووٹ کاسٹ کرنا اور الیکشن کا حصہ بننا غلامی پر دستخط کرنے کی مترادف ہے بانک حانی بلوچ با نک زمور آزاد بلوچ
21.4.2013
بلوچ گہار موومنٹ کے مرکزی چیئرپرسن حانی بلوچ مرکزی وائس چیئر پرسن زمور آزاد بلوچ مرکزی جوائنٹ سیکریٹری زیمل بلوچ نے اپنے جاری کردہ مشترکہ بیان میں بلوچ قوم سے اپیل کی ہے کہ وہ ریاست کے زیر تسلط الیکشن کو مسترد کرکے ووٹ کاسٹ نہ کریں ووٹ کاسٹ کرنا اور الیکشن کا حصہ بننا نہ صرف غلامی پر دستخط کرنے کی مترادف ہے بلکہ بلوچ شہداء کے خون سے دغہ ہے بلوچ قوم ووٹ ڈال کراپنے روشن اور آزاد مستقبل کو تاریک نہ کریں بلکہ الیکشن سے بائیکاٹ کرکے آزادی کے جدوجہد کو قوت اور طاقت فراہم کریں انہوں نے کہا کہ بلوچی غیرت کا تقاضا ء ہے کہ بلوچ قوم غلامی کے اس وحشیانہ نظام کے خلاف اٹھ کھڑے ہو جس تاریخ پر ہم ناز اور فخر کرتے ہیں کیا وہ تاریخ ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ ہم کالونائزر کی تابعداری کریں یااس کے برعکس وہ تاریخ ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ غلامی کو مسترد کریں ہمارے آباؤ اجداد اور ہمارے شہداء نے اپنے خون قربانیوں اور انتھک جدوجہد کے زریعہ جس تاریخ کی تشکیل کی وہ تاریخ اور وہ سوچ اصل میں بلوچی سوچ ہے اور وہی فکر ونظریہ قوم دوستی اور وطن دوستی ہے ریاستی الیکشن میں شریک ہوکر اس کی ظلم میں ہم پلہ کر بلوچیت اور قوم پرستی کا دعوی کرنا بلوچ قوم کے آنکھوں میں دھول جھونکنے کی مترادف ہے بلوچ قوم کو چاہیے کہ پارلیمانی پارٹیوں کے فریب اور اور دھوکہ میں نہ آئیں بلوچ اور سٹبلشمنٹ لازم اور ملزوم نہیں اور بلوچستان چھوٹا صوبہ اور پنجاب بڑا بھائی نہیں بلکہ بلوچستان ایک ملک ہے جس کی آذادی سلب کی گئی ہے نام نہاد اصطلاحیں استعمال کرکے ریاستی باج گزار پارٹیاں ریاست کو مضبوط کررہے ہیں اور بلوچ قوم کو کمزور کررہے ہیں انہوں نے کہا کہ جس سرزمین نے ہزاروں سال سے ہمیں پال رہا ہے ووٹ ڈال کر اس خاک وطن سے غداری نہ کریں بلوچ ماں بہن بھائی اور بلوچ قوم کے ایک ایک فرد کو اس بات کا احساس ہونا چایئے کہ یہ ریاست ان کا نہیں نہ ان کا پہچان اور شناخت اس ریاست سے ہے جو بلوچ قومی آزادی کوسلب کی ہے اور جس پارلیمنٹ کو ریاستی تسلط کو برقرار رکھنے کے لئے مصنوعی آکسیجن کے طور پر استعمال کر کے بلوچ قوم سے ووٹ مانگ کر دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ بلوچ ان کے ساتھ ہیں پھر اسی پارلیمنٹ کے پالیسیوں اور منصوبوں کے زریعہ بلوچ قوم کی نسل کشی کرکے بلوچ تاریخ زبان اور ثقافت کو مسخ کی جارہی ہے انہوں نے کہا کہ ہمیشہ سے پارلیمنٹ کے زریعہ بلوچ جہد آذادی کو کاؤنٹر اور کمزور کرنے کی کوشش کی گئی بلوچ قوم کو غلام رکھنے میں اور قومی غلامی کو دوام دینے کے لئے پاکستانی پارلیمنٹ کا کلیدی کردار رہا ہے اور پارلیمنٹ کا حصہ بننے والون نے اس ریاست کے آئین اور فریم ورک میں رہ کر بلوچی قومی جہد کو ہمیشہ اپنے مفادات کی بھینٹ چڑھا کر قومی حقوق اور روزگار جیسے گمراہ کن نعروں کے زریعہ بہکانے کی کوشش کرکے بلجبر ریاستی مراسم کو مضبوط کرنے کوشش کی ہے انہوں نے کہا کہ پاکستانی پارلیمنٹ حقوق دینے کے بجائے ہمارے بنیادی انسانی حقوق بھی چھین لے رہے ہیں اور سب سے بڑھ کر ہم سے زندہ رہنے کا حق چھینا جارہائے اور یہ قطعی جھوٹ ہے کہ اس کے زریعہ کوئی تبدیلی آئے گی جس پارلیمنٹ کو ہمارے بربادی کے لئے جواز کے طور پر استعمال کیا جارہاہے اس پارلیمنٹ کو ایندھن فرائم کرنا اپنی موت کا سامان پیداکرنا ہے بلو چ قوم سے ایک دفعہ پھر اپیل کرتے ہیں کہ ووٹ و الیکشن اور نام نہاد انتخابی سیاست کو مسترد کرکے بلوچ جہدکاروں اور شہداء کے راستہ پر چل کر ان کی منز ل آزاد وطن کی تعمیر وتشکیل میں اپنا بھر پور کردار ادا کرنا اپنا اخلاقی اور وطنی ذمہ داری سمجھیں


