شہداء کو خراج عقیدت جن اقوام میں قربانی دینے والے بہادر سپوت موجود ہو اس قوم کو کوئی بھی طاقت شکست نہیں دے سکتا۔ بلوچ سالویشن فرنٹ
5.2.2014
) بلوچ وطن موومنٹ بلوچ گہار موومنٹ اور بلوچستان انڈیپینڈس موومنٹ پرمشتمل الائنس بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے شہید اسد بلوچ شہید احمد شاہ بلوچ شہیدحاجی جان محمد مری شہید سہراب مری شہید ثناء سنگت بلوچ شہید محبوب واڈیلہ اور شہید شاہ میر بلوچ کوان کی بے لوث جدوجہد اور لازوال قومی خدمات پر سرخ سلام پیش و خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہداء نے آزادی کی تحریک میں اپنی جانوں کا نزرانہ پیش کرکے نہ صرف بلوچ کاز کو تقویت پہنچائی بلکہ بلوچ جہد آزادی کو ایک نئی سمت پر گامزن کیاان کی جدوجہد اور زندگی ہمارے لئے مشعل راہ ہے جنہوں نے دشمن کی جانب سے بے پناہ مظالم کے باوجود حوصلہ اور قوی عزم کے ساتھ قومی تحریک کے صفوں میں ثابت قدمی کے ساتھ ڈٹے رہے تر جمان نے کہا کہ شہداء ہماری قومی ہیرو ہے جنہوں نے قومی نجات کی جدوجہد میں کھٹن اور مشکل حالات کا صبر و استقامت کے ساتھ سامنا کرتے ہوئے ریاست کے مکرو ہتھکنڈوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے آخری دم تک جہد آزادی سے فکری و عملی طور پر وابسطہ ہوکرجدوجہد کی ترجمان نے کہاکہ جن اقوام میں قربانی دینے والے بہادر سپوت موجود ہو اس قوم کو کوئی بھی طاقت شکست نہیں دے سکتا ترجمان نے کہا کہ اگر قوموں کی جدوجہد اور تاریخ پر نظر دوڑائی جائے توبرطانیہ وجاپان قبضہ گیروں سمیت دنیا کا کوئی بھی طاقت قومی تحریکوں کو زیر نہیں کرسکا ہندوستان میں برطانیہ جارحیت اور بنگلہ دیش میں بدترین جارحانہ زور آزمائی کے بعد انہیں آزاد ہونے سے کوئی روک نہیں سکا اور آج قابض ریاست جس پیمانے کے ساتھ بلوچ قومی تحریک کو دہشت گردی کے زریعہ دبانے کی مجرمانہ منصوبہ پر عمل پیرا ہے وہ بلآخر قبضہ گیر کی شکست اور بلوچ قوم کی فتح ہوگی بلوچ قومی تاریخ مزاحمت اور جدوجہد کی تاریخ ہے بلوچ قوم نے ہر بیرونی حملہ آور کا مقابلہ مزاحمت عزم اور بلند حوصلے سے کیا ہے کسی بھی طاقتور کی زور آزمائی کا پرواہ کئے بلوچ قوم اپنی کم وسائلی کے باوجود ہمیشہ قومی دفاع اور وطن کی حفاظت کو اولین ترجیح دی ہے آج بھی بلوچ اپنے مقدرسے غلامی کی سیاہی مٹانے کئے لئے ایک آزاد مستقبل کے خوابوں کو عملی جامہ پہنانے کے لئے متحرک ہے ترجمان نے کہاکہ گزشتہ دنوں مشکے سے ایک بلوچ فرزند منیر بلوچ کو ریاستی فورسز نے اغواء کرکے لاپتہ کردیا جوکہ ریاستی دہشت گردی ہے منیربلوچ سمیت ہزاروں بلوچ فرزندوں کے اغواء کے بعد بھی پاکستانی ریاست مقبوضہ بلوچستان کو اپنی زیر اثر لانے میں ناکام ہوگیا ہے جب کہ ان کی جارحیت سے بلوچ جدوجہد کی حمایت میں علاقائی و عالمی سطح پر اضافہ ہواہے


