×

شہید مالک ریکی نے مغربی بلوچستان کے آزادی کاعلم بلند کرکے ایرانی قبضہ گیروں کے خلاف فعال جدوجہد کی اورآخر دم تک کسی بھی مصالحت سے بالاتر ہوکرقبضہ گیرکے غلامی کے بجائے آزادی کی جدوجہد اور شہادت کو ترجیح دی

شہید مالک ریکی نے مغربی بلوچستان کے آزادی کاعلم بلند کرکے ایرانی قبضہ گیروں کے خلاف فعال جدوجہد کی اورآخر دم تک کسی بھی مصالحت سے بالاتر ہوکرقبضہ گیرکے غلامی کے بجائے آزادی کی جدوجہد اور شہادت کو ترجیح دی

21.6.2013
بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کئے گئے بیان میں شہید عبدالمالک ریکی
کو مغربی بلوچستان کی آزادی کی عملی جدوجہدقومی خدمات انتھک قربانیوں اور شاندار شہادت پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہید مالک ریکی نے مغربی بلوچستان کے آزادی کاعلم بلند کرکے ایرانی قبضہ گیروں کے خلاف فعال جدوجہد کی اورآخر دم تک کسی بھی مصالحت سے بالاتر ہوکرقبضہ گیرکے غلامی کے بجائے آزادی کی جدوجہد اور شہادت کو ترجیح دی ان کے خاندان کے کئی افراد اور دو سگے بھائی اسی راہ آزادی میں شہید ہوگئے انہوں نے قربانی اور جدوجہدکا اعلی مثال قائم کرتے ہوئے ایرانی عدالتوں کے روبرو اخلاقی ملزم کی حیثیت سے انکار کرکے واشگاف الفاظ میں کہا کہ وہ مغربی بلوچستان کو ایرانی قبضہ گیروں کی آئنی پنجہ سے نکالنے کی جدوجہد کررہا ہے اور آذادی کے علاوہ ان کا کوئی مطالبہ نہیں جب کہ ایرانی عدالتوں نے ان کے خلاف پھانسی کا فیصلہ سنایا لیکن انہیں پھانسی دینے کے بجائے اندوہناک طریقہ سے قتل کیا گیاتاکہ مغربی بلوچستان میں اٹھنے والی آزادی کی شورش کو مالک ریکی کی قتل شہادت سے پیغام دیا جائے کہ آذادی کے مطالبہ کرنے والوں کو اسی طرح موت کے گھاٹ اتارکر شہید کیاجائے گا لیکن قبضہ گیر اپنی اس قسم کے مکروہ ہتھکنڈوں کے زریعہ آزادی کی تحریکوں کو شکست دینے میں ہمیشہ ناکام رہی ہے مغربی بلوچستان ہو یا مشرقی بلوچستان تہران اور اسلام آباد نے بلوچ تحریک آزادی کو کریش کرنے کے لئے اپنی تمام طاقت اور وسائل استعمال کرنے کے باوجود آزادی کے حلقوں میں خوف کا معمولی زرہ بھی پیدا نہیں کرسکا حالیہ بلوچ قوم کی ریاستی الیکشن بائیکاٹ کو توڑنے کے لئے قبضہ گیر نے اپنی تمام وسائل طاقت اور دہشت گردی کے استعمال کرنے کے باوجود جو ٹرن آؤٹ کا سامنا کیایہ نتائج قبضہ گیراور ان کے اشرافیہ کے رونگٹھے کھڑی کردینے کے لئے کافی ہے بلکہ ان کے لئے سبق اور عبرت بھی کہ وہ ماس کلنگ اور دہشت گردی کے زریعہ خوف پیدا کرنے اور بلوچ قومی تحریک کو نفسیاتی اور اعصابی طور پر شکست دینے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکاہے ترجمان نے کہا کہ ہمارا ایمان ہے کہ قبضہ گیر ہزاروں لاشیں گرانے کے بعد بھی آزادی کا نیوکلیس اور مرکز ختم نہیں کرسکتااور کسی جسد خاکی کو مسخ اور شہید کرکے اس سے وابسطہ فکرآزادی کو کو بانجھ نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی کسی کو قوم کو اس کی آبائی وقومی زمین اور ملکیت سے دستبردار کرکے اسے ہمیشہ کے لئے غلام بنا یا جاسکتاہے ترجمان نے کہا کہ مغربی بلوچستان کے بلوچ باشندہ شہید مالک ریکی اور شہید دادا شاہ بلوچ اورہزاروں بلوچ شہداء کے راستہ کو اپناکر اپنی پیشانی سے ایرانی غلامی کا ہر نام و نشان مٹاڈالے جب کہ پاکستانی یا ایرانی قومیت بلوچ قوم کی شناخت نہیں بلکہ یہ غلامی کے وہ بدنماداغ ہے جسے تہران اور اسلام آباد نے ہماری سرزمین پر قبضہ کرنے کے اور ہماری قومی دولت کو اپنی باپ کی میراث سمجھ کر ہتھیانے کے لئے اپنی زرخرید برین واش کئے ہوئے باجگزاروں کے زریعہ استعمال کروا رہا ہے ہماری اپنی الگ پہچان اور شناخت ہے تین ممالک کی سرحدوں میں تقسیم ہماری جغرافیہ ہماری قومی و آبائی وطن ہے اور ہم ایرانی اور پاکستانی نہیں اور جو لوگ اس غلامانہ پہچان کو اپنے لئے قابل فخر سمجھتے ہیں اور بلوچ قوم کو قبضہ گیر کے غلامی میں رہنے کی درس دیتے ہیں انسانی تاریخ میں ان سے زیادہ کوئی ضمیر فروش قوم دشمن و انسان دشمن کوئی اور نہیں ہوگا اور جو سادھ لوح بلوچ باشندوں کو ان کی زندگی کی ضروری اور بنیادی مساحل کے حل کے لئے آزادی کا راستہ دکھانے کے بجائے قبضہ گیرکے سامنے بھیک منگا بنواکر ان کی جی حضوری کرنے اور غلامی میں رہنے کو ان کی عزت و عافیت قرار دینے میں بلجبر آمادہ کرتی ہے بلوچ تاریخ میں یہ لوگ کھبی بھی معافی کے حقدار نہیں اور نہ ہی قابل رحم ہے ترجمان نے کہاکہ کوئی غاصب زیادہ دیر تک کسی قوم کی آزادی کو سلب نہیں کرسکتاافریقی جیسے معاشی طور پر کمزور قوم اپنے وقت کے سپر طاقت سے جب اپنی آزادی لے سکتے ہیں تو بلوچ قومی آزادی کے امکان کو کون روک سکتا ہے ایک وقت تھا کہ افریقہ کو غلام نسلوں کا براعظم کہا جاتا تھالیکن آج پورا افریقہ آزاد ہے جنہوں نے اپنے کم وسائلی کے باوجوغاصبوں کے خلاف جدوجہد کرکے کرہ ارض میں اپنی قومی اورجغرافیائی حیثیت کو تسلیم کروا کر غاصب اور قبضہ گیروں کے دیئے گئے غلامی کی پہچان کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے مٹاکر تاریخ میں اپنے آپ کو وہ عزت و مقام دلوایا جو غاصبوں کے وہم و گمان میں نہیں تھا افریقہ کے آزادی کے رہنمانیلسن منڈیلا جسے کل تک قابض برطانیہ دہشت گرد قرار دیتے تھے لیکن آزادی کے بعد اسے نوبل امن کا انعام ملنا آزادی کی جنگ لڑنے اور جدوجہد کرنے والوں کی جیت ثابت ہوئی جہاں نیلسن منڈیلا کے ساتھ ساتھ آزادی کی جدوجہد کرنے والے قومیں سرخرو اور قابض اور غاصب قوتیں شرمسار ہوچکے ہیں اور آج قبضہ گیر قوتیں جن بلوچ سپوتوں کو دہشت گرد قرار دیکر شہید کررہے ہیں کل تاریخ کے سامنے بلوچ شہدا ء سرخرواور پنجابی و ایرانی قابضیں کو اسی طرح شرمسار ہونا پڑیگا جس طرح کہ برطانیہ جلیانوالا باغ کے سانحہ پر ہندوستانیوں کے سامنے شرمندہ اور معافی مانگنے کی پوزیشن پر ہے

Previous post

شہید بابو نوروز خان کے فرزند کے گھر پر ریاستی فورسز کا حملہ چادر و چار دیواری کی تقدس کی پائمالی اور اور بلوچ آبادی کو ہراسان کرناجاری ریاستی دہشت گردی کا تسلسل اوربلوچ نسل کشی کا حصہ ہے بلوچ سالویشن فرنٹ

Next post

اسپیلنجی کابو اور جوہان کے گرد و نواح میں ریاستی فورسز کی جارحیت مستونگ میں چار بلوچ فرزندوں کی حراستی قتل اور ان کی لاشیں مسخ کرکے پھینکنے کا مجرمانہ عمل اور بلوچ راجی شاعر مبارک قاضی کے گھر پرحملہ جاری بلوچ نسل کشی کا تسلسل ہے بلوچ سالویشن فرنٹ