بولان میںآپریشن معصوم بلوچ فرزندوں کا حراستی قتل اور نیوکاہان مری کیمپ پر چھاپہ اور چاردیواری کی پائمالی بلوچ نسل کشی پر مبنی برترین ریاستی دہشت گردی ہے
13.8.2013
بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری بیان میں کہاہے کہ بولان میںآپریشن معصوم بلوچ فرزندوں کا حراستی قتل اور نیوکاہان مری کیمپ پر چھاپہ اور چاردیواری کی پائمالی بلوچ نسل کشی پر مبنی برترین ریاستی دہشت گردی ہے یہ کاروائیاں جنگی جرائم کی زمرے میں آتی ہے قابض فورسز کی جانب سے بولان میں اب تک کئے گئے آپریشن کاروائیوں اور جعلی مقابلہ کے نام پر کئی معصوموں کو خاک و خون میں تڑپا یاگیا ہے اور مزید کاروائیوں کا سلسلہ جاری ہے لیکن ریاست کی کھلی دہشت گردی پرریاستی میڈیا اور عالمی ادارے مہربہ لب ہے ان کی دوہرے معیار اور مجرمانہ خاموشی ریاستی دہشت گردی کو سپورٹ کرنے کی مترادف ہے ترجمان نے کہاکہ بلوچ نسل کشی پر مبنی ریاستی دہشت گردی اور ان کے بدتریں مظالم پر اقوام متحدہ سلامتی کونسل اور حقوق انسانی کے نام نہاد تنظیموں اور دیگر عالمی اداروں کی خاموشی ان کی انسانیت امن اور انصاف پسندی کے دعووں پر زبردست طمانچہ ہے جو انسانی حقوق کے ٹھیکدار بن کر پوری دنیا کو انسانیت اور انصاف کی درس دیتے تھکتے نہیں لیکن بلوچ قوم پر ہونے والے بدتریں دہشت گردی پر خاموشی اور زبان بندی کو ترجیح دیکرکوئی قابل ذکر کردار ادا کرنے سے قاصر ہے کیا ان کی نظر میں بلوچ انسان نہیں کیا بلوچ فرزندوں کی حراستی قتل عام اور بلوچ نسل کش بے رحمانہ کاروائیاں ان کی نظر میں دہشت گردی نہیں جو ریاستی دہشت گردی کو لگام دینے اور ان کانوٹس لینے سے قاصر ہے جب کہ بلوچ مسئلہ پر اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کے بانجھ اور غیر موثرکردار سوالیہ نشان بن کر رہ گئی ہے ترجمان نے کہا کہ بولان میں شہید کئے جانے والے بلوچ حریت پسند سپوتوں کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہیں ان کا خون رائیگان نہیں جائیگا دھرتی کے سینے پر بہنے والے ان کے خون آزادی کا نوید ہے ان کی لاشیں پھینکنے کا عمل تکلیف دہ ضرور ہے لیکں ایسی کاروائیان ریاست کی ننگی شکست اور واضح پسپائی کو ثابت کرتے ہیں کیونکہ قابض جدجہدکی فیصلہ کن اور فتح یاب مرحلوں کو اسی قسم کی جنگی جنوں کی زریعہ کاؤنٹر کرنے کی کوشش کرتی ہے ترجمان نے کہا کہ بلوچ فرزنداپنی حقیقی قومی منزل آزادی کے لئے جان و مال قربانی سے دریغ نہیں کررہاریاستی کاروائیاں کسی بھی بلوچ فرزند کے عزم اور جرائت کوکمزور نہ کرسکی بلکہ اتنی مظالم کے باوجود بلوچ فرزندوں کی وابستگی غلامی کی شدت احساس اور بلوچ کا ز کی کامیابی کی غماز ہے تبدیلی اور آزادی کی یہ چنگاری اب شعلہ بن چکی ہے جو ریاست کی جنگی جنوں اور اس کے غرور کو پیوند خاک کرکے اسے کھلی شکست سے دوچار کی ہے


