شہید لونگ خان مینگل شہید ڈاکٹر خالد بلوچ اور شہید دلوش بلوچ کو تحریک آزادی میں شاندار قربانیوں اوربے لوث کردار پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہداء کے غیر معمولی قربانیوں نے بلوچ نوجوانوں کے قومی جذ بات و احساسات کے نظریاتی دھار کو مزید تیز کردیاہے
7.8.2013
بلوچ سالویشن فرنٹ نے اپنے جاری کردہ مرکزی ترجمان میں شہید لونگ خان مینگل شہید ڈاکٹر خالد بلوچ اور شہید دلوش بلوچ کو تحریک آزادی میں شاندار قربانیوں اوربے لوث کردار پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہداء کے غیر معمولی قربانیوں نے بلوچ نوجوانوں کے قومی جذ بات و احساسات کے نظریاتی دھار کو مزید تیز کردیاہے آزادی کا علم شہداء کے ارمانوں کے ساتھ آج بھی چلتن پہاڑ سے اونچا اور بلند ہے قابض اپنی تمام طاقت اور ہتکھنڈوں سے بلوچ دفاعی جدوجہد کو کچلنے کے لئے مجرمانہ جارحیت اختیار کئے ہوئے ہیں لیکن دھرتی کے حقیقی سپوت اپنی فکر و عمل سے ریاست کی گھمنڈ اور غرور کو توڑنے کے لئے اپنی تمام تر صلاحتیں بروئے کار لاکرآزادی کی جدوجہدمیں اپنی جان اور مال قربان کرکے بلوچ قوم کو قابض کی غلامی سے نجات دینے اور ایک آزادبلوچ قومی ریاست کی تشکیل کے لئے ہمہ تن جدوجہد کررہے ہیں ترجمان نے کہا ہے کہ ریاست 1948 سے بلوچ مزاحمتی جدوجہد کو کچلنے اور آزادی کے احساس کو دبانے کی کوشش کررہے ہیں بھٹو آمریت کے دور میں پورے بلوچستان میں بھٹو کی سرکردگی میں بلوچستان پر شب خوں ماراگیا جہالاوان اور مری علاقوں میں بڑے پیمانے پر آپریشن کی گئی اور کئی بلوچوں کو شہید کیا گیا اسی دور میں قابض فوج نے قلات کے علاقہ دشت گوران میں شہید لونگ خان کے گھر کو بھی نشانہ بنایاجس سے پیر مرد لونگ خان نے قومی جذبہ کے ساتھ ریاستی فوج کے سامنے سرنگوں ہونے کے بجائے قومی محافظ کے حیثیت سے مردانہ وار جدوجہد کی اور اسی راہ عمل کے دوران وہ اپنے اسلاف او ر اکابرین کی تقلید کرتے ہوئے غلامی کی زندگی پر شہادت کو ترجیح دی ترجمان نے کہا کہ بلوچ سماج میں جہاں مزاحمت کا کلچرہزاروں سال سے موجود ہے وہاں بلوچ سماج انسانی سولائزیشن میں کسی بھی تہذیب یافتہ ملک سے پیچھے نہیں تھا یہ خطہ تاریخی وراثت اور ترقی میں بھی کسی سے کم نہیں تھا منگولوں سے لے کر سنٹرل ایشیا اور یورپی حملہ آوروں نے بلوچ قوم کواپنے دست نگر رکھنے کی بھر پور کوشش کی لیکن بلوچ سپوتوں نے ہمیشہ حملہ آوروں کے خلاف مزاحمتی اور دفاعی انداز اپناتے ہوئے کسی بھی طاقت ور کی غلامی کو اپنی تضحیک سمجھتے ہوئے ان کے خلاف بھر پور جدجہد کرتے ہوئے اپنی وطن کی دفاع کی آج بھی بلوچ قوم کو ان کی بقاء اور آزادی کی احساس نے میدان جنگ میں کھڑا کردیا ہے ریاست کے ظلم اور جبراور قبضہ کے خلاف ایک قومی رد عمل ناگزیر طورپر جنم لیا ہے جو ریاست کے لئے سب سے بڑی پریشانی بن چکی ہے


