×

بلوچ نیشنلزم میں خواتین کی برابری کا انقلابی تصور سوشلزم کے قریب ہے بلوچ گہار موومنٹ کے وائس چیئر پرسن زمور آزاد بلوچ سے خصوصی انٹریو انٹریو ۔۔۔گلناز بلوچ

بلوچ نیشنلزم میں خواتین کی برابری کا انقلابی تصور سوشلزم کے قریب ہے بلوچ گہار موومنٹ کے وائس چیئر پرسن زمور آزاد بلوچ سے خصوصی انٹریو انٹریو ۔۔۔گلناز بلوچ

سوال ۔اپنے بارے میں کچھ بتائیں کہ آپ کیسے اور کس طرح تحریک کاحصہ بن گئے ؟

زمور آزاد ۔میں خود ایک انقلابی گھرانے سے تعلق رکھتی ہوں انقلابی سوچ مجھے ورثہ میں ملی ہے میرے دادا بلوچستان پر برٹش قبضہ کے خلاف جدوجہد کی اور دوران جدوجہد گرفتار کئے گئے میرے چچا شہید سفرخان زہری بلوچستان کی آزادی کے لئے 1973میں عسکری محازپر برسر پیکار رہے اور کئی سال تک ریاستی قبضہ کے خلاف گوریلا جدوجہد کی بلوچ قوم انہیں ایک قومی ہیرو کے طور پر یاد کرتے ہیں وہ دوران جدوجہد شہید کئے گئے میرے والد بھی آزادی کی تحریک کا حصہ ہے ہمیں گھر میں جو ماحول ملی وہ وطن جدوجہداور آزادی کے اسباق پر محیط ہیں

ہم اپنی بزرگوں کے دیوانوں میں اکثر اس طرح کی باتیں سنتے تھے شہید سفر خان کی جدوجہد اور شہادت اور ان کی بے لوث کردارقربانیاں تکلیف کھٹن اور پرپیچ راستوں کی سفراور ان کی جنگی محاذ کی داستان ایک کھلی کتاب کی مانند ہمارے سامنے تھی یہیں سے میری تربیت ہوئی میری تربیت میں اس کے ساتھ ساتھ میرے والد کی سرپرستی اور قومی جدوجہد میں ان کی طرف سے حوصلہ افزائی میرے جذبوں کو مزید جلا بخشی وقت کے ساتھ ساتھ میری سوچ میں پختگی آگئی اور مجھے احساس ہوئی کہ واقعی ہم غلام ہیں ہماری تاریخ وہ نہیں جو ہمیں سکولوں میں پڑھائی جارہی ہے ہمارا تعلق کسی دو قومی نظریہ کے مٖفروضوں سے نہیں بلکہ ہم پنجابی سے بلکل الگ ہیں ہماری اپنی قومی شناخت ہیں ہماری اپنی الگ وطن ہے پنجابی قابض ہمارے بھائی نہیں بلکہ وہ ہماری قومی دشمن ہیں وہ ہماری مادی اور نظریاتی استحصال کررہے ہیں انہوں نے ہماری آزادی اور خود مختاری کو چھیں لیا ہے ہمارے وسائل کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں جب میں بلوچ قومی وسائل طویل سمندر اور وسیع زرخیز زراعتی زمیں پر نظر ڈالتی اور اس کے مالیاتی اعدا د شمار کو سامنے رکھتی اور اپنی لوگوں کی غربت اور پسماندگی کا موازنہ کرتا تو میں حیران ہو جا تی تھی کہ آخر ہم اتنی امیر سرزمیں کے مالک ہوتے ہوئے کیوں ہمارے لوگ غربت اور تنگدستی کا شکار ہیں تو مجھے غلامی کا احساس ہوتا یہی احساس غلامی میں مجھے آزادی کی تحریک میں شمولیت پر راغب کی کہ مجھے بھی قومی تحریک میں اپنے حصے کا کردار ادا کرنا چاہیے مجھے یاد پڑتی ہے کہ میں 2004مین بی این ایم کے کونسل سیشن کوئٹہ میں جب میں 13سال کی عمر میں تھی شرکت کی اور ایک نظم پڑھی جس کا عنوان تھا’’اے بلوچ کیا تو آزاد ہے ‘‘اس کے کچھ پیرگراف اس طرح ہیںیہ ایک ابتدائی خیال تھی
اے بلوچ کیا تو آزاد ہے ‘‘پیروں پہ پڑاکیا تو آزاد ہے زنجیروں میں جھکڑا ہوا کیا تو آزاد ہے ہر صبح میں تجھے پیچھے رکھا گیا ہے کیا تو آزاد ہے جب یہ نظم پڑھ کر سٹیج سے اتری تو شہید غلام محمد نے میرے کاندھوں پر تھپکی دی اور میری حوصلہ افزائی کی شہید غلام محمد کی حوصلہ افزائی سے
مجھے اور بھی ہمت ملی اور میں کئی مظاہروں اور ریلیوں میں شریک ہوتی رہی لاپتہ افراد کے لواحقین کے کئی مظاہروں سمیت سرمچار حمایت ریلی میں بھی شریک ہوئی اس کے ساتھ ساتھ ریاستی فورسز کی جانب سے نیو کاہاں سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کاروائیاں آپریشن اور دہشت گردی بلوچ بھائیوں کے اغواء اور قتل عام یہ سب ریاست کے خلاف میرے زہن میں نفرت کی وجہ بن گئی اور میں جدوجہد آزادی سے وابسطہ ہوئی 2004سے میں بلوچ قومی تحریک کا حصہ ہوں اور اب بلوچ خواتیں کے تنظیم بلوچ گہار موومنٹ سے منسلک ہوں اور اسے لیڈ کررہی ہوں
سوال۔آخر کیا وجہ تھی کہ بلوچ خواتین پینل کے ہوتے ہوئے گہار موومنٹ وجود میں لایا گیا ؟
زمور آزاد ۔ایک وقت تھا کہ بلوچ خواتین پینل کے نام سے ایک تنظیم وجود رکھتی تھی کافی نظریاتی خواتین اس کا حصہ تھے لیکن وہ تنظیمی طریقہ کار پرکسی قسم کی خاص توجہ نہ دی یعنی تنظیم کاری پر جس پیمانے سے توجہ دینی چاہیے تھی اور خواتین کو ایک منظم پلیٹ فارم پر جس طرح قومی تحریک سے منسلک کرنے کی ضرورت تھی اس کے لئے مروجہ تنظیمی پیمانے پر کام نہیں کئے گئے اور اب بلوچ خواتین پینل یا تو وجود نہیں رکھتی یا تو متحرک نہیں ہے کیونکہ کافی عرصہ سے وہ بلوچ سیاسی منظر پر موجود نہیں اور نہ ہی ان کی جانب سے کسی طرح کی سرگرمی سامنے آئی ہے اور دوسری جانب جن پارٹیوں اور تنظیموں سے بلوچ خواتین منسلک ہیں وہ ان پارٹیوں کے ونگ طور پر کام کرتے ہیں بلوچ خواتیں کے الگ سے تنظیم کے عدم موجودگی کی وجہ سے ہم چند بہنوں نے مل کر بلوچ گہار موومنٹ کی تشکیل کی اگر سنجیدگی اور غیر جانبدار ی سے تجزیہ کیا جائے تو بلوچ تحریک آزادی کے حوالہ سے خواتین کو منظم کرنے کے بارے میں ایک غیر متوازن رویہ دیکھنے کو ملتا ہے حالانکہ خواتیں نہ صر ف سماج کی آدھی آبادی پر مشتمل ہے بلکہ ایک بڑی افرادی قوت بھی انہیں انقلابی تحریک سے منسلک کرناانتہائی ضروری ہے قومی آزادی کی جدوجہد میں ان کی شمولیت سے نہ صرف تحریک کو مقداری قوت میسر آئے گی بلکہ ان کی نظریاتی تربیت سماج میں ایک معیاری تبدیلی کا پیش خیمہ ہوگا ہمیں اس جانب ترجیحی بنیادوں پر کام کرنے ضروررت ہے دیگر اقوام کی تحریکوں میں خواتین کی برابر شرکت اور سرگرمیاں ہمارے لئے مشعل راہ ہے
سوال۔ بلوچ گہار موومنٹ کس طرح اپنے پروگرامز کو ہم بلوچ خواتین تک رسائی دے گی ؟
زمور آزاد ۔ہم ایک بہت بڑی چھوٹی کو سرکرنے کاکام اپنے کاندھنوں پہ اٹھالی ہے اگر ہم اس چھوٹی کو عبور کرنے کے لئے سوچ میں پڑجائے تو یقیناًہم ہمت ہار جائیں گے لیکن اگر ہم اس چوٹی کی مسافت اور کھٹن سفر کو مد نظر رکھنے کے بجائے اس پہلی دراڑ یا پتھر کو سامنے رکھے جس پر ہم پاؤں رکھ کر پہلا قدم اٹھا سکتے ہیں جو ہماری اگلی دراڑ تک رسائی میں مدد کریگی اس طرح ہم سفر جاری رکھتے ہوئے اس چھوٹی کو بھی سر کرسکتے ہیں جس کے لئے ہم نے پہلا قدم اٹھایا ہے بلوچ گہار موومنٹ اس وقت تنظیم کاری پر توجہ دے رہی ہیں مختلف علاقوں میں ہمارے بلوچ خواتین سے رابطہ ہیں اور ہم باقائدگی سے بلوچ گہار موومنٹ کے پروگرام اغراض و مقاصد منشور اوریجنڈا کو بلوچ خواتین کے سامنے رکھ رہے ہیں جو خواتین ہماری ساتھ شامل ہوجاتے ہیں ہم انہیں تنظیمی مراحل سے گزارنے کے بعد باقاعدہ اپنی ممبر بناتے ہیں اور اس طرح آہستہ آہستہ کاروان میں اضافہ ہوگا تنظیم کی تعمیرو تشکیل میں ہمارے باسک خواتین کی ثابت قدمی اور حوصلون
نے ہمارے ارادوں کو مضبوط کیا ہے نئے ساتھیوں کی شمولیت سے بلوچ گہار موومنٹ کے پاس کم ہی سہی لیکن افرادی قوت کی ایک چھوٹی سی کھیپ موجود ہے اس سارے عمل میں ہماری ا ہدف بلوچ خواتین کی نظریاتی قوت کی بڑھوتری ہے کہ ہم انہیں سماج کے بوسیدہ اور پارلیمانی رہزنوں کی گمراہ کن تبلیغ سے کس طرح بچائے اور ہم بلوچ سماج میں پنجابی ریاست کی جانب سے لائی گئی ان فرسودگیوں کے بیچ سے بلوچ عورتوں کو کس طرح قومی تحریک سے منسلک کرے جہاں بلوچ خواتین کوگھر کی قیدی سمجھ کر تحریک میں ان کی شمولیت اور شرکت کو شجر ممنوعہ بنائی گئی ہے گو کہ بلوچ سماج میں یہ انتہاء پسندی فطری طور پر موجود نہیں لیکن اس طرح کے رجحانات اور لوگوں کے زہنوں کوزنآلود کرکے بلوچ سماج میں کئی قسم کی فرسودگیاں لائی گئی ہیں تنظیم کاری کے ساتھ ساتھ موبلائزیشن کسی بھی تنظیم کے موقف کی تشہیر کے لئے کلیدی کردار ادا کرتا ہے موبلائزیشن اور پراپیگنڈے کے بھی کئی طریقہ ہیں اس میں سیمینار ورکشاپس فکری دیوان سٹڈی سرکلز اور تنظیم کے پرچے آرگن وغیرہ بنیادی کردار اداکرتے ہیں اور یہ ہماری لائحہ عمل کا حصہ ہے گوکہ ہم بلکل ابتدائی سطح پہ ہے اور اس وقت ہم زیادہ توجہ تنظیم کاری کو دے رہی ہیں تاکہ بلوچ گہار موومنٹ کے پلیٹ فارم پر خواتین کے ایک نظریاتی حلقہ موجود ہو تاکہ ہمیں اپنے ٹارگٹس کے حصول میں آسانی ہو اس سلسلے کو آگے بڑھاکر ہم ایجی ٹیشن کے حوالہ سے بھی پروگرام کا سلسلہ جاری رکھیں گے لیکن ہماری نزدیک فیصلہ کن بات یہ ہے کہ ہم ناقابل مصالحت جدوجہد کے ساتھ آزادی کے بیرک کو جرائت کے ساتھ سربلند رکھ کر ثابت قدمی کے ساتھ جدوجہد جاری رکھیں
سوال۔آپ لوگ کیا صرف کوئٹہ اور جہالاوان میں سرگرم ہیں یا مکران اور دیگر شہروں میں بھی؟
زمور آزاد۔ہماری کوشش ہے کہ ہم بلوچستان بھر میں اپنی تنظیمی سرگرمیان جاری رکھیں اور خواتین کے لئے ایک منظم قومی پلیٹ فارم کی تعمیر کرے تاکہ بلوچ خواتین اس پلیٹ فارم سے قومی آزادی کے جدوجہد سے منسلک ہوکر قومی جدوجہد میں اپنے حصہ کا کردار ادا کرسکے ہم جتنی بھی سرگرمیان کریں گے ہماری قوت میں اضافہ ہوگی ہماری ٹارگٹ ہے کہ پورے بلوچستان میں ہمارے زون اور یونٹ ہو لیکن بلوچستان اتنی وسیع رقبہ پر مشتمل ہے کہ کوئی بھی پارٹی بیک وقت یہ دعوی نہیں کرسکتا کہ پورے بلوچستان میں یا پاکستان کے زیر انتظام مقبوضہ بلوچستان میں ان کی زون یا سرگرمیاں ہوں ایسے پارٹی اور تنظیمیں ہیں جو پچھلے 12سال سے برسر زمیں جدوجہد کررہے ہیں ایسے کئی علاقہ ہیں جن میں ان کا ممبر یازون نہیں اور دوسرے بات یہ کہ تنظیمی پیمانے پر بلوچستان میں اب تک کوئی بھی پارٹی معین کردہ تنظیمی اصولوں اور تنظیمی تقاضوں کے تحت کام کرنے میں سست رفتاری سے کام کی ہے گہار موومنٹ کی تو اتنی عمر بھی نہیں ہیں گہار موومنٹ کے قیام کو ایک سال ہورہے ہیں اس وقت ہمارے نوشکی کوئٹہ زہری قلات سوراب خضدار منگچر اور مستونگ میں زون اور ابتدائی یونٹس موجود ہیں مکران میں ابھی تک ہم نے کام شروع نہیں کئے ہیں اس کی بڑی وجہ بعض ناگزیر وجوہات ہیں لیکن مکران میں بلوچ گہار موومنٹ کو فعال کرنا ہماری ترجیحات میں شامل ہیں
سوال۔آپ کے کام کرنے کا طریقہ کیا ہے ؟آپ کس طرح بلوچ تحریک کے اندر جدید تبدیلی لاسکوگی مثال کے طور پر خواتیں کی برابری معاشی و ثقافتی برابری؟
زمور آزاد ۔کام کرنے کے حوالہ سے میں نے پچھلے سوال میں اس کی وضاحت کی ہے کہ ہم بلوچ خواتین کی سیاسی سماجی اور زہنی تربیت کے حوالہ سے انقلابی پیمانے پر کام کررہی ہیں اور اس سلسلے میں ہم گھر گھر جاکر خواتین کوقومی جدوجہد میں اپنی کردار اداکرنے کے لئے آمادہ کریں گے اور اس کے لئے ہمارے پاس جوکام کرنے کاطریقہ کار وہی ہیں جو ایک انقلابی و سیاسی تنظیم کا طریقہ کار کی ہوتی ہے جس طرح بلوچ سماج میں قومی و سیاسی تنظیمیں مروجہ تنظیمی اصولوں کے تحت کام کررہے ہیں ہوبہو ہمارے لئے بھی وہی طریقہ کار قابل بھروسہ ہے کہ ہم اسی ڈگر پر چل کر خواتین کی نہ صرف تعلیم و تربیت کرسکتی ہیں بلکہ انہیں نظریاتی طور پر تیار کرکے ایک پختہ بے لوث انقلابی بناسکتے ہیں رہیبات خواتین کی معاشی و ثقافتی برابری کی اگر ہم بلوچ تاریخ میں خواتین کی قدر ومنزلت اور ان کا مقام کی اچھی طرح سے جائزہ لیں تو ہم یہ کہنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کریں گے کہ بلوچ معاشرہ میں فطری طور پر خواتین کو یہ برابری اور حق حاصل ہے لیکن اس میں سائنسی بنیادوں پرپر جدت کی ضرور ت ہے بلوچ تاریخ میں خواتین کی بہادری ہمت حوصلہ اور ان کی جذبہ و کردار اور ملکی و ریاستی امور میں ان کی فعال کردار اور سرگرمیوں کا ذکر جگہ جگہ ملتی ہے بلوچ معاشرہ میں مرد و خواتیں کی درمیان کسی قسم کی تفریق نہیں بلوچ معاشرہ میں قومی جنگوں میں خواتین کے قومی کردار کا زکر بار بار ملتی ہیں ریاستی امور میں وہ ہمیشہ اپنے بھائیوں کے شانہ بشانہ رہی ہیں ایسے خواتین کو بلوچ سماج میں شیر زال کے طور پر جانی جاتی ہے جو ملکی قومی وقبائلی معاملات میں کردار ادا کرتی ہے جنگوں میں میڑھ لے کر جاتے ہیں تو کسی بھی دو فریق کے خونریز جاری لڑائی رک جاتی ہے بلوچ سماج نے عورت کی حقوق اور برابری کو کھبی نہیں چھینی ہے لیکن عورت کی آزادی وہ نہیں جو کہ قابض ریاست یاسرمایہ داری نظام جس کا خاکہ پیش کرتاہے آزادی کا وہ تصور جو قابض ریاست دیتی ہیں وہ عورت کامقام اور عزت نہیں ہے یا جس طرح کہ بعض این جی اوز عورت کی برابری یا حقوق نسواں کے نام پر ایک بے ضبط اور آزاد خیالی کی بھونڈی تصور دیتے ہیں اسے شاید کوئی مہذب معاشرہ قبول کرنے سے قاصر ہے ہماری اپنی تہذیب اور تاریخ ہے مہرگڑھ کی ہزاروں سال قبل کی تہذیب بلوچ سماج کا آئینہ دار ہے بلوچ نیشنلزم نے خواتین کی برابری کا جوانقلابی تصور دیتا ہے وہ سوشلزم سے قریب تر ہیں یا آپ معاشرہ کو قدیم اشتراکی سماج کہہ سکتے ہیں بلوچ خواتین کے برابری کے حقوق بلوچ قوم کی آزادی سے مشروط ہے کہ بلوچ آزاد ہوگا تووہ غلامی کے فرسودگیوں اور غلاضتوں کو سماج سے نکال باہر کرایک قومی و انقلابی معاشرہ کی تشکیل و تعمیر کے لئے باقائدہ اپنی اتھارٹی استعمال کریگا جب کہ جدوجہد کے زریعہ ریاست اور قبضہ گیریت کی جانب سے لائی گئی فرسودگیوں کو بانجھ اور غیر موثر بھی کیا جاسکتاہے اور ہم بلوچ خواتین کو غلامی کے دین اور تحفہ میں دیئے گئے استحصالی نظریات اور فرسودہ خیالات کے حصار سے نکالنے کے لئے اپنی کوششیں بروئے کار لائیں گی بلوچ سماج میں خواتیں اس طرح کھبی بھی محکوم نہیں رہاجس طرح کی قبضہ گیریریت کے زیر اثر محکوم رہی ہیں بلوچ آزادی کی جو جنگ لڑرہے ہیں وہ اصل میں انسانیت کی آزادی کی جنگ ہے ہمیں بلوچ خواتین کی ثقافتی و معاشی برابری کی جنگ کو قومی آزادی کی جدوجہد سے منسلک کرنا چاہیے میں پوری یقین کے ساتھ کہہ سکتی ہوں کہ بلوچ قوم کی آزادی بلوچ خواتین کی معاشی ثقافتی اور سماجی برابری کی شاہراہ ہے بلوچ خواتین اس وقت بلکل بے تنظیم اور بکھری ہوئے ہیں انہیں ایک ڈسپلن سے جوڑ کر قومی جدوجہد کے راہ پر ڈالنے کے لئے بلوچ گہار موومنٹ کوشان اور میدان عمل میں ہیں ہمارے حوصلے بلند ہیں یہ وقت بتائے گا کہ ہم اپنے اہداف میں کس حد تک کامیاب ہو سکتی ہیں
سوال۔آپ بلوچ بہنوں کو کیا پیغام دینا چاہیں گے؟َ
زمور آزاد۔بلوچ بہنوں کے لئے میرا پیغام یہی ہے کہ وہ بلوچ قومی آزادی کے عظیم مقصد کے لئے تحریک آزادی کا حصہ بنیں جس طرح بلوچ بھائی اپنی جان سے گزر کر آزادی کی جدوجہد میں شامل اور قربانیاں دے رہے ہیں بلوچ خواتین بھی اپنی قومی زمہ داریوں کا احساس کریں اور آگے بڑھ کر میدان عمل میں آئیں تنظیم اور راستہ موجود ہے بلوچ خواتین اپنی علم شعور اور صلاحیتوں کو جہد آزادی سے ملاکر اپنا فرض نبھائیں دنیا کی آزادی کی تحریکوں میں خواتین اپنے کردار ادا کررہی ہیں کردستاں اور فلسطین کے تحریک آزادی سمیت دنیا میں جہاں بھی کوئی تحریک سر اٹھائی خواتین اس میں اپنی کردار ادا کرتی رہی ہے فلسطین میں لیلی خالد الجزائر میں جمیلہ کردستان میں سمیرم کرداور ہندوستان بنگلہ دیش اور افریقہ میں قومی آزادی میں خواتین کی شعوری اور عملی شرکت ہمار لئے مشعل راہ ہیں بلوچ خواتین اسی روایت اور تسلسل کی تقلید کرتے ہوئے جرائت اور ثابت قدمی کے ساتھ قدم سے قدم ملاکر آزادی کے علم کو بلند رکھیں