×

شہید ورنا نوروزخان احمد زئی اور شہید پروفیسر عبد الرزاق موسیانی کو انکی قومی شہادت قربانیوں اور بے لوث جدوجہد پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں بلوچستان انڈیپنڈنس موومنٹ

شہید ورنا نوروزخان احمد زئی اور شہید پروفیسر عبد الرزاق موسیانی کو انکی قومی شہادت قربانیوں اور بے لوث جدوجہد پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں بلوچستان انڈیپنڈنس موومنٹ

15.7.2013
بلوچستان انڈیپنڈنس موومنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ ایک بیان میں شہید ورنا نوروزخان احمد زئی اور شہید پروفیسر عبد الرزاق موسیانی کو انکی قومی شہادت قربانیوں اور بے لوث جدوجہد پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاہے کہ بلوچ آزادی پسند نوجوانوں اور اہل دانش کا قتل جاری ریاست دہشت گردی کا تسلسل ہے شہادتون سے جہد آزادی کے راستہ میں رکاوٹیں پیدا نہیں کی جاسکتی بلوچ زخمی ضرور ہے مگر کاز زندہ ہیں پاکستانی قبضہ کو کسی بھی حیثیت میں تسلیم کرنے کے لئے گنجائش موجود نہیں چائے ریاست اس سے کئی گناہ زیادہ اپنی دہشت گردیوں میں شدت لائے بلوچ وطن پر بلوچ قوم کے سوا کسی بھی قوم کاحق نہیں عالمی دنیا بلا جھجھک ہماری آزادی کی حمایت کریں ترجمان نے کہا ہے کہ ریاستی دہشت گردی سے بلوچ قوم کی عالی حوصلوں اور جدوجہد آزادی کوکمزور نہیں کیا جاسکتا آزادی بلوچ قوم کا سیاسی قومی اور سفارتی موقف ہے کوئی بھی ریاستی چال اور دہشت گردی بلوچ قومی آزادی کے اصولی موقف سے دستبردار نہیں کرسکتا غلامی اور قبضہ کے خلاف خاموشی قوموں کی موت ہے جب کہ جدوجہد ہی قوموں کو زندگی کی علامت ہیں روح سوز حراستی قتل عام اور اندوہناک جارحیت سے ہمیں خاموش نہیں کیا جاسکتا ریاستی دہشت گردی پر بلوچ قوم پرستی کی نام نہاد دعویداروں کی بزدلانہ اور معذرت خواہانہ لہجہ قابل دید ہیں لاپتہ افراد کے معاملہ پر بلوچ قوم سے قبضہ گیر کے بعض حلقون کی نام نہاد ہمدردی بھی ریاست کی ایک چال ہے تاکہ بلوچ جدوجہد کو لاپتہ افراد کی بازیابی سے منسلک کرکے دنیا کو گمراہ کرنے کی کوشش کیا جاسکے ترجمان نے کہا کہ بلوچ مسئلہ کا حل کسی بھی ریاستی نقطہ نگاہ سے بالاتر قومی آزادی کی ہے امن اور مزاکرات سمیت نام نہاد جمہوریت کے پر فریب نعرون کی ہمارے ہان کوئی اہمیت نہیں بلوچیت کی آڑ میں سیاست سے منسلک پارلیمانی جماعتیں اپنی مصلحت پرستی اور تابعداری کے زریعہ ریاستی قبضہ کے لئے ایندھن بن رہے ہیں وہ بلوچ قومی تقاضون سے ہم آہنگ نہیں ان کی سوچ بلوچ قومی موقف کے بجائے ریاستی موقف کی ترجمانی اور نمائندگی پر مبنی ہے بلوچ قوم کا مسئلہ ترقی تعلیم اور مراعات نہیں آزادی اور اختیار ہے ترقی کے بانسری بجانے والے بلوچ قوم کو خودمختار نہیں محتاج اور بھیک منگا بننے کی کوشش کررہے ہیں ترجمان نے کہا کہ آزادی کی تحریک ایک مقدس جدوجہد ہے اسے دہشت گردی کے زریعہ ختم نہیں کیا جاسکتا تحریک آزادی نے بلوچ قوم کو منظم کرنے کے ساتھ ساتھ قومی بیداری میں شدت لاکر سماج میں ریاست کے خلاف ابال اور جدوجہدکے لئے اٹھنے والے قدموں کونہ صرف غیر متزلزل کردیا ہے بلکہ غلامی کی آہنی بیڑیوں کو توڑنے کے لئے بے پناہ کوششیں کرکے بلوچ قوم کو قبضہ گیریت کے خلاف واضح رخ اور سمت دی ہیں

Previous post

شہدائے بلوچستان 15جولائی کے شہداء کاکا کردار تحریک آزادی میں ہمیشہ دہرائی جا ئے گی انہیں ان کی قومی شہادت اور آزادی کی جدوجہد میں بے پنا اور غیر معمولی قربانیوں پر سرخ سلام پیش کرتے ہیں بلوچ سالویشن فرنٹ

Next post

بی این ایم کے مرکزی سیکریٹری جنرل نے اپنے اخباری بیان میں سوشل میڈیامیں گروہیت علاقائیت شخصیت پرستی اورجدوجہد میں کمزوریوں اور کوتاہیوں کے حوالہ سے حقیقی بحث و مباحثے کوزہر آلود اور آزادی اور یکجہتی دشمنی سے تعبیر کرتے ہوئے زمینی حقائق سے چشم پوشی کی ہے