شہید بابو نوروز خان کے فرزند کے گھر پر ریاستی فورسز کا حملہ چادر و چار دیواری کی تقدس کی پائمالی اور اور بلوچ آبادی کو ہراسان کرناجاری ریاستی دہشت گردی کا تسلسل اوربلوچ نسل کشی کا حصہ ہے بلوچ سالویشن فرنٹ
22.6.2013
بلوچ وطن موومنٹ بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ اور بلوچ گہار موومنٹ پر مشتمل الائنس بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ شہید بابو نوروز خان کے فرزند میر امان اللہ زہری کے گھر پر ریاستی فورسز کا حملہ چادر و چار دیواری کی تقدس کی پائمالی اور اور بلوچ آبادی کو ہراسان کرناجاری ریاستی دہشت گردی کا تسلسل اوربلوچ نسل کشی کا حصہ ہے ترجمان نے کہاکہ1958اور1971کو بھی اسی گھر کو نشانہ بنایا گیا اور ایک دفعہ پھر اسی گھر پر حملہ کرکے چادر و چار دیواری کی پائمالی کی گئی جو کہ ریاست کی بوکھلائٹ کی عکاسی کرتی ہے اس گھر سے بلوچ قومی رہنماء بابو نوروز خان کے یادیں وابسطہ ہیں جو 1958میں بلوچستان کی آزادی کے لئے اپنے بیٹوں اور ساتھیوں سمیت پہاڑوں پہ چلے گئے اور ضعیف العمری کے باوجود قبضہ گیر کی غلامی اور اطاعت قبول کرنے کے بجائے آزادی کی جدوجہد کوترجیح دی ترجمان نے کہا کہ ایسے واقعات بلوچ قوم کے لئے حیران کن نہیں اور نہ ہی اس قسم کے سانحات سے آزادی کے لئے ہونے والے صف بندی میں دراڑیں ڈالی جاسکتی ہے بلوچستان بھر میں کوئی ایسا گھر نہیں جو ریاستی دہشت گردی اور انتقام سے محفوظ رہا ہو ریاست جنگ آزادی کا سامنا کرنے کے بجائے اب عام بلوچ آبادیوں کو اپنی مجرمانہ کاروائیوں کے زریعہ خوف زدہ کرنے کی ناکام کوششوں کے زریعہ نہتے بلوچ آبادیوں پر اپنا غصہ ٹھنڈا کررہے ہیں زہری واقعہ بھی ریاستی دہشت گردی سے جڑی ہوئی سانحہ ہے جس میں فورسزنے میر امان اللہ کے گھر پر حملہ گھر کی تلاشی اور چادر چاردیواری کی پائمالی کے ساتھ ساتھ آس پاس بلوچ آبادیوں پر بھی فائر کھول دیا جس سے فائرنگ کی زد میں آکر کئی لوگ زخمی ہوگئی ترجمان نے کہا ہے کہ قبضہ گیر اپنی رٹ اور نام نہاد عملداری کو لاگو کرنے کے لئے اپنی جارحانہ پالیسیوں میں شدت لائی ہے کیونکہ پورے بلوچستان میں ان کے عملداری کو بری طرح دھچکہ لگا ہے اور بلوچ عوام ریاستی صفوں کے بجائے قومی آزادی کے صفوں میں کھڑے ہوکر آزادی کو بلوچ قومی مسئلہ کا قطعی حل سمجھتے ہیں جب کہ میر امان اللہ زہری کے گھر پر فورسز کے دھاوا کے بعد جمہوری سیاست کے دلدادہ اور پاکستانی سیاست اور فریم ورک میں عافیت ڈھونڈھنے والوں کو سبق سیکھنا چاہیے کہ قابض کتنی مہذب اور جمہوری ہے اور اس کے لئے خیر سگالی کے جذبات رکھنے والے اپنی مردہ اور بانجھ توقعات پر نظر ثانی کرکے اخلاقیء جرائت کا مظاہرہ کرکے قومی آزادی کے جدوجہد اور دھارے میں شامل ہوجائیں ترجمان نے کہا کہ قبضہ گیر کو شکست دینے کے لئے واحد راستہ بابو نوروز خان اور بلوچ شہداء اور آزادی کا ہے ہاتھ مروڑ کروطن اور آزادی کی جدوجہد پر دشمن کو ترجیح دیکر نام نہاد جمہوری سیاست کے پیروکاری کرنے سے قبضہ گیر اپنی دہشت گردانہ پالیسیوں کو ترک نہیں کرسکتاترجمان نے کہا کہ آزادی کی جدوجہد بھی ایک جمہوری عمل ہے قبضہ گیر کی فریم ورک میں رہ کر جدوجہد سیاسی یا جمہوری نہیں بلکہ غلامی اور گماشتگی ہے بلوچ شہداء نے جس راستہ کا انتخاب کیا وہی ایک راستہ ہے جو غلامی کی ذلت کا خاتمہ کرسکتا ہے


