×

بلوچ مسئلہ پر اقوام متحدہ کی پس قدمی باعث تشویش ہے جب کہ مشرقی اور مغربی بلوچستان میں جاری بلوچ نسل کشی کے سلسلہ کو جاری رکھتے ہوئے دونوں ریاستیں اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے عالمی منشور کے بخیے ادھیڑ کے رکھ دیئے ہیں .بلوچ سالویشن فرنٹ

بلوچ مسئلہ پر اقوام متحدہ کی پس قدمی باعث تشویش ہے جب کہ مشرقی اور مغربی بلوچستان میں جاری بلوچ نسل کشی کے سلسلہ کو جاری رکھتے ہوئے دونوں ریاستیں اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے عالمی منشور کے بخیے ادھیڑ کے رکھ دیئے ہیں .بلوچ سالویشن فرنٹ

بلوچ سالویشن فرنٹ کے ترجمان نے t2fکے ڈائریکٹر اور انسانی حقوق کے رہنماء سبین محمود کے بہیمانہ قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاکہ سبین محمود کو انسانی حقوق کی دفاع میں آواز بلند کرنے کی پاداش میں قتل کردیا گیا جو ایک المیہ ہے انسان دشمن قوتیں بلوچ جدوجہد آزادی سے اتنے گھبرا گئے ہیں کہ وہ کسی بھی انسان دوست شخصیت کوکسی بھی وقت ہدف بناسکتے ہیں تاکہ کوئی انسانی حقوق کے خلاف ورزیوں پر لب سی لے ترجمان نے کہاکہ سبین محمود کی بہادرانہ جدوجہد روشن خیالی اور انسان دوست نظریات ان لوگوں کے لئے مشعل راہ ہے جو بلوچ نسل کشی پر مصلحت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مجرمانہ طور پر خاموش ہے ترجمان نے کہاکہ سبین محمود کی قتل کی محرکات اور قاتلوں کے چہروں سے نقاب اٹھانے کے لئے بین الاقوامی سطح پر ایک آزاد اور غیر جانبدارانہ تحقیقاتی کمیشن قائم کئے جائیں اور انسانی حقوق کے لئے آواز بلند کرنے والے صحافیوں دانشوروں اور دیگر مکاتب فکر کے تحفظ کے لئے عالمی سطح پر اقدامات کئے جائیں ترجمان نے کہا کہ انسان دشمن قوتیں انسانی حقوق کی بدترین پائمالی کے ساتھ اقوام متحدہ کے منشور کو پیروں تلے روند رہے ہین لیکن اقوام متحدہ اس عالمی منشور کے مسلسل خلا ف ورزیوں پر نہ تو کوئی نو ٹس لے رہاہے اور نہ ہی ان قوتوں کو اس منشور کے قوائد و ضوابط کے پابند بناکر ان پر دباؤبڑھتا ہے بلکہ اقوام متحدہ اس خطہ میں جہاں شدید انسانی بحران کھڑا کردیا گیائے بلو چ قومی آزادی سلب کئے گئے ہیں ہزاروں بلوچ نوجوان غائب کئے گئے ہیں لیکن اقوام متحدہ اور مہذب ممالک انسانی حقوق کی پاسدارای کا عملی مظاہرہ سے ہچکچارہے ہیں محض اعلامیوں اور تقریروں میں انسانی حقوق کی پاسداری اور دنیا کو امن کا سندیسہ دینے سے معاملات حل نہیں ہوگے

تنازعات کی موجود گی میں امن کا خواب محض دیوانہ کا خواب ہے خطہ میں بلوچ قومی مسئلہ سے چشم پوشی اور بلوچ قومی آزادی کے اصولی موقف سے رو گردانی خطہ میں انسان دشمن قوتوں اور خونریزی کے سلسلہ کو طویل کرنے کی مترادف ہے جس کی زمہ داری نہ صرف عالمی قوتوں پر عائد ہوتی ہے بلکہ اقوام متحدہ بھی اس کے زمہ دار ہے دنیا کے پاس انسانی حقوق اور قوموں کی آزادی کے حوالہ سے عالمی منشور کی شکل میں ایک جامع مسودہ موجود ہے اگرچہ مہذب دنیا اور اقوام متحدہ اسے نافذ نہیں کرسکتا تو یہ صرف کاغذکا پلند ہ ہو یہاں جتنے بھی خون بہائی جائیگی انگلیاں اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی علمبردار اداروں کی جانب اٹھیں گے ترجمان نے کہاکہ سبین جیسے لوگ مردہ معاشرہ کے زندہ ضمیر انسان تھا جس نے انسانیت کی سربلندی او رقار کے لئے آوا زاٹھائی ان کے معاشرے میں لاکھوں میں انسان موجود ہیں لیکن ان کا کردار سب سے الگ اور منفرد اس لئے ہیں کہ وہ انسان کی غلامی اور انسان پر انسان کاتشدد اور تسلط کے خلاف تھا وہ اپنے بلند پایہ سوچ کے ساتھ امر ہوگئے وہ جانتے تھے کہ انسان کو حیوان سمجھنے والے قوتین ان کی جان بھی لے سکتی ہے لیکن وہ اس کا پرواہ کئے بغیر اپنے انجام سے واقف موت کو خوشی سے گلے لگا لیا انسانی معاشروں کو ایسے انسانوں کی ضرورت ہے جس میں انسانیت کا جذبہ ہو ترجمان نے کہاکہ آج بلوچ قوم کے ہزاروں انسانوں کے زندگی کو خطرہ ہے اگر بلوچ مسئلہ پر عالمی طور پر توجہ نہ برتی گئی تو بلوچ قومی نسل کشی کے سلسلہ کو وسعت ملے گی اور بلوچ قوم ایک طویل جنگ میں ریاست کے عتاب کا شکار ہوگا بلوچ سماج عالمی معاشرہ کا ایک اٹوٹ حصہ ہے اگر بلوچ ریجن میں اقوام متحدہ اور مہذب دنیا کی زبان بندی سے لگی آگ کو جو ایندھن ملے گا اس سے کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گاترجمان نے کہاکہ بلوچ مسئلہ پر اقوام متحدہ کی پس قدمی باعث تشویش ہے جب کہ مشرقی اور مغربی بلوچستان میں جاری بلوچ نسل کشی کے سلسلہ کو جاری رکھتے ہوئے دونوں ریاستیں اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے عالمی منشور کے بخیے ادھیڑ کے رکھ دیئے ہیں جبکہ اٹھارویں صدی میں برٹش قبضہ گیر نے بلوچ سرزمین سے ڈیورنڈ لائن اور گولڈ سمتھ لائن کھینچ ایک مشترکہ جغرافیائی قومی اور ثقافتی اکائی کو کاٹ کر رکھ کر بلوچ سرزمین پر مختلف قوتوں کو مسلط کردیا اس کے بعد سے بلوچ قوم جن تکلیف دہ مصائب کا سامنا کرتا آرہاہے یہ ایک طویل خونی تاریخ ہے اور بلوچ گلزمین پر جتنا بھی دونوں ریاستیں اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے عالمی منشور کے بخیے ادھیڑ کے رکھ دیئے ہیں خون بہا یا گیاہے شاید دنیا کے کسی بھی خطے میں اس کی مثال ہوترجمان نے کہاکہ بلوچ سرزمیں پر کھنچی گئی ڈیورنڈ اور گولڈ سمتھ لائن کا خاتمہ ایک متحدہ اور آزاد بلو چ قومی ریاست کی تشکیل سے ممکن ہے اور ہمیں انسانی دوست قوتوں کی اخلاقی سیاسی اور سفارتی مدد کی ضرورت ہے

Previous post

دس کروڑ ڈالر خطیر رقم ہوتے ہوئے المیہ یہ ہے کہ بگٹی مہاجریں کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں اگر سوئزر لینڈ میں پر تعیش زندگی کا سامان کرنے کے ساتھ ساتھ اسی رقم سے بگٹی مہاجرین کی مدد کی جاتی تویہ ایک نیک عمل ہوتا ۔ بلوچ سالویشن فرنٹ

Next post

شہید فداء سے لیکر شہید حفیظ قمبرانی تک آزادی کے معمار تاریخ کے کلینڈر میں مقام اور جگہ پاچکے ہیں پارلیمنٹ اور اقتدار کے ہوس رکھنے والوں نے کا مریڈفد ا ء بلوچ کو شہید کیا ۔ بلوچ سالویشن فرنٹ