شہید آغا محمود خان احمد زئی کا کردار تحریک آزادی میں ہمیشہ دہرائی جا ئے گی جسے پچھلے سال اسی دن ہماری فکری سرکل سے جسمانی طور پر جدا کیاگیا اگر چہ ان کی جسمانی جدائی کی خلاء کو پر کرنے کے لئے کئی سال لگ سگتے ہیں لیکن نہ تو ان کی شہادت بانجھ ہے نہ تو ان ک
2.3.2013
بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی چیئرمین سعیدیوسف بلوچ نے اپنے جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ شہید آغا محمود خان احمد زئی کا کردار تحریک آزادی میں ہمیشہ دہرائی جا ئے گی جسے پچھلے سال اسی دن ہماری فکری سرکل سے جسمانی طور پر جدا کیاگیا اگر چہ ان کی جسمانی جدائی کی خلاء کو پر کرنے کے لئے کئی سال لگ سگتے ہیں لیکن نہ تو ان کی شہادت بانجھ ہے نہ تو ان کا فکر بانجھ ہے بلوچ سرزمیں پر ایسے ہزاروں قبرستان ملین گے جو نصف صدی گزرنے کے بعد ہموار ہوجاتے ہیں لیکن جس مقصدکے لئے شہید آجوئی آغا محمود خان نے آزادی کی شاہراہ پر چل کرقربانی دی ان کے نام ہزاروں سال گزرنے کے باوجود بھی تاریخ کے کتبہ پر انمٹ ہوگا انہوں نے کہا کہ شہید رہبر آغا محمود خان جیسے استاد مدبر اور دانشور کی جسمانی علیحدگی سے یقیناًان کی کمی ہم محسوس کرتے رہیں گے اور ان کی علمی سرکل اور سنگتوں میں یہ تشنگی باقی رہیگی لیکن انہوں نے جس راستہ کا انتخاب کیااور جس فکر کی تبلیغ کی ان کی جدوجہد سے سنگتی کا دم بھرنے کا عزم ان کے ارمانوں کی تکمیل ہے انہوں نے کہا کہ ریاست جس روح سوز حراستی قتل عام کا سلسلہ شروع کیا ہے وہ بد ترین جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں لاپتہ بلوچوں کی بازیابی لاشوں کی صورت میں ہمیں دی جارہی ہے ایک شہید کی قبر کی مٹی ابھی تک خشک نہیں ہوتی کہ ایک اور بلوچ سپوت کی لاش حوالہ کیا جاتا ہے لیکن اس سے نہ ہمارے حوصلہ کمزور ہوئے ہیں اور نہ ہی ہمارے قدمون میں لرزش آئی ہے بلکہ بلوچ قوم کا ایک ایک بچہ آزادی کا بیرک اٹھائے اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر لڑ رہے ہیں انہوں نے کہاکہ ہماری لئے جنگ ایک ناگزیر ضرورت بن چکا ہے کیونکہ قابض جس زبان کو سمجھتاہے اسی زبان میں بات کرنا کمزور اور طاقتور کے درمیان فیصلہ کن مرحلہ ہے اور جب عالمی رائے بلوچ آزادی کے حق میں بلا جھجک بات کررہی ہے تو بعض بلوچوں کی خاموشی بہیمانہ اور مجرمانہ اور وہ کھل کر آزادی کے حق میں بات کرنے سے گھبرارہے ہیں ایسی صورت میں ریاست کا دفاع کرنا غداری کے زمرے میں آتے ہیں انہوں نے کہا کہ ہم آزادی کے ایجنڈا پر کسی کو نہ وقت ضائع کرنے دیں گے اور نہ ہی اپنے ٹھوس اور اصولی موقف سے دستبردار ہوں گے انہوں نے کہا کہ ریاست ہمیشہ سے مزہب اور نام نہاد ملاؤں کا سہارا لے کر بلوچ آزادی کی جدوجہد کو سمیٹنے کی کوشش کی اور آج ایک دفعہ پھر دفاع کونسل کے نام سے ایک گروہ تشکیل دے کر بلوچ تحریک کو کاؤنٹر کرنے ایک آخری حربہ کا استعمال کرہا ہے لیکن اس میں بھی ناکام نامراد ہوگا دنیا میں ہم نے کہیں بھی نہیں دیکھا کہ کو ئی بھی ملک کا مزہبی نام ہو بلکہ ملک اور وطن ہمیشہ قوم کے نام پر ہوتا ہے پاکستانی ریاست اسلام کے روح کو مسخ کرکے اسلا م کو اپنے دہشت گردی پر پردہ ڈالنے اور اپنی قبضہ کو جواز بنانے کے لئے نصف صدی سے استعمال کرتا رہا ہے لیکن ریاست کو یہ اندازہ نہیں کہ آج بلوچ کے ایک چرواہا کے شعور کا سطع ان کے ایک دانشور کے سوچ و فکر سے کہیں بلند ہے انہوں نے کہا کہ ہم پوری دنیا کو بتانا چاہتے ہیں کہ اس ریجن میں اگر کوئی امن لانے کا عزم کا کیا ہے تو بلوچ وطن سے ریاست اور ان کی فوج کا انخلا ء اور ایک علیحدہ بلوچ وطن مفید اور کارگر ثابت ہوگا اور پاکستانی ریاست کی بلجبر قبضہ اور غیر قانونی مداخلت کا نوٹس لینا ہوگا انہوں نے کہا کہ ہمیں پاکستان کی اس مجرمانہ زبان درازی پر حیرت ہے کہ وہ کہتا ہے کہ بلوچستان میں امریکہ مداخلت کررہا ہے لیکن پاکستانی ریاست کی مداخلت کا کیا جواز ہے جو پچھلے ساٹھ سالوں سے بلوچ وطن پر قبضہ کرکے مداخلت کررہا ہے انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ 14ہزار لاپتہ بلوچ جو پاکستانی ٹارچر سیلوں میں بند ہے انہیں جنگی قید ی قرار دے کر پاکستان پر دباؤ ڈال کر جنیوا کنونشن کے تحت ان کے ساتھ جنگی قیدی کا سلوک کیا جا ئے اور ریاستی فورسز کو جنگی مجرم قرار دے کر انہیں سزا دلوائیں


