سعیدیوسف بلوچ بحیثیت وائس چیئرمیں بلوچ نیشنل موومنٹ کے بنیادی رکنیت سے استعفی دیدیا
1.1.2013
بلوچ نیشنل موومنٹ کے سابقہ مرکزی وائس چیرمیں سعید یوسف بلوچ بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ میں شامل ہوگئے شامل ہونے والے دیگر ساتھیوں میں اے آر بلوچ شیہک بلوچ اور وحید بلوچ
شامل ہے سعید یوسف بلوچ نے کہا ہے کہ موجودہ بلوچ سیاسی صورتحال اور معروض کے تناظر میں بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ کا قیام ناگزیر طور پر ضروری تھا بلوچ تحریک ارتقائی عمل سے گزر رہی ہے میں اس صف بندی کوتقسیم نہیں تطہیری عمل سمجھتاہوں اور جب جدوجہد ایک مرحلے پر پہنچ کر تطہیری عمل سے گزرتی ہے تو وہ اپنے ہیت و ساخت میں کمزور نہیں مضبوط ہوتا ہے تطہیری عمل انقلاب سے ماورا کوئی عمل نہیں بلکہ تطہیر انقلابی سرگرمیوں کی کھوکھ سے جنم لیتا ہے آج بلوچ قوم میں بیداری کی سطح بہت بلند ہے ہزاروں کی تعداد میں بلوچ فرزند آزادی کی تحریک سے منسلک قابض ریاست کے خلاف سیاسی وعملی میداں میں برسر پیکار ہے آج فکری و نظریاتی جدوجہد کی بدولت بلوچ قوم میں شعوری بیداری آئی ہے اس بیداری کو منظم اور یکجا ء کرنے کے لئے ایک وسیع تر انقلابی پارٹی کی ضرورت ہے جو مروجہ روایتی قبائلی اور ونیم قبائلی طرز و افکار کے برعکس مظبوط رضاکارانہ ڈسپلن پر مشتمل ہو انہوں نے کہا کہ بلوچ لبریشن پارٹی آزاد بلوچ ریاست کے حصول کے لئے سیاسی جدوجہدسے وابسطہ اور تنظیمی مراحل سے گزررہی ہے پارٹی کے اغراض و مقاصد سے متفق ہوکر پارٹی میں باقائدہ طور پر شمولیت کا اعلان کرتے ہوئے جدوجہد کے تمام زرائع اور طریقہ کار پر یقین رکھ کر جدوجہد کے دیگر زرائع سمیت سیاسی جدوجہد کوعین قومی جنگ سمجھتا ہوں انہوں نے کہا کہ ہمیں قابض ریاست پر مکمل انحصار ختم کرکے بلوچ قوم کے لئے متبادل زرائع اور ادارون کی تشکیل کی کام پر توجہ دینا چاہیے اور یہ ایک سیاسی پارٹی کی زمہ داری ہے کہ وہ بلوچ قوم کے لئے متبادل زرائع پیداکریں کیونکہ ایک انقلابی پارٹی دوران جدجہد ایک عبوری ریاست کا کردار ادا کرتی ہے جو قوم کو پروگرام اور لائحہ عمل دے کران کو منظم و متحرک کرتی ہے تحریک تنظیم سازی ورادارہ سازی کے زیعہ طاقت حاصل کرتی ہے محض رومانویت کارگر ثابت نہیں ہوتی انہوں نے کہا کہ قومی نجات کی سیاسی تحریک میں شدت پیدا کرنے اور قابض ریاست اور ان کے خیمہ بردار پارلیمانی پارٹیون کے گرد گھیر ا ؤتنگ کرنیکی ضرورت ہے بلوچ سماج میں ان کو غیر فعال کرنے کی کوشش کرکے قابض ریاست اور ان کی مروجہ اداروں کو مفلوج اور بلوچ قوم کی ان میں شمولیت اور شرکت اور ہمدردی کا رخ بدل کے لئے ہمیں وسیع پیمانے پر انقلابی طرز و عمل سے سیاسی موبلائزیشن کو تندہی سے جاری رکھنا چاہیے انہوں نے کہا کہ بلوچ قومی آزادی کی جنگ اور بلوچ سرمچاروں کی عملی جدوجہد نے ریاستی قبضہ کو بے نقاب کرنے کے ساتھ ساتھ نام نہاد پارلیمانی بلوچ قوم پرستوں کا بھی پرکھ رکھ کر ان کے احتساب کے کٹہرے میں لاکر واضح کردیاہے کہ یہ بلوچ قوم کی اصل قیادت نہیں بلکہ یہ بلوچ قوم کے دشمن اور قبضہ گیر کے دوست ہے جوغیر فطری ریاست کے قبضہ اور ریاستی عمل داری کو یندھن دینے کے لئے بلوچ قوم سے دھوکہ اور فریب کرکے بلوچ قوم کو نام نہاد ریاستی الیکشن سے منسلک کررہے ہیں جو بلوچ تحریک آزادی کو کاؤنٹر کرنے کے لئے ریاست کا اہم حربہ ہے


