×

شہید حمید جان اور شہید اسلم گچکی کو جہد آزادی میں ان کی والہانہ کوششوں اور عظمت شہادت پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں کسی کو جسمانی طور پر جدا کیا جاسکتا ہے لیکن اس کے فکر فلسفہ اور جدوجہد کو ختم نہیں کیا جاسکتا ۔ بلوچ سالویشن فرنٹ

شہید حمید جان اور شہید اسلم گچکی کو جہد آزادی میں ان کی والہانہ کوششوں اور عظمت شہادت پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں کسی کو جسمانی طور پر جدا کیا جاسکتا ہے لیکن اس کے فکر فلسفہ اور جدوجہد کو ختم نہیں کیا جاسکتا ۔ بلوچ سالویشن فرنٹ

10.6.2014

بلوچ وطن موومنٹ بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ اور بلوچ گہار موومنٹ پر مشتمل الائنس بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کئے گئے بیان میں کہاہے کہ قومی آزادی کی جدوجہد میں شہداء کی بیش بہا اور غیر معمولی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائینگی شہدا ء کے قربانیوں نے آزادی کی منزل کو قریب کردیا ہے ترجمان نے شہید حمید جان اور شہید اسلم گچکی کو جہد آزادی میں ان کی والہانہ کوششوں اور عظمت شہادت پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاہے کہ کسی کو جسمانی طور پر جدا کیا جاسکتا ہے لیکن اس کے فکر فلسفہ اور جدوجہد کو ختم نہیں کیا جاسکتا حمید جان کو آج سے اکتالیس سال قبل آزادی کی جدوجہد سے وابسطگی کی بناء پر تختہ دار پر چڑھا کر شہید کیا گیا لیکن آج بھی ان کی جدوجہد اور مشن کا تسلسل جاری ہے ہزاروں بلوچ حمید کے فکر سے وابسطہ آزادی کے قربان گاہ پر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے قربانیوں کی لازوال تاریخ رقم کرچکے ہیں ریاست اپنی تمام تر حربوں اور ہتکھنڈوں کے بعد بھی بلوچ فرزندوں کی عزم اور حوصلوں کو متزلزل نہیں کرسکی آج ریاست اپنی تمام لاؤ لشکر کے ساتھ اپنی تمام تر وسائل اور طاقت کے استعمال کے بعد تحریک آزادی کو شکست نہیں دے سکی یہ سب شہداء کی قربانیوں کی مرہوں منت ہے کہ ریاست آزادی کی تحریک کے سامنے گھٹنے ٹھیکنے پر مجبور ہے ترجمان نے کہاکہ ریاست اپنی مزموم مقاصد میں کھبی بھی کامیاب نہیں ہوگا آزادی بلوچ قوم کا زمینی اور پیدائشی حق ہے بلوچ قوم پنجاب کی زمین کی کسی حصہ کا مطالبہ نہیں کررہا بلکہ اپنی وطن کی آزادی کی مانگ اور مطالبہ کے ساتھ ریاستی دہشت گردی سے نبرد آزما ء ہے ترجمان نے کہاہے کہ اگر عالمی دنیا خطے میں امن کا خواہاں ہے تو انہیں بلوچستان کی آزاد و تاریخی حیثیت کو ہر صورت میں تسلیم کرنا ہوگا عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ بلوچستان میں ریاستی دہشت گردی سے آگاء ہونے کے لئے اپنی سفارت خانوں کو متحرک کریں اور یہ عالمی برادری کا فرض ہے کہ وہ بلوچ مسئلہ کو بین الاقوامی طور پر اجاگر کرنے کے لئے اپنی تمام ایوانوں میں بلوچ مسئلہ آزادی اوراس کی تاریخی اور منطقی حل کے لئے مثبت پیش رفت جاری رکھنا چاہیے ترجمان نے کہاکہ ہزاروں بلوچ نوجوانوں نے آزادی کے لئے اپنی زندگیوں کو گنوا چکے ہیں ہزاروں ماؤں اپنی لخت جگروں کو صرف اور صرف آزاد بلوچستان کے لئے کھوچکے ہیں اتنی خون بہنے کے باوجود عالمی برادری کی بلوچ مسئلہ سے پہلو تہی یا غیر جانبدارانہ رویہ کسی بھی طور پر انصاف پسندی انسان دوستی کا تقاضا نہیں کرتے انسان دوستی کا تقاضا ء یہی ہے کہ بلوچ قومی آزادی سمیت دنیا میں ابھرنے والی تحریکوں کا سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہیے اگر عالمی دنیا اور انسان دوست ممالک اور ادارے جو دنیا بھر کو انسانیت کا درس دیتے ہوئے نہیں تھکتے اور دنیا مین تشدد گریز سوچ لے کر قتل و غارت گری کو دنیا کے لئے جہنم کا موجب سمجھتے ہیں تو انہیں چاہیے کہ وہ قوموں کو آزاد ی کو تسلیم کریں

Previous post

شہید ء کندیل استاد صباء دشتیاری آجوئی کی تحریک میں نظریاتی استادکی طورپر ایمانداری ثابت قدمی اور مستقل مزاجی کے ساتھ آزادی اور نیشنلزم کی دفاع اور ترویج کے لئے کام کیاان کی بے بہا خدمات یاد رکھی جائینگی۔بلوچ سالویشن فرنٹ

Next post

نواب مری کی جسدکا بین الاقوامی ماہرین سے معائنہ کرا کر موت کے اسباب معلوم کئے جائیں، نواب مری کو بھی کاہان کوہستان مری لے جانے کے بجائے نیوکاہان کوئٹہ میں اپنے فکری ساتھیوں کے قبرستان میں سپرد خاک کیا جائے۔حیربیار مری