شہید علی محمد مینگل ان سرفروشان وطن سے ایک ہے جو مزاحمتی جدوجہد میں ایک فعال اور متحرک کردار ادا کرتے ہوئے وطن کی مٹی پر قربان ہوکر آسودہ خاک ہوگئے بلوچ سالویشن فرنٹ
18.8.2013
بلوچ وطن موومنٹ بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ اور بلوچ گہار موومنٹ کے اتحاد بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری بیان میں بلوچ نڈر سپوت شہید علی محمد مینگل کو قومی جدوجہد میں شاندار کردار اورقومی شہادت پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچ جہد آزادی میں ان کا بے لوث اور ایماندارانہ اور خلوص بھرے کردار ہمارے لئے مشعل راہ ہے بلوچ آزادی کی تحریک میں وہ ایک طویل جدوجہد کا روح روان رہاہے ان کی زندگی ایک کھلی کتاب کی مانند ہے وہ بلوچ قوم کو غلامی اور غیر منصفانہ نظام سے نجات دینے کے لئے آزادی کی جدوجہد کو نصب العین سمجھتے ہوئے قومی سفر میں مشکل اور کھٹن حالات میں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے گوریلا جدوجہد کو ایک موثر زریعہ سمجھتے ہوئے بلوچ قوم کے آزاد مستقبل کے لئے جانفشانی کی حد تک جدوجہد کی وہ ایک بہادر اور سرفروش انسان تھے بلوچ آزادی کی تاریخ میں ان کا کردار ہمیشہ دہرائی جائے گی جنہوں نے اپنے صلاحیتوں اور خون سے جدوجہد آزادی کو ایندھن فرائم کی انہوں نے حالات کی نبض کو ٹٹولتے ہوئے ایک سرفروش انقلابی کی طرح جدوجہد کی راہ کو متعین کرتے ہوئے عملی طور پر میں بھٹو اور ایوبی آمریت کے خلاف پر عزم انداز میں جدوجہد کی بلوچ قومی تاریخ سرفروشان وطن سے عبارت ہے بلوچ قومی تاریخ ایسے کئی نامور جہد کاروں کی طویل فہرست رکھتی ہے جنہوں نے بیرونی حملہ آوروں کے غلامی اور تابعداری کے بجائے ان کی فرسودہ عزائم اور قبضہ کے خلاف دفاعی جدوجہد کی شہید علی محمد مینگل ان سرفروشان وطن سے ایک ہے جو مزاحمتی جدوجہد میں ایک فعال اور متحرک کردار ادا کرتے ہوئے وطن کی مٹی پر قربان ہوکر آسودہ خاک ہوگئے ترجمان نے کہاکہ 60اور70کی دہائی میں ریاستی قبضہ کے خلاف مسلح جدوجہد میں بلوچ گوریلا شہید علی محمد مینگل کا اہم کردار رہاہے سردار نوروز خان اور ان کے ساتھیوں کی گرفتاری کے بعد شہید علی محمد مینگل نے ایوبی جارحیت اور قبضہ گیریت کے خلاف بابو نوروز خان اور ان کے ساتھیوں کے جدوجہد کا تسلسل جاری رکھتے ہوئے مسلح جدوجہد میں کلیدی کردار ادا کیا ایوبی اور بھٹو کے سیاہ ادوار میں وہ تمام ریاستی مراعات آرائشوں کو دوٹوک مسترد کرتے ہوئے پہاڑوں کا رخ کیا ایوبی دور میں انہیں مسلح جدوجہد کی پاداش میں گرفتار کیا گیا لیکن رہا ہونے کے بعد انہوں ایک دفعہ پھر جدوجہد جاری رکھتے ہوئے بھٹو آمریت کے ادوار میں جہاں مری علاقوں میں مری بلوچ آزادی کے جدوجہد کررہے تھے وہاں جہالاوان میں شہید علی مینگل اپنے کئی دیگر جانبازوں کے ہمراہ ریاستی فورسز کے ناک میں دم کرچکے تھے وہ قومی محاز پر ایک دوبدو جھڑپ میں شہید ہوگئے ان کے خیالات افکار جذبات احساسات کے دئیے آج بھی روشن اور ہماری رہنمائی کررہی ہے بلوچ قومی جدوجہد کو سرگرم رکھنے والے عظیم شہداء کا مشن اپنی منزل کی جانب روان دوان ہیں ہمیں اپنی شہداء کے مقصد اور تحریک کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کرنا چاہے اور آج بلوچ آزادی خواہ عوام اپنی شہداء کی پیروی کرتے ہوئے اسی جزبہ آزادی کے ساتھ ریاستی قبضہ کے خلاف اپنی صلاحیتوں اور کوششوں سے بلوچ قوم کو غلامی کے سیاہ ادوار سے نکالنے کے لئے ریاستی دہشت گردی کے خلاف لا متنائی قربانیوں کے عمل سے گزر کر غلامی کے زنجیروں کو انقلاب کے بھڑکتے آگ میں پگھلاکر آزادی کی تخلیق کررہے ہیں


