ریاست بلوچ جہد آزادی سے شکست کھاکر اپنی عسکری برتری ثابت کرنے کے لئے بلوچ نوجوانوں اور آزادی پسند عوام کا بڑے پیمانہ پر بے رحمانہ قتل عام کاسلسلہ شروع کیا ہے
20.8.2013
بلوچ وطن موومنٹ بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ اور بلوچ گہار موومنٹ کے اتحاد بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کے گئے بیان میں کہاہے کہ قابض ریاست بلوچ جہد آزادی سے شکست کھاکر اپنی عسکری برتری ثابت کرنے کے لئے بلوچ نوجوانوں اور آزادی پسند عوام کا بڑے پیمانہ پر بے رحمانہ قتل عام کاسلسلہ شروع کیا ہے ہزاروں نوجوانوں کو اغواء کرکے ان کی مسخ لاشیں پھینکنے کے بعد بھی ریاست کی خونی ہوس کو تسکین نہیں ملی گزشتہ چند دنوں سے ریاست اپنے کاروائیوں کا سلسلہ تیز کرکے اغواء کاریوں اور چھاپوں کو مزید وسعت دے کر شہداء کے جنازوں پر دھاوا بول کر عالمی جنگی قوانیں کے تمام تر اصولوں کو پائمال کر کے جنگی جرائم کررہاہے اس طرح کے اندوہناک واقعات ریاست کی فرسٹیشن اوربوکھلائٹ کو ظاہر کرتی ہے کہ قبضہ گیر جدوجہد آزادی کا سامنا کرنے کے بجائے نہتے اور خالی ہاتھ بلوچ معصوموں پر وار کرکے انہیں حراست میں لے کر شہید کررہاہے اوراب ریاستی ادارے اپنے جارحانہ پالیسیوں میں مزید شدت لاکر ایک منظم منصوبہ کے تحت مغوی بلوچ فرزندوں کے حراستی قتل کو فرضی جھڑپوں کا نام دے کرزمینی حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن فرضی جھڑپوں کے نام پر ریاست اپنی جنگی جرائم کو نہیں چھپا سکتا کیونکہ قبضہ گیر بلوچ وطن پر غیر قانونی طور پر قابض ہے اور انہوں نے بلوچ قوم پر جنگ مسلط کیا ہے اور گزشتہ ساٹھ سالوں سے بلوچ سماج کو خاک و خون میں ڈبو دیا ہے ترجمان نے کہاہے کہ شہید شکور بلوچ شہیدرمضان دشتی شہیدغفور بلوچ شہیدحاجی رزاق بلوچ اور شہیدپھٹان علی بگٹی کا قتل شہادت اور شال میں بلوچ شہری آبادیوں پر چھاپہ اور اغواء نماء گرفتاریوں کا سلسلہ بلوچ نسل کشی اور کاؤنٹر انسر جنسی کا تسلسل ہے اور یہ سب ریاستی مجرمانہ ڈاکٹرائن کے تحت بلوچ قوم کے ساتھ کیا جارہاہے ریاست اور ان کے حاشیہ بردار اپنے بلوچ دشمن ایجنڈے کی تکمیل اور بلوچ تحریک کو سبوتاژ کرنے کی ناکام کوششوں کے ساتھ خونریزی کا سلسلہ تیز کردیا ہے موجودہ حکومت جو مسخ شدہ لاشوں کو بند کرنے کی پہلی ترجیح کی دعوی کرنے والے اب اسی سلسلہ کو فرضی جھڑپوں کا نام دے کر مارو اور پھینکو کے پالیسیوں کے ساتھ زیادہ جارحانہ اور خونریز ہوگیا ہے ترجمان نے کہا ہے کہ گزشتہ دنوں شہید کئے گئے بلوچ نوجوانوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ہم ریاست اور ان کے گماشتوں پر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ بلوچ جدوجہد بغاوت نہیں جنگ آزادی ہے آزادی کے لئے اٹھنے والی تحریکوں کو ریاستی دہشت گردی کے زریعہ کچلا اور ٹھنڈا نہیں کیا جاسکتادنیا میں جتنے بھی تحریکیں رونماہوئی اور انقلابات آئے لامتنائی قربانیوں سے ان تحریکوں کی نشود نماء ہوئی بلوچ قوم بھی نسلوں کی قربانی دے کر جانفشانی اور جرائت مندانہ جدوجہد کے ساتھ بلوچ سماج کو غلامی کی غلاضتوں اور فرسودگیوں سے پاک کرنے کے لئے جدوجہد کررہے ہیں شہداء ہماری تاریخ کے میراث ہیں ان کی والہانہ جدوجہد اور قربانیوں سے بلوچ قومی آزادی کی جدوجہد کو طاقت ملی ہیں ان کی فکر فلسفہ اور خیالات راہ عمل کے لے مشعل راہ ہیں ترجمان نے کہا کہ اقوام متحدہ ریاستی جارحیت اور ان کی جنگی جرائم کے اقدامات پر مکمل خاموش ہے حالیہ خونریز واقعات سے لگتاہے کہ بانکی مون کی آمد اور بلوچ نسل کشی پر ان کی زبان بندی سے ریاست کو شہہ مل گیا ہے ان میں ریاستی دہشت گردی کو روکنے کی توانائی اور سکت نہیں یا تو ان کی خاموشی ان کی نیم رضامندی ہے ہمیں ااقوام متحدہ کے حالیہ کردار پر افسوس ہے کہ وہ انسانی ہلاکتوں اور خونریزیوں کو روکنے بجائے سرمایہ دارانہ اور زہنی غلامی پر مبنی تعلیم کی فروغ کے لئے کوشان ایجنڈے کو انسانیت کے بقاء پر اولیت دے رہے ہیں اقوام متحدہ کا کردار ایک طفیلئے ادارہ کا ہے بلوچ مسئلہ پر ان کی خاموشی ان کی بے بسی کا سنجیدہ اعتراف ہے


