×

شہید سفر خان کا کردار تحریک آزادی میں ہمیشہ دہرائی جا ئے گی70 کی دہائی میں بلوچ وطن کی آزادی کے لئے مزاحمتی جدوجہد میں لیڈنگ رول ادا کرنے والے شہید سفر خان زہری آزادی کے تابناک سویرے کے لئے پہاڑوں کو مسکن بناکر جدجہد کی بلوچ سالویشن فرنٹ

شہید سفر خان کا کردار تحریک آزادی میں ہمیشہ دہرائی جا ئے گی70 کی دہائی میں بلوچ وطن کی آزادی کے لئے مزاحمتی جدوجہد میں لیڈنگ رول ادا کرنے والے شہید سفر خان زہری آزادی کے تابناک سویرے کے لئے پہاڑوں کو مسکن بناکر جدجہد کی بلوچ سالویشن فرنٹ

11.8.2013
بلوچ وطن موومنٹ بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ اور بلوچ گہار موومنٹ کا اتحاد بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں70 کی دہائی میں لڑنے والے بلوچ گوریلا شہید میر سفرخان زہری کو بلوچ آزادی کی تحریک میں بے لوث جدوجہد اور قومی شہادت پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاکہ کہ شہید سفر خان کا کردار تحریک آزادی میں ہمیشہ دہرائی جا ئے گی70 کی دہائی میں بلوچ وطن کی آزادی کے لئے مزاحمتی جدوجہد میں لیڈنگ رول ادا کرنے والے شہید سفر خان زہری ہزارون جانبازوں کے ساتھ کھٹن اور پرپیچ راستوں کو انتخاب کرکے آزادی کے تابناک سویرے کے لئے پہاڑوں کو اپنا مسکن بناکرکئی سال تک ریاست کے خلاف جدجہد کرتے رہے ان کی فکری و عملی جدوجہدسے دشمن اور ان کے خیمہ بردار حواس باختہ ہوگئے اور انہیں جانی نقصان دینے اور ان کی نیٹ ورک توڑنے کے لئے بار ہا کوشش کی گئی انہیں اور ان کے ساتھیوں کو تلاش کرنے کے لئے قبضہ گیر اپنی تمام تر فوجی وسائل میر سفر خان کے نیٹ ورک اور ٹھکانہ تک رسائی کے لئے لگادیا بلآخر9 ستمبر1976 کومیر سفر خان زہری ایک بڑے پیمانے کی فوجی کاروائی میں محاز پر موجود گھمسان کی لڑائی میں قلات کے علاقہ ماماتاواکے پہاڑی سلسلہ بلند چوٹی ’’پیمازی‘‘ کے مقام پر پاکستانی فوج کے ساتھ گھمسان کی لڑائی میں شہید ہوگئے ان کی شہادت یقیناًایک المیہ ہے مگر بانجھ نہیں با مقصد بہنے والا خون رائیگاں نہیں جاتا ان کی فکر آج بھی آزادی کے جدوجہد میں شکل میں زندہ ہے کسی عظیم مقصد سے جڑے انسان کا جسمانی قتل ان کی فکر فلسفہ جدوجہد اور خیالات کا قتل نہیں ترجمان نے کہا کہ برطانیہ نے گرم پانی سے منسلک بلوچ وطن کی وسیع و عریض جغرافیہ پر اپنی عملداری کے لئے کئی بلوچ سپوتوں کو شہید کیا اور بلوچ جغرافیہ کا بے رحمی سے تقسیم کیا گولڈ سمتھ اور ڈیورڈ لائن جیسے غیر فطری حدبندیوں کے زریعہ بلوچ زمین اور آبادی کو تقسیم کیا لیکن بلوچ دفاعی جدوجہد کے سامنے ان کی تمام طاقت ریت کے دیوار ثابت ہوگئے یہ تاریخ ہے کہ تشدد اور طاقت کے زریعہ کوئی طاقت ور قوم کسی کمزور قوم کو دیر تک غلام نہیں رکھ سکتا قابض جتنی ظلم زیادتی اور قتل عام کا سلسلہ جاری رکھے گا قومی جدوجہد اتنی ہی ابھر کر سامنے آئیگا ترجمان نے کہاکہ بلوچ قومی تحریک آج اس مرحلے کو عبور کرچکی ہے جہاں قبضہ گیر اپنی تمام طاقت اور اثر رسوخ استعمال کرنے کے باوجود جہد آزادی کو ختم کرنے میں ناکام ہوچکاہے آزادی کی جہد سے منسلک سرگرم اور ثابت قدم حریت پسندوں کی شہادت جدوجہد کے حامیون اور ہمدردوں سمیت آزادی پسندوں کے عزیز و اقارب کو شہید کیا جارہاہے تاکہ قومی جہد سے منسلک بلوچ آزادی پسندوں کے سرکلوں میں خوف و انتشار پھیلا کر ان کی حوصلو ں کو کمزور کرسکے لیکن ریاستی تشدد سے بلوچ سماج میں خوف کے بجائے شعور اور بیداری جنم لے رہی ہے بلوچ قوم ایک آزاد قومی ریاست کی تشکیل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہوئے آزادی کی جنگ کے لئے قوت و حمایت بن رہی ہے

Previous post

ہمارے لئے تجدید عہد کادن ہے یہ ایک تاریخ ساز دن ہے بلوچ تاریخ آزادی میں یہ ایک سنہراباب ہے یہ دن قبضہ گیر پاکستانی ریاست کے لئے کھلی اور واضح پیغام ہے کہ بلوچستان پاکستان کا حصہ نہیں رہا بلکہ اس کی اپنی الگ تاریخی اور آزاد حیثیت رہاہے بلوچ سالویشن

Next post

شہید لونگ خان مینگل شہید ڈاکٹر خالد بلوچ اور شہید دلوش بلوچ کو تحریک آزادی میں شاندار قربانیوں اوربے لوث کردار پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہداء کے غیر معمولی قربانیوں نے بلوچ نوجوانوں کے قومی جذ بات و احساسات کے نظریاتی دھار کو مزید تیز کردیاہے