بلوچ قوم 28مئی کو یوم سیاہ کے طور پر مناکر بلوچ سرزمین پر ایٹمی ٹیسٹ کی شدید الفاظ میں مذمت اور مخالفت کرتے ہوئے اسے انسانیت دشمنی اور بلوچ نسل کشی سے تعبیر کرتی ہے بلوچ سالویشن فرنٹ
28.5.2014
بلوچ وطن موومنٹ بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ اور بلوچ گہار موومنٹ پر مشتمل الائنس بلوچ سالویشن فرنٹ کے جاری کئے گئے مرکزی ترجمان نے کہاہے کہ بلوچ قوم 28مئی کو یوم سیاہ کے طور پر مناکر بلوچ سرزمین پر ایٹمی ٹیسٹ کی شدید الفاظ میں مذمت اور مخالفت کرتے ہوئے اسے انسانیت دشمنی اور بلوچ نسل کشی سے تعبیر کرتی ہے بلوچ عوام کی جانب سے یوم آسروخ کے موقع پرمختلف علاقوں میں دکانیں دفاتر اور تعلیمی ادارے بند رکھ کر 28مئی کو یوم سوگ کے طور پر منایا گیا جبکہ بلوچ سالویشن فرنٹ کی جانب سے بلوچستان کے مختلف جگہو ں میں علاقائی سطح پر بلوچ سرزمین پر ایٹمی دھماکوں اور اس کے تابکاری اثرات اور بلوچ سرزمین کی ٹیسٹ زون کے طور پر استعمال کے خلاف پمفلٹ بھی تقسیم کئے گئے ترجمان نے کہاکہ 1998کو جب چاغی کے آبادی والے علاقہ راسکوہ کے سینے میں ساتھ ایٹمی پوڑا گیااس وقت ان دھماکوں کی شدت ریکٹر سکیل پر 4.9نوٹ کی گئی جبکہ جھٹکوں کی شدت 250مربع کلومیٹر تک محسوس کی گئی جبکہ چارہزار سینٹی گریڈکی درجہ حرارت سے سرمئی راسکو ایک ہی لمحہ میں سفید ہوگیاعالمی میڈیا رپوٹوں اور غیر سرکاری تنظیموں کی اعداد و شمار اور سروے کے مطابق ان دھماکوں سے ساڑھے سات لاکھ سے زائد مال مویشیوں کی ہلاکت سامنے آئی اوربڑے پیمانے پر انسانی اموات کے ساتھ ساتھ خطرناک اور جان لیوا بیماریان جن میں جلدی امراض سانس اور کینسر جیسے مہلک بیماریاں بلوچ قوم کے لے موت کا پیغام بن چکے ہیں پانی کا سطح مسلسل گررہاہے جبکہ زراعت مکمل طور پر تباہ ہوچکی ہے جبکہ سولہ سال گزرنے کے باوجودکیمائی اور تیزابی بارشوں نے انسانی زندگی کو بری طرح متاثر کرچکاہے ترجمان نے کہاکہ ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال نہ صرف انسانیت دشمنی ہے بلکہ ماحولیاتی دہشت گردی ہے اور قبضہ گیر ریاست کی جانب سے بلوچ سرزمین اور آبادی کے عین بیچ نیوکلیئر ٹیسٹ کا انتخاب بلوچ نسل کشی اور جنگی جرائم کی مترادف ہے ترجمان نے کہاکہ عالمی و غیر سرکاری تنظیموں کی جانب سے چاغی اور اس کے ملحقہ علاقوں میں کئے گئے سروے اور رپوٹوں نے پاکستان کی بلوچ دشمنی اور سفاکیت کا پول کھول کررکھ دیا ہے اور عالمی برادری کے درمیان ان کی متشددانہ اور جارحانہ سوچ کھل کر سامنے آئی ہے کہ قبضہ گیر نہ صرف بلوچ قوم بلکہ انسانیت کی وجود کا دشمن ہے جبکہ بلوچ ایٹمی ہتھیاروں کی سدباب اور ایٹمی ہتھیاروں سے پاک ایک انسانی معاشرہ کاخواہاں ہے آج ریاست اور ان کے داشتہ قوتین اپنی اس عمل پر شرمندہ ہونے کے بجائے جس کی تمام انسان دوست قوتین مزمت کرتی ہے اخلاقیات اور انسانیت کے تمام تقاضوں کے برعکس راسکوہ کے خوبصورت ماڈلز بناکر اسلام آباد کے چوراہوں پر بلوچ نسل کشی پر جشن اور یوم تکبیر مناکر فخر اور تکبر کا اظہار کررہی ہیں لیکن بلوچ قومی تاریخ میں یہ دن ہمیشہ ہمیشہ کے لئے سیاہ ترین دن کے طور پر یاد کیاجائیگا


