×

سندھ کے علاقہ گھوٹکی میں بلوچ مہاجریں کی گھروں پر حملہ حاصل بگٹی اور اس کی ضعیف العمر والدہ ا اور بلوچ ایکٹوسٹ صادق علی جمالدینی کی سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں اغوا ء ا ور شمع بگٹی کے والد اور بھائی کی قتل ریاستی دہشت گردی ہے بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ

سندھ کے علاقہ گھوٹکی میں بلوچ مہاجریں کی گھروں پر حملہ حاصل بگٹی اور اس کی ضعیف العمر والدہ ا اور بلوچ ایکٹوسٹ صادق علی جمالدینی کی سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں اغوا ء ا ور شمع بگٹی کے والد اور بھائی کی قتل ریاستی دہشت گردی ہے بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ

26.7.2013

بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ نے اپنے جاری کردہ مرکزی ترجمان میں کہاہے کہ سندھ کے علاقہ گھوٹکی میں بلوچ مہاجریں کی گھروں پر حملہ حاصل بگٹی اور اس کی ضعیف العمر والدہ اور کمسن بیٹے اور بلوچ نیشنل موومنٹ کے مرکزی رہنماء صادق علی جمالدینی کی سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں اغو ا شہید اعجا ز بلوچ کی حراستی قتل شہادت اور شمع بگٹی کے والد اور بھائی کی قتل مجرمانہ ریاستی دہشت گردی کا تسلسل ہے ترجمان نے کہاہے کہ بلوچ فرزندوں کا اغواء روز کا معمول بن چکاہے پنجابی سٹبلشمنٹ بلوچ سپوتوں کو اغواء اور شہید کرکے ان کی فکر آزادی کی نشود نماء کو نہیں روک سکتے انقلابیوں کی سب سے بڑی صفت یہی ہے کہ وہ اپنے مادر وطن کی آزادی اور دفاع کے لئے اپنی جان کی قربانی سے دریغ نہیں کرتے شہداء کی غیر معمولی اور بے لوث عمل سے آزادی کی جدوجہد فیصلہ کن مرحلے طے کررہی ہے جو قبضہ گیر کے لئے پریشانی اور بے چینی کا باعث بن چکی ہے قبضہ گیر اپنی تمام روایتی حربوں کے ساتھ اپنی تمام تر فوجی اور معاشی طاقت کو بلوچ آزادی کی تحریک کو ختم کرنے کے لئے استعمال کررہی ہے لیکن آزادی کی تحریک ثابت کرچکی ہیں کہ نظریاتی و انقلابی تحریکوں کو دہشت گردی کے زریعہ نہیں کچلا یا جاسکتا ترجمان نے کہا ہے کہ قبضہ گیر ریاست فطری اور فلاحی ریاست نہیں بلکہ ایک سیکورٹی اسٹیٹ ہے کوئی بھی فوجی ریاست اپنی بقاء دہشت گردی کے زریعہ قائم کرنے کی کوشش کرتی ہے قبضہ گیر ریاست بلوچ وطن میں اپنے دم توڑتے نام نہاد رٹ اور عملداری کو قائم کرنے کے لئے بڑے پیمانے پر بلوچ فرزندوں کواغواء کرکے شہید کررہے ہیں ریاست کی اس اندوہناک جارحیت ان کی فرسٹیشن اورنفسیاتی شکست کی واضح ثبوت ہے کہ بلوچ قومی آزادی کی تحریک ان کے لئے اس وقت سب سے بڑی چیلنج اور سر دردہے ترجمان نے کہا ہے آزادی کی تحریک نے عالمی دنیا کے ضمیر کو بھی جھنجوڑ کے رکھ دیا ہے انسان دوست اقوام اس طویل خونریزی کا حل اور اختتام بلوچ قوم کی کامل آزادی کو سمجھتے ہیں انہیں اس بات کا احساس ہوچکاہے کہ قبضہ گیر ریاست کا دعوی بے بنیاد ہ بلوچ قوم کی اپنی الگ زمین پہچان تاریخ اور شناخت ہے ترجمان نے کہاکہ قبضہ گیر ریاست تمام تر انسانی اقدار کی پائمالی کرتے ہوئے اپنی تمام تر دہشت گردی اور غیر انسانی رویوں سے بلوچ قومی آواز کو دبانے میں ناکامی کے بعد رد انقلابی قوتوں اور انقلاب دشمن عناصر کو جدوجہد کے عین بیچ میں کھڑا کرکے انہیں میدان میں اتار کر بلوچ قومی موقف کو آلودہ کرنے کی کوشش کررہی ہیں بلوچ عوام انہیں اپنی قومی و تاریخی دشمن سمجھتے ہوئے اپنی اسلاف اور شہداء کی نقش پر چل کر بلوچ تحریک آزادی کو قوت فراہم کریں اس راہ میں مشکلات اور قربانیاں ناگزیر ہیں اس سے گھبراکر ہم منزل حاصل نہیں کرسکتے قربانیاں آزادی کی معراج ہے بلوچ قوم کی ریاستی قبضہ اور جبر کے خلاف جرائت مندانہ اور طویل تاریخ ہے بلوچ قوم کی قربانیاں اور جدوجہد کے ابھرنے کا تسلسل اور قوت آزادی کی منزل کو قریب تر کردیا ہے

Previous post

قلات کے علاقے جوہان نرمک ، کابو اسپلینجی اور کوہ ماران کے گردو نواح میں نسل کشی پر مبنی فوجی جارحیت کا آغاز کیا گیا ہے بلوچ سالویشن فرنٹ

Next post

شہدائے بلوچستان 15جولائی کے شہداء کاکا کردار تحریک آزادی میں ہمیشہ دہرائی جا ئے گی انہیں ان کی قومی شہادت اور آزادی کی جدوجہد میں بے پنا اور غیر معمولی قربانیوں پر سرخ سلام پیش کرتے ہیں بلوچ سالویشن فرنٹ