شہید مجید اول کا کردار حوصلہ اور قربانیاں ہمارے لئے مشعل راہ ہے شہید مجید اپنے تین بھائیوں کے ہمراہ آگائی و آزادی کے اس سفر میں مادر وطن کی مٹی میں آسودہ خاک ہے . بلوچ سالویشن فرنٹ
بلوچ وطن موومنٹ بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ اور بلوچ گہار موومنٹ پر مشتمل بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جار ی کئے گئے بیان میں کہاہے کہ شہید مجید اول کا کردار اور قربانیاں ہمارے لئے مشعل راہ ہے جنہوں نے قومی غلامی کے خلاف جدوجہد کرتے ہوئے آزادی جیسے اعلی مقصد کے لئے اپنی جان سے گزر کر غیر معمولی حکمت عملی کے ساتھ بھٹو شاہی کے خلاف فدائی حملے کے دوران شہید ہوگئے وہ بلوچ قوم کو غلامی کے تعفن اور دلدل سے نکالنے کے لئے جس راستہ کو اپنائی اور جس حوصلہ کے ساتھ جدوجہد کی
گوکہ آج وہ ہمارے درمیان موجود نہیں لیکن ان کی سوچ فکر و فلسفہ اور حوصلہ دشمن کی طاقت اور غرور کو توڑنے کے لئے کافی ہے ایسے بہادر انقلابی کرداروں کا خلاء اس وقت پر کیا جا سکتا ہے جب ان کے راستہ اورمشن کے ساتھ ان کے طریقہ کار اور فلسفہ کو اپنائی جائے ترجمان نے کہاکہ جدوجہد آزادی اتارو چڑاھاہوکا سنگ میل ہے یہ راہ پھولوں کی سیج نہیں بلکہ کانٹوں کا سفر ہے اس راہ میں کئی مشکلات اور مصائب انقلابیوں کا ہمیشہ استقبال کرتی آئی ہے ہے لیکن ان مصائب کا خندہ پیشانی سے مقابلہ کرتے ہوئے دشمن سے بھرپور قربانیوں کے ساتھ نبرد آزما ناہی دشمن کی شکست ہے ترجمان نے شہید مجید اول کو قومی قربانیوں اور غیر معمولی کردار پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاکہ شہید مجید اپنے تین بھائیوں کے ہمراہ آگائی و آزادی کے اس سفر میں مادر وطن کی مٹی میں آسودہ خاک ہے ان کے والد بزرگوار کماش محمد خان لانگو کے حوصلہ اور عزم قابل تحسین ہے جن کے سایہ ایسے بہادر سپوت اور انقلابی رہنماء پیدا ہوئے جنہوں نے بلوچ قومی آزادی تشخص اور شناخت کے کے لئے ثابت قدمی کے ساتھ قبضہ گیریت کے خلاف جدوجہد کرکے مٹی کا قرضہ چکاتے ہوئے قوم دوستی کا حق ادا کردیا ترجمان نے کہاکہ شہید مجید اول ثانی اورشہید سگار اگرچہ راہ آزادی میں ہم سے جسمانی طور پر بچھڑ گئے لیکن ریاست اپنی تمام تر اثر و رسوخ اور طاقت کے باوجود ان کے مشن اور نصب العین کو شکست دینے میں ناکام ہوگیا ترجمان نے کہاکہ بلوچ قومی جدوجہد کے شدت سے آج ریاست کو اپنی عملداری اور قبضہ میں جن مشکلات کا سامنا کیا ہے چند سال پہلے ریاست کو اس گمان نہیں تھا یہ ان شہداء اور جہد کاروں کے قربانیوں اور پاک لہو کا نتیجہ ہے جو آج ریاست کو آکسیجن ماسک پہ لا کھڑا کیاہوا ہے ریاست اپنی پوری قوت کے ساتھ قومی جہد کاروں جہد آزادی کے خیر خواہوں اور ہمدردوں کو نشانہ بنارہی ہے لیکن کوئی بھی ریاستی حربہ ریاستی مقاصد کی تکمیل میں مددگار نہیں ہورہا ہے جبکہ بلوچ عوام آزادی کی حمایت میں بڑی تعداد میں ہاتھ بلند کرکے ریاست کی دست نگر بننے کے بجائے ایک آزاد و باوقار مستقبل کو اپنی منزل سمجھتے ہیں جو ریاست کے بے چینی اور تناؤ میں اضافہ کاسبب ہے


