×

ریاست اپنی طاقت اور فوجی وسائل کے بلبوتے پرجنگی قوانیں او اخلاقی قدروں سے مکمل طور پر محروم بلوچ عوام کے خلاف بے پناہ جارحیت کررہاہے لیکن جارحیت اور تشدد سے بلوچ قوم کی جذبہ قربانی اور آزادی کی موقف کو کمزور نہیں کیا جاسکتا۔ بلوچستان انڈیٌپینڈنس موومنٹ

ریاست اپنی طاقت اور فوجی وسائل کے بلبوتے پرجنگی قوانیں او اخلاقی قدروں سے مکمل طور پر محروم بلوچ عوام کے خلاف بے پناہ جارحیت کررہاہے لیکن جارحیت اور تشدد سے بلوچ قوم کی جذبہ قربانی اور آزادی کی موقف کو کمزور نہیں کیا جاسکتا۔ بلوچستان انڈیٌپینڈنس موومنٹ

بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کئے گئے بیان میں تمپ گومازی بالیچہ اور پھل آباد میں ریاستی فورسز کی جانب سے غیر مسلح اور نہتے بلوچ آبادیوں پریلغار فضائی اور زمینی کاروائیوں کوریاستی دہشت گردی اور کاؤنٹر انسر جنسی کا تسلسل قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ زرائع کے مطابق تمپ اور گردنواح میں ریاستی فورسز کی جانب سے بلوچ شہری آبادیوں کو نشانہ بناکرگن شپ ہیلی کاپٹروں کے زریعہ شیلنگ کرتے ہوئے اب تک تین معصوم بلوچوں کو شہید اور کئی گھروں کو تباہ کیا گیا ہے جبکہ پورے شہر کو محاصرہ میں رکھ کرکاروائیوں کا سلسلہ جاری ہے ترجمان نے کہاکہ ریاست اور اس کے تمام ادارے ایک ہی ایجنڈہ کے ساتھ بلوچ قوم کی نسل کشی کررہے ہیں بلوچ قوم ریاست کے کسی بھی ادارے کو ریاستی دہشت گردی سے بری الذمہ قرار نہ دیں ریاست کی پوری مشینری اور اس کے حاشیہ بردار بلوچ قومی آزادی کے تحریک کے سامنے رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرر ہے ہیں ترجمان نے کہاکہ ریاست بلوچ سماج میں پنپتے آزادی کی رجحان سے گھبرا کر عام آبادیوں کو نشانہ بنارہی ہے بلوچ عوام ہمیشہ آزادی کی جدوجہد میں ہمیشہ اگلی صفوں میں رہی ہے اور قربانیاں دی ہے اس پیمانے کی وحشیانہ اور جنگی جرائم پر مبنی کاروائیوں کے زریعہ بلوچ قوم کے حوصلے کمزور نہیں کیا سکتا ریاست نوشتہ دیوار پڑھ لیں کہ آزادی کی تحریکوں اور عوامی جذبوں کا مقابلہ دہشت گردی سے نہیں کیا جاسکتا

ترجمان نے کہاکہ ریاست اپنی طاقت اور فوجی وسائل کے بلبوتے پرجنگی قوانیں او اخلاقی قدروں سے مکمل طور پر محروم بلوچ عوام کے خلاف بے پناہ جارحیت کررہاہے لیکن جارحیت اور تشدد سے بلوچ قوم کی جذبہ قربانی اور آزادی کی موقف کو کمزور نہیں کیا جاسکتا بلوچ قوم ریاست کے کسی بھی ہتکھنڈے کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اپنی آزادی کے لئے تکالیف اور مصائب کا سامنا کرتے برابر یہ سفر اپنی زندگیا ں داؤ پہ لگا کر جاری رکھے ہوئے ہیںیہ کوئی ناراضگی یا کسی تیسرے درجہ کے مطالبہ کا سوال نہیں یہ آزادی کی جدوجہد ہے اور آزادی کے بغیر ریاست اور بلوچ کے مابیں کوئی تیسراتنازع نہیں ترجمان نے کہا کہ آزادی کے لئے دنیا کے تمام قوموں نے قربانیاں دیں کانگو کے ایک لاکھ شہریوں نے اپنی زندگیاں نچھاور کی ہندوستا ن ویت نام کیوبا اور دنیا بھر کی آزادی کی تحریکیں قربانیوں کے مثال ہے بلوچ قوم بھی قربانیوں کے اگلی صفوں میں ہے ریاست بلوچوں سے یہ توقع نہ کریں کہ قبضہ کے ردعمل میں بلوچ خاموش تماشائی بن کر غلامی کی ذلت آمیز زندگی کو اپنی پیدائشی حق سمجھ کر اپنی دفاع نہ کریں بلوچ قوم کی تاریخ میں تابعداری جی حضوری اور قبضہ گیر کی قصیدہ خوانی کی مجموعی طور پر کوئی مثال نہیں ملتی بلوچ قوم ہر حملہ آور کے خلاف اپنی وطنی اور قومی دفاع کے لئے ہمیشہ جدوجہد کی ہے اور آج بلوچ قوم اسی تسلسل کو جاری رکھتے
ہوئے نظریاتی و شعوری بنیادوں پر جدوجہد کررہی ہے

Previous post

آوارن میں بلوچ فرزندوں پر پاکستانی فورسز کی جانب سے حملہ اور اسے مذہبی رنگ دینا بلوچستان میں پاکستانی فوج کی شکست اور بوکھلاہٹ کو ظا ہر کرتا ہے ان میں اتنا غیرت بھی نہیں ہے کہ اس کی ذمہ داری قبول کریں

Next post

دشت گوران میں چھاپہ چادر چار دیواری کی پائمالی اور تمپ گومازی اور گرد ونواح میں آبادی پر فضائی حملہ شیلنگ قتل عام شہید کمبر قاضی سمیت ارشاد مستوئی اور ان کے ساتھیوں کا قتل اور ایک تسلسل کے ساتھ بلوچ قوم کی نسل کشی کاؤنٹر انسر جنسی ہے ۔ بلوچ سالویشن فرنٹ