بی این ایف کا قیام اور انہدام تحریر۔میر قادر سربراہ بلوچ وطن موومنٹ
بلوچ نیشنل فرنٹ جو چھ سیاسی تنظیموں اور پارٹیوں کی مشترکہ کوششوں سے وجود میں آئی تھی بلوچ نیشنل فرنٹ کا ابتدائی اجلاس کوئٹہ میں منعقد ہوا جس میں بلوچ قومی آزادی کے لئے جدوجہد کرنے والے پارٹیوں اور تنظیموں کے مابین اتحاد کی اہمیت کو ناگزیر طور پر محسوس کیا گیا اور غیر رسمی طور پر اس سلسلے میں کئی اجلاسوں کا انعقاد کیا گیاان اجلاسوں میں اتحاد کی حوالہ سے بات چیت اور بعد ازان تمام پارٹیوں کی جانب سے رضامندی کے پیش نظر باضابطہ طور پر آل بلوچ آزادی پسند پارٹیوں کا اجلاس کوئٹہ میں طلب کیا گیا
ا اس سلسلے میں برسر زمیں جدوجہد کرنے والے تمام جماعتوں کا مشترکہ الائنس کی بابت نہ صرف با قائدہ تجویز سامنے آیا بلکہ اس پہلے اجلاس میں ہی اتحاد کی بنیاد ڈالی گئی تمام پارٹیوں کی نمائندوں کی متفقہ فیصلہ کی رو سے الائنس کا نام’’ بلوچ نیشنل فرنٹ ‘‘تجویز کی گئی اس اجلاس میں بی آرپی کے رہنماء حاجی حیات جمالدینی بلوچ وطن موومنٹ کے سربراہ راقم میر قادر سمالانی بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی وائس چیئرمیں سنگت ثناہ بلوچ بلوچ نیشنل موومنٹ کے مرکزی جوائنٹ سیکریٹری سعید یوسف بلوچ بلوچ بار ایسوسی ایشن کے صدر صادق رہیسانی ایڈوکیٹ اور بلوچ رائٹس کونسل کے صدر وہاب بلوچ اور بلوچ خواتین پینل کی نمائندہ بانک شکر بی بی بلوچ نے شرکت کرکے اپنی پارٹیوں کی نمائندگی کی تاہم بلوچ خواتین پینل نے اتحاد میں شامل ہونے سے معزوری ظاہر کردی الائنس کے باقائدہ نام پر اتفاق کے لئے تمام جماعتوں کی آئینی اداروں سے منظوری کو ضروری سمجھتے ہوئے اس کا اعلان اس اجلاس میں حتمی طورپر نہیں کیا گیا جو کہ بعد ازاں تمام پارٹیوں کی آئینی اداروں نے اسی نام پر اتفاق کرکے اس کی توثیق کردی بعد ازان تشکیل شدہ قومی اتحاد’’ بلوچ نیشنل فرنٹ ‘‘کا باقائدگی سے اعلان کیاگیا اور الائنس کو باقائدہ تنظیمی ساخت و سٹرکچرکی صورت میں منظم کیا گیا مرکزی کابینہ اور ایگزیٹو باڈی تشکیل دی گئی جس میں تمام پارٹیوں کی نمائندگی تھی الائنس کی تشکیل میں شہید غلام محمد سمیت تمام پارٹیوں کی محنت اور صلاحیت شامل تھی اور شہید غلام محمدنے بلوچ نیشنل فرنٹ کو مستحکم کرنے کے لئے دن رات کوشان رہا مکران سمیت کراچی میں انہوں نے اپنی تمام تر صلاحیت اور شب روز کو بلوچ نیشنل فرنٹ کے لئے مختص کیا ادھر کوئٹہ جہالاوان رخشان اور بولان میں مجھ سمیت صادق رہیسانی شہید ثناہ سنگت بلوچ شہید جلیل ریکی بلوچ بشیر عظیم و دیگر ساتھیوں نے بلوچ نیشنل فرنٹ کے حوالہ سے سیاسی سرگرمیان کی اوراس سلسلے میں ہم نے مختلف علاقوں میں علاقائی سطح پر بھی نیشنل فرنٹ کے حوالہ سے جلسوں اور مظاہروں کا انعقاد کیا جس میں کئی تاریخی جلسہ کئے گئے جب کہ مرکزی جلسوں میں کوئٹہ کلی اسماعیل کلی قمبرانی قلات نوشکی مچھ خضدار میں شہداء کی تقریب و برسی کی مناسبت سمیت سیاسی موبلائزیشن کے سلسلے میں جلسے کئے گئے اور اسی طرح مکران میں شہید غلام محمد اوران کی ساتھیوں نے انتھک اور جانفشانی کی حد تک بلوچ نیشنل فرنٹ کو فعال کرنے کے لئے کوششیں کی جب کہ میں ہدہ جیل میں تھا کہ قلات میں آغا الطاف کے گھر میں منعقد ہونے والے اجلاس میں زاہد بلوچ نے بلوچ وطن موومنٹ اور بلوچ رائٹس کونسل کو مشترکہ اتحاد سے نکالنے کے لئے تجویز سامنے لایا جب کہ بشیر عظیم بھی اس سلسلے میں رضامند نہ تھا اور دیگر ساتھیوں نے بھی زاہدکے اس غیر آئینی تجویز کو دوٹوک مستردتے ہوئے کہا کہ ہم کسی ایسے فیصلہ کا متحمل نہیں ہوسکتے جو بلوچ نیشنل فرنٹ کی تقسیم اور انہدام کا سبب بنے اور میر قادر اس وقت جیل میں ہیں اور بلوچ نیشنل فرنٹ کے بابت ان پر درجن بھر مقدمات ہیں اور ان کی پارٹی اور بلوچ رائٹس کونسل کو کس جواز کے تحت فرنٹ سے نکالنے کی تجویز سامنے لا یا جارہا ہے جب کہ زاہد بلوچ نے کہا کہ یہ نہ صرف بی ایس اور آزاد کا فیصلہ ہے بلکہ بی این ایم بھی اس سے متفق ہے تو اجلاس میں شریک ساتھیوں نے کہا کہ ہم سوچ رہے تھے کہ آپ فرنٹ کو زیادہ منظم اور مستحکم کرنے کی کوئی جامع حکمت عملی وضح کروگے اور اجلاس طلب کرنے کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ فرنٹ کو فعال کیا جائے لیکن آپ پھر تقسیم اورپھوٹ ڈال رہے ہو ایسی صورت میں فرنٹ کی کوئی آئینی جواز باقی نہیں رہ سکتا کہ آپ فرنٹ کی نام پر سیاست کریں کیونکہ فرنٹ چھہ جماعتوں کی مشترکہ اتحاد ہے اور یہ لوگ فرنٹ کے باقائدہ ایگزیٹو کمیٹی کے ممبر اور مرکزی کابینہ کے عہدیدا ر ہے اسطر ح کے طفلانہ فیصلہ سے بلوچ عوام کے درمیان اچھا تاثر نہیں جائے گا لوگوں کا اعتماد جس مشکل سے جیتا جاتا ہے اس کو آپ پھرسے کھونے کے راستہ پر جارہے ہو بحرحال زاہد کی ہٹ دھرمی برقرار رہی اور ہمارے خلاف ان کی سازشوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری رہی جب کہ انہوں نے بی آرپی کے رہنماء بشیر عظیم کے پاس جاکر پھر سے ان تجاویز کو ان کے سامنے رکھ دیا جب کہ بی آرپی کی اپنی پارٹی وجوہات تھی کہ وہ اس اتحاد میں مزید چلنے کے بجائے فرنٹ کی اتحاد سے نکل گیا جب کہ ان کے لئے مزید میداں صاف ہوگیا اور انہوں نے فرنٹ کا دستار اپنے سر پر سجانے کے لئے دو فردی اجلاس طلب کرکے ہمارے خلاف نام نہاد فیصلہ صادر کرکے بلوچ وطن موومنٹ اور بلوچ رائٹس کونسل کوفرنٹ سے الگ کرکے میڈیا کو خبرجاری کردیا اور اس طرح وہ دو پارٹی رہ گئے جواب تک’’ بلوچ نیشنل فرنٹ‘‘ کے نام سے اپنی ساکھ بحال کرنے کی کوشش کررہے ہیں ڈاکٹر منان اس غیر آئینی اتحاد کے خود ساختہ چیر مین کے عہدہ اور زاہدسیکریٹری جنرل کے عہدوں کو اپنے لئے چن کردوفردی اجلاس میں انہوں نے خود کو چیرمیں اور سیکریٹری جنرل کے عہدوں پر منتخب کرکے اس مصداق کی مانند کہ من ترا حاجی بگویم تو منا ملا بگویم تو اس طرح مشہور ہونے والی کہانی کو پھرسے دہرایاجب کہ بلوچ بارنے زاہد او ر منان کے اس غیر آئینی فیصلہ کے خلاف احتجاجا فرنٹ سے علیحدگی اختیار کرکے واضح کیا کہ فرنٹ اب وجود نہیں رکھتی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس وقت جب بلوچستان بھر میں فرنٹ کی جانب سے جلسوں کا انعقاد کیا جارہا تھابلوچ نیشنل فرنٹ کے نام پر جو سرگرمیان جاری تھی تیزی سے ہم اور ہمارے ساتھی سیاسی سرگرمیوں کو جاری رکھے ہوئے تھے ہم ان لوگوں سے پوچھنے میں حق بجانب کہ منا ن زاہد اور خلیل اس وقت کہا ں تھیں جن مشکلات میں ساتھی کام کررہے تھے سردی گرمی دھوپ اور تکالیف اور انجام کا پرواہ کئے بغیر ہم زمین پر موجود تھے لیکن یہ لوگ کہاں تھیں وہ کیوں اس وقت پر اسرار طور پر غائب تھے پورے بلوچ قوم جانتا ہے کہ فرنٹ کو فعال کرنے میں کس نے کردار اد کیا جلیل ریکی اور ثنا ہ سنگت کو شہید کردیئے گئے صادق رہیسانی پر مقدمات قائم کئے گئے میرے اوپرصرف اور صرف’’ بلوچ نیشنل فرنٹ‘‘ کے سلسلے میں کل12مقدمات تھے جن میں تین کیسز ختم ہوگئے ہیں اور باقی کیسز میرے اوپر اب بھی عائد ہے میرے وکیل ظاہر بلوچ اس کا گواہ ہے کہ باقائدہ ریاستی خفیہ ادارے کے لوگوں نے ان جلسوں کی سیڈیز اور میرے تقریروں کی ویڈیو ریکارڈنگ عدالت میں پیش کی تھی میرے اوپر تین فوجداری کے مقدمہ تھیں لیکن عدم ثبوت کے وجہ سے وہ ختم ہوگئے باقی سیاسی کیسز اب بھی میرے اوپر قائم ہے میں اپنے قربانیوں کا ذکر کرکے اس سلسلے میں نہ کسی پر احسان کررہاہوں اور نہ ہی اپنی قربانیوں کا ذکر اس لئے کررہاہوں کہ میں نے بڑی قربانی دی ہے یا اس سے کوئی جذباتی بلیک میلنگ مقصود ہے بلکہ میں اس لئے دہرارہاہوں کہ جس بلوچ نیشنل فرنٹ کو فعال کرنے کے لئے ہم نے اپنی ہر چیز داؤ پہ لگائی تین سال سے زائد قید بھگتا گھر بار سب کچھ داؤ پہ لگا یا اس کا صلہ ہمیں فرنٹ سے نکالنے کی صورت میں دیا گیاحالانکہ میں جیل ہی میں تھا اس کال کوٹھڑی میں جب مجھے یہ خبرملا تو مجھے اسی وقت ان لوگوں کی نیت پر شک ہوگیا ان کے مشکوک اور دہرے کردار نے مجھے حیران کردیا کہ یہ لوگ کیا کرنے جارہے ہیں ان لوگوں کی کردار اس وقت مزید واضح ہوگیا کہ جب ہمارے پارٹی کے سیکریٹری جنرل غلام اللہ کو شہید کیا گیااور نثار بلوچ کی مسخ لاش ہمیں ملی لیکن بد نیتی کی انتہا کہ وہ ان شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنا تو درکناران کی حراستی قتل کی مذمت کرنے کو بھی گوارا نہیں سمجھاحالانکہ شہداء کسی پارٹی کے نہیں قوم کے ہوتے ہیں اگر چہ ان کی وابسطگی کسی پارٹی سے ہوتا ہے لیکن وہ قومی شہید کہلائے جاتے ہیں صرف میں ہی نہیں بلکہ دیگر ساتھیوں کیساتھ معاملہ بھی یہ تھا وہ میدان میں تھے لیکن خلیل منان اورزاہد اس وقت مشکے اور آواران کی جھگیوں میں خود کو چھپائے ہوئے تھے اور ضیافتیں اور دعوتیں اڑارہے تھے ہمیں نکالنے کا ان کے پاس کیا جواز تھا یا بلوچ نیشنل فرنٹ میں ان کی حیثیت کیا تھی کیا دوفردی فیصلہ قابل قبول ہے کیا چھ پارٹیوں پر مشتمل اتحاد کا جس کا باقائدہ آئینی ادارہ موجود تھا اس سے ہٹ کر دوفردکی مشاورت یا سازش کہیں ان کافیصلہ کس طرح قابل قبول ہے انہیں فیصلہ کا حق نہ فرنٹ کا دستور دیتا تھااور نہ ہی ان کے پاس کوئی اور جواز بلکہ انہوں نے فرنٹ کے قوائد و ضوابط کے خلاف ورزی کرکے اپنی آمرانہ ہٹ دھرمی کے زریعہ فرنٹ کو ختم کردیا فرنٹ چھہ زندہ پارٹیوں کااتحاد تھا جسے ان لوگوں نے ختم کردیا ہم نے ابتدائی میں میڈیا کو اپنی پارٹی پالیسی جاری کردی کہ بلوچ نیشنل فرنٹ کے نام سے جس اتحاد کا نام لیا جارہا ہے اس کی آئینی اور زمینی جواز کچھ نہیں فرنٹ کے نام پر اب کوئی اتحاد حقیقت نہیں رکھتی جو لوگ فرنٹ کا نام لے کر اپنی ساکھ بچار ہے ہیں پوری قوم آزادی پسند بلوچ زانت کار کالم نگار سب فرنٹ کو قومی ادارہ یا قومی اتحاد تسلیم نہیں کرتے کیونکہ اول تو یہ اتحاد باقی نہ رہا دوسری بات یہ کہ بلوچ نیشنل فرنٹ کے نام کو ایک گروہ کے لئے استعمال کرکے ایک عسکری تنظیم کے سیاسی ونگ کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے فرنٹ کے تقسیم کاجس طرح براہمدغ زمہ دار ہے عین اس کی تقسیم و تحلیل میں ڈاکٹر اللہ نذ ر کا بھی ہاتھ ہے کہ انہوں نے ان لوگوں کی نہ صرف اس عمل کی مزمت نہیں کی بلکہ انہیں صحیح مشورہ دینے سے بھی پرہیز کیا بلکہ ان کے تمام گناہوں پر پردہ ڈال کر ان کی بھر پور حمایت کی اور ان کے غلط فیصلوں کو بسر و چشم قبول کیا اور اپنی دست و شفقت فضیلت اور مہربانیوں کی زریعہ ان لوگوں کی حوصلہ افزائی کی جو ان کی قائدانہ کردار کو بھی متاثر کرنے کا سبب بنی ہے جب کہ ڈاکڑ اللہ نذر نے ان کو مشورہ دیا تھا کہ ان پارٹیوں پر دباؤ ڈالو کہ یہ بی این ایم میں ضم ہوجائیں جب کہ ہم ان کی بلیک میلنگ اور دباؤ کو خاطر میں نہیں لائے تو انہوں نے ہمیں فرنٹ سے خارج کردی جب کہ اگر اتحاد وں کا صحیح معنی میں جائزہ لیاجائے تو بلوچستان میں سہ فریقی جماعت ،سندھی بلوچ پشتون فرنٹ یا پھرپونم کا مثال ہمارے سامنے ہیں کہ یہ نام صرف یاد ماضی بن گئے ہیں ان کی کوئی زمینی وجود باقی نہیں رہی کیونکہ جب اتحاد وں سے پارٹیاں نکل جاتی ہے تو ان الائنسز کے نام کا استعمال کوئی جواز نہیں رکھتے ابھی ان ناموں کو اکیلے بی این پی یا پشتوں خواہ یا دودسرے اور پارٹی استعمال کرکے زندہ نہیں کرسکتے اگر وہ ایسا کریں تو یہ ان کی دیوانگی اور ان کی سیاسی ناپختگی ہوگی کیونکہ الائنس اور پارٹی میں فرق ہوتا ہے جب کہ فرنٹ سے چار پارٹیوں کے انخلاء کے باوجود اس کا نام کس قانوں اور جواز کے تحت استعمال کیا جارہا ہے بے شک بی این ایم یا بی ایس او آزاد فرنٹ کے بجائے اپنی اتحاد اور یکجہتی کو دوسرے نام کے ساتھ استعما ل کریں ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا اور دوسری بات کہ منہدم نیشنل فرنٹ کا نام استعمال کرکے اسے قومی ادارہ ظاہرکیا جانا کیاخودکو دوسرے پارٹیوں اور تنظیموں پر فوقیت دیکر چال چلانے کی ناکام کوشش نہیں اس دانستگی کے ساتھ تحریک کے باقی سٹیک ہولڈز رہنماء اور پارٹیوں کے خلاف خود کو فوقیت دیکر کیا تاثر دیا جارہاہے ان کا یہ عمل یہ دیکھ کیا سمجھا جائے کہ وہ آزادی کی جدوجہد کررہے ہیں یا آزادی کی تحریک میں بگاڑ پیدا کررہے ہیں جس قومی ادارہ کا تاثر دے کر وہ بھڑک بازیاں کررہے ہیں میں تو سمجھتا ہوں کہ بلوچ قوم کے پاس اب تک ادارہ نہیں تنظیمیں یا پارٹیاں ہیں لیکن تاحال بلوچ قوم کے پاس ادارہ نہیں ادارہ یا انسٹیوٹ کا دعوی کرنے والے یہ لوگ ٹوٹے ہوئے بی این ایف کے نام پر قوم کو دھوکہ دے رہے ہیں اب جب کہ مجموعی طور پر ان پر تنقید کی جارہی ہے کہ وہ فرنٹ کا نام استعمال نہ کریں یا گروہی یا علاقائی سیاست کے بجائے قومی سیاست کے فروغ کے لئے کام کریں لیکن ان کی جانب سے مسلسل حقیقی نقطہ نظر کے خلاف مثبت جواب نہیں ملا بلکہ مختلف ناموں سے جعلی پہچان کے ساتھ وہ غیر سیاسی لہجہ استعمال کررہے ہیں اور میر حیر بیار سمیت حقیقی بلوچ دانشور وں اور پارٹیوں کے خلاف سوشل میڈیا میں باقائدہ محاذ کھول کر دو نمبری پر اتر آئے ہیں لیکن اب تک ان کی جانب سے اخلاقی جرائت کا مظاہرہ نہیں کیا گیا اب تک تو کھبی شکاری ازمائیل کے نام پر کھبی شیر جان اور کھبی مست توکلی کے نام پر سیاسی بحث و مباحثہ کے بجائے یہ گالی گلوچ کے زریعہ اپنا اظہا کررہے ہیں ایسے بچگانہ زبان استعمال کی جارہی ہے جس کی جرائت اب تک نیشنل پارٹی اور بی این پی بھی نہ کرسکے کیا ڈاکٹر اللہ نذر اپنے حلیفوں کی ان حرکتوں کو نہیں دیکھ رہا کہ وہ اب تواتنے گھرے ہوئے حرکت کررہے ہیں کہ تحریک کے ساتھیوں کی مخبری کرکے ریاست کو بھڑائی دے رہے ہیں اور قومی قائد میر حیر بیار مری کے خلاف جو زبان درازی کررہے ہیں کیا یہ سب اللہ نذر سے پوشیدہ ہے جب کہ ایسا نہیں یہ سارے عمل اور کردار کشی پر مبنی طرز وعمل ایک منظم منصوبہ کا نشان دہی کرتاہے جب کہ بلوچ سالویشن فرنٹ کے خلاف ان لوگوں کا طرز و عمل بھی دیدنی ہے کہ وہ اسے دو فردی قرار دے کر جو منافقانہ تنقید کررہے ہیں وہ حقیقت کا علم رکھتے ہوئے کہ بلوچ سالویشن فرنٹ تین تنظیموں کا اتحاد ہے اس میں بلوچ لبریشن پارٹی بلوچ وطن موومنٹ اور بلوچ گہار موومنٹ شامل ہے یہ پارٹیان باقائدہ آرگنائزنگ کمیٹی اور کابینہ کی شکل میں تنظیمی سٹرکچر بھی رکھتے ہیں بلوچ لبریشن پارٹی کے شال زہری اور قلات میں باقائدہ زونل آرگنائزنگ کمیٹیز موجود اور فعال ہے اسی طرح بلوچ گہار موومنٹ جو نوشکی اور خضدار میں باقائدہ زونل آرگنائزنگ کمیٹی رکھتے ہیں اور کام کر رہے ہیں اسی طرح بلوچ وطن موومنٹ کے شال زہری اور مستونگ میں زونل کابینہ موجود ہے جب کہ الیکشن بائیکاٹ کے خلاف بلوچ سالویشن فرنٹ رخشان اور جہالاواں سمیت سراوان کے بعض علاقوں میں الیکشن کے خلاف مہم چلائی چاکنگ کی اور پمفلٹ تقسیم کی حتی کہ پنجگور اور تربت میں بھی بلوچ سالویشن فرنٹ کے پمفلٹ تقسیم کئے گئے کیا یہ کا م صرف دو فرد کرسکتے تھے ہم بڑے دعوی نہیں کرتے کہ ہم بڑے پارٹیاں ہیں ہمارا تحریک میں ایک چھوٹی سی کنٹریبیوشن ہے ہم بی این ایف کی طرح بھڑک بازی نہیں کرتے اور نہ ہی قومی پارٹی کی دعویدار ہے بی این ایف کے دیئے گئے حالیہ ہڑتالز کی کالزپر جہالاوان کے اکثر علاقوں میں کھبی بھی دکانیں بند نہ ہوئے جب کہ 27 مارچ کے شٹرڈاؤن ہڑتال کی بلوچ سالویشن فرنٹ کی کال پر خضدار سمیت قلات سوراب زہری مستونگ نوشکے منگچر مچھ سبی اورشال کے بلوچ آبادی والے علاقوں میں مکمل ہڑتا ل رہی بی این ایف کے نام استعمال کرنے والوں کے آنکھ کھل جانی چاہیے کہ انہیں ایسے بے بنیاد تنقید کے بجائے انہیں مثبت رول ادا کرنی چاہیے اسی طرح قومی قائد میر حیر بیار مری کے خلاف وہ جس نہج پر کام کررہے ہیں یا ہماری سیاسی و اخلاقی حمایت پر وہ حواس باختہ ہیں جب کہ میر حیر بیار کے ساتھ ہمارا ایک کمٹمنٹ ہے عقیدہ نہیں ہم ہر سطح پر ان کی اخلاقی و سیاسی حمایت جاری رکھیں گے وہ قومی تحریک کی بنیاد ہے ان کی قومی کردار کے حوالہ سے ہمارا حق بنتا ہے کہ ان کی سیاسی و اخلاقی حمایت کریں وہ آج سے نہیں پچھلے پندرہ سالوں سے مسلسل تحریک کے لئے کا م کررہاہے وہ اپنے شب روز تحریک کو دیئے ہیں وہ ایک فرد نہیں بلکہ قومی تحریک کی نمائندہ ہے اسے فرد کہنے والے موندھے ہوئے آنکھوں سے نہیں کھلے آنکھوں سے ان کی تحریک میں مقام اور کردار کا جائزہ لیں وہ نہ کسی گروہ کانمائندہے نہ کسی پارٹی کا نمائندہ بلکہ وہ بلوچ قومی تحریک کی نمائندہ ہے وہ ایک غیر متنازعہ کردار ہے میر حیر بیار کے حوالہ سے بی این ایف کی بھڑک بازوں کی
جانب سے سرکس کے شیر کا لفظ کا استعما ل کرنا ان کی طفلانہ بیماریوں کی ایک اور واضح علامت ہے یہ لوگ اب اتنے گھرے ہوئے ہیں کہ وہ حقائق کا سامنا کرنے کے بجائے اپنی غیر سنجیدہ رویوں سے اپنی کردار کو مزید مشکو ک کردیا ان کے اس الفاظ کے جواب میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ اگر یہ سرکس کا شیر ہے تو پھر جنگل کا شیر بھی کوئی نہیں تم سارے گیدڑ
کیونکہ شیر کھبی گیدڑ کا چال مستعار میں بھی نہیں لیتا شیر روبرو ہو کرمقابلہ کرتا ہے اور تم گیدڑ بن کرجعلی پہچان کا سہارا لیتے ہو


