ریاستی دہشت گردی بلوچ قومی آزادی کے مطالبہ کو کمزور نہیں کرسکتے مڈل کلاس کے زریعہ بلوچستان میں ریاست کی ساکھ اور تسلط کو برقرار رکھنے کی قبضہ گیر کی مصنوعی اور غیر فطری حربے کارگر ثابت نہیں ہوں گے بلوچ سالویشن فرنٹ
6.6.2013
بلوچ وطن موومنٹ بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ اور بلوچ گہار موومنٹ پر مشتمل الائنس بلوچ سالویشن
فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ریاستی دہشت گردی بلوچ قومی آزادی کے مطالبہ کو کمزور نہیں کرسکتے مڈل کلاس کے زریعہ بلوچستان میں ریاست کی ساکھ اور تسلط کو برقرار رکھنے کی قبضہ گیر کی مصنوعی اور غیر فطری حربے کارگر ثابت نہیں ہوں گے مڈل کلاس ریاست کے وظیفہ خور طفیلئے اور گماشتہ ہیں قبضہ گیر کی دلالی اور قدم بوسی کی ذریعہ قربتیں اور مراعات حاصل کرکے اپنی تاریخ وطن حیثیت اور جغرافیہ سے صرف نظر قبضہ گیر کی کاسہ لیسی بلوچ قوم کی نمائندگی اور رہنمائی نہیں بلکہ بلوچ قوم سے مکمل دشمنی اور دغابازی ہے ترجمان نے کہا کہ شہید ظہیر انور بلوچ شہید امان اللہ مینگل اور شہدائے کابوکی جرائت اور جدوجہد آزادی اور غلامی کے آلودگیوں کو مٹانے کی سعی ہمارے لئے مشعل راہ ہے انہیں ان کی قربانیوں اور آزادی کے لئے کوششوں تکلیفوں اور عملی جدوجہد کی پیش نظر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اس حقیقت کو یقینی سمجھتے ہیں کہ آزادی ماسوائے قربانیوں کے کسی کو نہیں ملتی قربانیاں اور تکلیفیں ناگزیر طور پر قبضہ اور تسلط کی بنیادوں کو ہلاتی ہے ترجمان نے کہا کہ پورے بلوچ وطن میں قبضہ گیر کی جانب سے دہشت گردی کی جارہی ہے سول آبادیوں کو ہراسان اور زہنی تکلیف کے ساتھ ساتھ تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے خواتین اور بچوں کو مارا پیٹا جارہا ہے گھروں کی تقدس کی پائمالی گھروں کو جلایا جارہاہے گزشتہ دنوں تمپ میں قران مجید کو پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جلانے کے عمل پر علماء حق کے دعوی کرنے والوں کی دعوی پاکستانی فوج کی سامنے جھاگ کی طرح بیٹھ گئی کوئی معمولی احتجاج بھی نہیں کیا گیا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریاست کو قبول کرنے والے کٹھ پتلی سیاست دان وظیفہ خور دانشور اور ملاء سب قبضہ گیر کی بی ٹیم کا کردار ادا کررہے ہیں اور بلوچ خون بہانے کے اس عمل پر براہ راست راضی ہے جو ان کی اسلامی لبرل اورترقی پسندی کی تمام مجرمانہ دعوی اور بلوچ قوم کے ساتھ جھوٹی ہمدردی کا پردہ فاش کردیا ہے ترجمان نے کہا کہ بلوچ قوم کی جنگ کسی ایک فرد یا شخص کے خلاف نہیں بلکہ دشمن کے تمام وجود کے خلاف ہے جو ان کو اسلام سیاست لبرل ازم اور کئی ایسے روپ سے سپورٹ کررہے ہیں اور بلوچ قوم کے بجائے اپنی تمام تر مجرمانہ اور منافقوں ہمدردیوں کے ساتھ ان کے صف میں بلوچ قوم کے خلاف کھڑے ہیں اور آج انہیں پتلی تماشا بناکر جو اقتدار دیا جارہا ہے وہ بلوچ وطن کی دلالی کی عوض ان پر قبضہ گیر مہربان ہوچکے ہیں جب کہ بلوچ مڈل کلاس سمیت کسی بھی پارٹی یا شخص کو اس بات کی اجازت نہیں دیا جاتاکہ وہ بلوچ آزادی کی مطالبہ کے برخلاف بلوچ جدوجہداور قومی موقف کو غلط انداز میں پیش کرے اس کی کوئی بھی حیثیت و مرتبہ ہو لیکن یہ ان کا یہ عمل انہیں بلوچ دشمنوں کی صف میں کھڑا کرچکا ہے ترجمان نے کہا کہ بلوچ قوم کو مسلمانیت اور پاکستانیت کے درس دینے والے جو تاریخ کو مسخ کرکے ہمیں مسلمانیت تہذیب اور تمدن کا سبق پڑھارہے ہیں کے ان کے منہ پر مہر گڑھ میں پہلی انسانی تہذیب کا ثبوت زبردست طمانچہ ہے کہ بلوچستان کتنی قدیم اور عظیم اور اس کے ساتھ کتنی مالدار زمین ہے بلوچ قوم کی مصنوعی غربت کا موازنہ سرزمین کے سینے میں چھپے ان خزانوں سے کیا جائے تو اندازہ ہوگا کہ بلوچ قوم کی یہ حالت کیوں ؟ اور یہی وجہ ہے کہ قبضہ گیر بلوچ قوم کا بے بہا خوں بہاکر اس سرزمیں کو اپنی معاشی فوجی کاروباری اور تجارتی اور بین الاقوامی تعلقات اور ضروریات کے لئے ہمیشہ کے لئے ہتھیانا چاہتا ہے اور بلوچستان میں اپنے کاسہ لیسی کے لئے دلالی کے عوض جو اربوں کھربوں روپیہ جو مڈل کلاس کی جھولی میں دی جارہی ہے وہ بھی اسی سرزمین کے آمدن سے دیا جاتاہے لیکن اب بلوچ تحریک نے ریاست کے لئے سازگار حالات کو ناساز بنادیا ہے قبضہ گیر کسی بھی کروٹ اور چال کے زریعہ بلوچ آزادی کی تحریک کو کمزور نہیں کرسکتے اور نہ ہی ریاستی دہشت گردی تحریک میں فرسٹیشن اور بے یقینی پیدا کرسکتی ہے بلکہ شہادتوں اور قربانیوں اور تکلیفوں سے آراستہ جدوجہد بلوچ قوم کے حوصلوں اور جذبوں کو زندہ رکھاہے بلوچ قوم کو چاہیے کہ وہ اٹھے اور ان غاصبوں کے خلاف جدوجہد کریں جن کی باہم اشتراک سے بلوچ تحریک آزادی پر حملہ کیا جارہاہے ان کے خلاف اپنی وطن کی آزادی میں ایک دوسرے کا ہاتھ بھٹائیں ایک دوسرے کا بازو بن


