بی ایس او آزاد کے چیئر مین زاہد بلوچ کی اغواء نماء گرفتاری کی سخت ترین الفاظ میں مذمت ز اہد بلوچ کی آزاد کےاغواء نماء گرفتاری پہلا واقعہ نہیں بلکہ قبل ازین متعدد انقلابی نوجوانوں کو حراست میں لے کر غائب کیا گیا۔ بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ
بلوچ27.4.2014
بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ کے جاری کئے گئے مرکزی ترجمان نے بی ایس او آزاد کے چیئر مین زاہد بلوچ کی اغواء نماء گرفتاری کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے بلوچ وطن میں جاری ریاستی جارحیت کو جمہوریت اور انسانیت کے منافی عمل سے تعبیر کرتے ہوئے کہاکہ بلوچستان میں سیاسی کاوشوں اور سرگرمیوں پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے ریاست اپنی غاصبانہ قبضہ کو تقویت دینے کے لئے آزادی کے حصول کے لئے پر امن سیاسی و جمہوری طرز جدوجہد کو سبوتاژ کرنے کے لئے جدوجہد سے وابسطہ برسرزمین سیاسی جماعتوں اور نوجوان تنظیموں کے کارکنوں کیڈرز اور قیادت کو مسلسل نشانہ بنارہی ہے زاہد بلوچ کی اغواء نماء گرفتاری پہلا واقعہ نہیں بلکہ قبل ازین بی ایس او آزاد کے وائس چیئر میں زاکر مجید سمیت متعدد انقلابی نوجوانوں کو حراست میں لے کر غائب کیا گیا اورحراست میں لئے گئے کئی بلوچ سرگرم نوجوانوں کو شہید کرکے ان کی مسخ لاشیں پھینکی گئی اور ہزاروں کی تعداد میں اب بھی غائب ہے ترجمان نے کہاکہ بلوچ قوم اقوام متحدہ کے قراردادوں اورآزادی کے حصول کے لئے مسلمہ بین الاقوامی قوانیں کے مطابق جدوجہد کررہی ہے لیکن قابض ریاست جدوجہد کے پر امن زرائع بھی مسدود کرکے جنگی جرائم پر مبنی کاروائیوں کے زریعہ بربریت کا مظاہرہ کررہی ہے ترجمان نے بلوچستان میں انسانی حقوق کی پائمالیوں اور اغواء نماء گرفتاریوں کے مجرمانہ سلسلہ پر اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے دعویدار ادارون کی خاموشی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ عالمی اداروں کی خاموش تماشائی کردار سے ریاست کو بلواسطہ شہہ مل رہی ہے اور وہ بلا روک ٹوک اپنی فوجی کاروائیوں میں کئی گناہ شدت لارہی ہے ترجمان نے کہاکہ آزادی بلوچ قوم کا حق ہے اور اس حق کو چھیننے کے لئے ریاست اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کے سامنے بلوچ فرزندوں کو اغواء کرکے ان پر ازیت اور تشدد کررہی ہے یہ سب کچھ عالمی ضمیر کے سامنے ہورہاہے لیکن انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ترجمان نے کہاکہ انسان دوست ممالک کا فرض بنتاہے کہ وہ غیر مشروط طور پر بلوچستان کی آزادی کی نہ صرف حمایت کرے بلکہ بلوچستان کی آزادی کو اپنی خارجہ پالیسی کا حصہ بناکر تین کروڑسے زائد انسانوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں جبکہ بلوچستان میں جاری ریاستی جارحیت اور نسل کشی کے خلاف بلوچ قوم کی آواز بنیں ترجمان نے کہاکہ بلوچستان کی آزادی کی تحریک کو کچلنے کے اقدامات اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہے اقوام متحد ہ اور عالمی قوتوں کو چاہیے کہ وہ ریاست پر اپنی سفارتی دباؤ بڑھاکر فی الفور اغواء کاریوں کا سلسلہ بند کروائیں ترجمان نے کہاکہ آزادی کے لئے بلوچ قوم اپنی اصولی موقف پر قائم ہے ریاستی جبر اور دباؤ بلوچ موقف میں زرہ برابر تبدیلی یا کمزوری نہیں لاسکتا اور نہ ہی متحرک اور سرگرم سیاسی جدوجہد کو روکا جاسکتا ہے جبکہ بلوچ شروع ہی سے آزادی کی بات کررہاہے نت نئے فارمولوں اور ڈلے ایکشن سیاست ان لوگوں کا وطیرہ رہاہے جنہیں ریاست آزادی کی جدوجہد کو سبوتاژ کرنے کے لئے مہرے کے طور پر استعمال کررہی ہے


