×

جدوجہد آذادی تمام تر مشکلات اور سفر کے سختیوں سے گزر کر آج جس مقام پر پہنچ کر بلوچ قوم کی امیدوں کا مرکزومحور بن چکاہے ان میں بلوچ شہداء اور قوم کے بہادر فرزندوں کا کلیدی کردار رہاہے۔ بلوچ سالویشن فرنٹ

جدوجہد آذادی تمام تر مشکلات اور سفر کے سختیوں سے گزر کر آج جس مقام پر پہنچ کر بلوچ قوم کی امیدوں کا مرکزومحور بن چکاہے ان میں بلوچ شہداء اور قوم کے بہادر فرزندوں کا کلیدی کردار رہاہے۔ بلوچ سالویشن فرنٹ

بلوچ وطن موومنٹ بلوچستان انڈیپینڈینس موومنٹ اور بلوچ گہار موومنٹ پر مشتمل الائنس بلوچ سالویشن فرنٹ کے ترجمان نے جاری کئے گئے اپنے ایک بیان میں شہید رسول بخش مینگل شہید طور خان سیلاچی اور شہید شاہ میر بلوچ کو یاد کرتے ہوئے ان کی والہانہ جدوجہد اور قربانیوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ شہداء نے آزادی کے قربان گاہ پر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے قوم کو ریاستی غلامی کے خلاف راستہ اور حوصلہ دیتے ہو ئے آخری سانس تک جدوجہد کی ان کی فکر و فلسفہ پورے بلوچ قوم کے لئے مشعل راہ ہے ترجمان نے کہاکہ جدوجہد آذادی تمام تر مشکلات اور سفر کے سختیوں سے گزر کر آج جس مقام پر پہنچ کر بلوچ قوم کی امیدوں کا مرکزومحور بن چکاہے ان میں بلوچ شہداء اور قوم کے بہادر فرزندوں کا کلیدی کردار رہاہے آج جب ہم شہداء کی یاد دہراتے ہیں تو ہمارے لئے انہیں یاد کرنے کا بہتریں روایت اور طریقہ یہ ہے کہ آزادی کے جدوجہد کے ساتھ بھر پور وابستگی اور عزم کی سوگند کو دہرائیں انہوں نے اپنا لہو گروہیت اور علاقائیت کی سیاست کے لئے نہیں بہائے بلکہ وہ آزادی کے قومی سوچ سے لیس ہوکر اپنی جانیں چ قوم کی آزادمستقبل کے لئے نچھاور کی شہید رسول بخش مینگل جسے ریاستی اداروں نے اغواء کرکے ان کی لاش کو مسخ کرکے ان کو جسم پر تیز دھار آلے سے آزادی مخالف نعرے لکھے اور انہیں شدید تشدد اور ازیت کے بعد شہید کیا لیکن شہید نے عظیم قومی مقاصد کی خاطرتمام تر تشدد اور ازیت کا سامناء کرتے ہوئے آزادی کے مقدس جدوجہد پر کسی قسم کی آنچ نہیں آنے دی

ریاست بلوچ شہداء کے اس کمٹمنٹ کو دیکھ کر آج بلوچستان میں اپنی وجودکو خطرہ میں محسوس کرکے بڑے پیمانے پربلوچ قوم کی نسل کشی کا سلسلہ تیز کردیا ہے تاکہ دہشت اور خوف کا ماحول پیداکر کے بلوچ قوم کے حوصلوں کو پست کیا جاسکے لیکن بلوچ قوم کو اس بات کا احساس اور شعور ہے کہ قر بانی کے بغیر آزادی کا حصو ل نا ممکن ہے قربانی کے بغیر کوئی بھی مقبوضہ قوم اپنی شناخت اور آزادی کو حاصل نہیں کرسکتا بلوچ شہداء نے اپنی عمل و جدوجہد سے ثابت کردیا ہے کہ قربانیاں اور تکالیف آزادی کے لئے راہ ہموار کرتے ہیں جو لوگ بلوچ قوم کی قربانیوں کو خودکشی سے تعبیر کرکے عوام میں مایوسی پھیلانے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں وہ ریاستی باج گزار ی اور خدمت کررہے ہیں ترجمان نے کہاکہ گزشتہ دنوں آواراں میں ایک عبادت گاہ پر حملہ کرکے معصوم بلوچ فرزندوں کو خون سے لہو لہاں کردیا گیا جو قابل مذمت ہے بلوچ معاشرہ میں مذہبی منافرت اور تعصب کی کوئی گنجائش نہیں ایسے تمام تر دہشت گردانہ حملوں کا مقصد بلوچ سماج کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم اور تفریق پیدا کرنی کی مجرمانہ کوشش ہے ترجمان نے کہاکہ پورے دنیا میں جبری گمشدگیوں کا دن منا یا جارہاہے لیکن اس دن کو منانے کا مقصد انسانی حقوق کے خلاف ورزیوں کی مرتکب افراد اور ریاستوں کے خلاف کاروائیوں کے لئے تجدید عہد کے طور پرمنا یا جانا چاہیے لیکن محض علامتی طور پر اس دن کی منانے اس کے تقاضے پورے نہیں ہوں گے ترجمان نے کہاکہ بلوچستان میں انسانی حقو ق کے خلاف ورزیوں کا سلسلہ 1948سے جاری ہے لیکن اقوام متحدہ اور انسانی حقو ق کے علمبردار تنظیمیں انسانی حقو ق کے نمائشی دعویداری سے ہٹ کر کردار ادا کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں اقوام متحدہ کے اس دوہرے کردار سے بلوچ قوم کو اعتماد سے ٹھیس پہنچا ہے ترجمان نے کہاکہ مہذب اقوام اور قوم دوست انسان دوست ممالک خطہ کی حساسیت کا احساس کرتے ہوئے بلوچ وطن پر جبری قبضہ اور بلوچستان میں انسانی حقوق کے خلاف ورزیوں پر زبان بندی کے بجائے بلوچستان میں ریاستی دہشت گردی کی مذمت کریں

Previous post

شہدائے تراتانی کے قربانی خلوص اور لہو سے آزادی کی تحریک کی آبیاری ہوئی ہیں اگر چہ آج ہم قومی آزادی کی جدوجہد میں ان کی جسمانی کمی محسوس کررہے ہیں لیکن ان کی سوچ فکر علم اور شعورء آزادی ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔ بلوچ سالویشن فرنٹ

Next post

آوارن میں بلوچ فرزندوں پر پاکستانی فورسز کی جانب سے حملہ اور اسے مذہبی رنگ دینا بلوچستان میں پاکستانی فوج کی شکست اور بوکھلاہٹ کو ظا ہر کرتا ہے ان میں اتنا غیرت بھی نہیں ہے کہ اس کی ذمہ داری قبول کریں