شہید مجید جان نے بلوچ وت واجہی کے جدوجہد میں انفرادی قربانی کی شکل میں بلوچ قوم کو آزادی اور جدوجہد کاراستہ دکھاکر واضح کردیا کہ قومی آزادی کے لئے جدوجہد اورمسلسل قربانیوں کے بغیر بلوچ قوم کی معیار زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گا
: 2.8.2013
بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں شہید مجید اول کو ان کی قومی قربانیوں اورشہادت پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاکہ شہید مجید جان کا کردار بلوچ قوم کے لئے مشعل راہ ہے جنہوں نے انتہائی اعلی مقصد کے لئے اپنی جان سے گزر ثابت کردیا کہ آزادی اور وت واجہی کے لئے قومی قربانیاں تاریخ کا رخ موڑ کر انقلاب کے لئے راء ہموار کرتے ہیں شہید مجید جان نے بلوچ وت واجہی کے جدوجہد میں انفرادی قربانی کی شکل میں بلوچ قوم کو آزادی اور جدوجہد کاراستہ دکھاکر واضح کردیا کہ قومی آزادی کے لئے جدوجہد اورمسلسل قربانیوں کے بغیر بلوچ قوم کی معیار زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گا بلکہ غلامی کا خاتمہ صرف اور صرف آزادی کا حصول ہے انہوں نے قبضہ گیر کے نمائندے بھٹو شاہی کے خلاف فدائی حملہ میں ان تمام بہرے کانوں کو واضح پیغام دیا کہ بلوچ وطن قبضہ گیر ریاست کا قانونی اور فطری حصہ نہیں بلکہ مقبوضہ خطہ ہے اور بلوچ قوم کھبی بھی اس جعلی پاکستانی شناخت کو اپنی الگ قومی شناخت خود مختاری زبان ثقافت اور آزادی کے برابر تصور نہیں کرے گا ترجمان نے کہا ہے کہ کماش محمد خان لانگو کی عزم اور حوصلہ بھی قابل تحسین ہے کہ جن کے تین بیٹے انتہائی بے باکی بہادری اور بے لوث جذبوں کے ساتھ قبضہ گیر کے خلاف لڑتے ہوئے قومی محافظ کے حیثیت سے کردار ادا کرتے ہوئے وطن کی مٹی پر قربان ہو چکے ہیں جن کی قابل فخر قومی کردار اور قربانیان بلوچ تاریخ میں انہیں نمایاں جگہ دی ہیں ترجمان نے کہا کہ جدوجہد ایک واقعہ یا حادثہ نہیں بلکہ ایک مسلسل تبدیلی کے عمل کا تسلسل ہے کوئی بھی واقعہ اور قربانی تبدیلی کے اس تسلسل کے لئے ایندھن کی حیثیت رکھتے ہیں آج ایماندار اور باصلاحیت قوم دوست نوجوانوں اور بزرگوں کے قربانیوں نے دشمن اور ان کے خیمہ بردار مقامی دلالوں کو طشت ازبام کرچکے ہیں اور ان کی غدارانہ اور دشمنانہ کردار سے پردہ اٹھ گیا ہے اور بلوچ جدوجہدکی شدت اور سرگرمی سے بڑھتے ہوئے تحریک آزادی سے قبضہ گیر کے اور ان کے مقامی اشرافیہ کے ایوانوں میں بھونچال آگیا ہے جس سے قبضہ گیر اپنی جارحیت میں اضافہ کردیا ہے اور بلوچ تحریک آزادی کے خلاف کاؤنٹر انسرجنسی کے تمام حربے استعمال کئے جارہے ہیں بلوچ آزادی پسندوں کا حراستی قتل عام سمیت ریاست کے خاموش دستے جنہیں جمہوریت کا خول چڑھاکر بلوچ تحریک آزادی کے خلاف استعمال کیاجارہاہے جن میں پارلیمنٹ اورغیر فطری انتخابی عمل کو کلیدی ہتھیار کے طور پر بلوچ تحریک آزادی کے خلاف استعمال کیا جارہا ہے جو عین کاؤنٹرانسرجنسی ہے ترجمان نے کہا کہ لاپتہ افرادکی بارے میں ٹاسک فورس کی تشکیل ریاستی دہشت گردی کی پردہ پوشی اور پشت پنائی ہے ایسے ناٹک اور ڈراموں کے زریعہ بلوچ قوم کو نہیں بہکا یا جا سکتا حالانکہ پوری دنیا جانتی ہے کہ کاؤنٹر انسر جنسی کا عمل چائے وہ کسی بھی شکل میں ہو کسی فوجی سرپرستی کے بغیر نہیں ہوتا اور بلوچستان میں جتنے نوجوانون کو اغواء کرکے انہیں شہید کیا جارہائے یہ سب کچھ خود رو انداز میں نہیں ہورہا بلکہ اس کے پیچھے ایک منظم ریاستی دہشت گردی اور منصوبہ بندی ہے لیکن ریاست کے بعض ادارے اس سے آنکھ بچاکر اس کی زمہ داری لینے کو تیار نہیں اور مغوی بلوچوں کی بازیابی لاشوں کی صورت میں پھینکی جارہی ہے جو عالمی جنگی قوانین کی سراسر خلاف ورزی ہے مغوی بلوچوں کا مسئلہ پاکستانی ریاست کی پارلیمانی اور عدالتی حل کا محتاج نہیں بلکہ یہ ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے جب تک مغوی بلوچ سپوتوں کی جنگی حیثیت کا تعین نہیں کیا جاتا اور نوآبادیاتی طاقت کے خلاف بلوچ قوم کی دفاعی اقدام کو تسلیم نہیں کیا جاتا ہم سمجھتے ہیں کہ قبضہ گیر کی جانب سے لاپتہ افراد کی درجہ بندی عدلیہ کی جھوٹی ہمدردی اور ٹاسک فورس کی تشکیل نہ صرف پرانے ڈھکوسلہ ہیں بلکہ بلوچ قوم کے ساتھ جذبات مجروح کرنے کی مترداف ہے تاکہ وہ اس طرح کے جھوٹی تاویلوں سے قبضہ گیر کے گناہوں کی پردہ پوشی کرسکیں ترجمان نے کہا کہ اقوام متحدہ اور امریکہ سمیت عالمی دنیا کا فرض بنتاہے کہ وہ قبضہ گیر ریاست کو جنیوا کنونشن کے فیصلوں پر عمل داری کے لئے دباؤ ڈالیں اقوام متحد کی قانونی اور اخلاقی زمہ داری بنتی ہے کہ وہ بلوچ جدوجہد کی براہ راست حمایت کرکے مغوی بلوچوں اور بلوچ سیاسی قیدیوں کو جنگی قیدی قرار دیں ہم کسی بھی ملک اخلاقی سفارتی اور بین الاقوامی حمایت کا خیر مقدم کریں گے


