فروری کے مہینے میں شہید ہونے والے سپوتوں شہید اسد بلوچ شہید احمد شاہ بلوچ شہیدحاجی جان محمد مری شہید سہراب مری شہید ثناء سنگت بلوچ اور شہید محبوب واڈیلہ کو ان کی قومی شہادت پر سرخ سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جدوجہد اور زندگی ہمارے لئے کھلی کتاب کی مان
22.2.2013
بلوچ وطن موومنٹ بلوچستا ن انڈیپینڈنس موومنٹ اور بلوچ گہار موومنٹ پر مشتمل الائنس بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے فروری کے مہینے میں شہید ہونے والے سپوتوں شہید اسد بلوچ شہید احمد شاہ بلوچ شہیدحاجی جان محمد مری شہید سہراب مری شہید ثناء سنگت بلوچ اور شہید محبوب واڈیلہ کو ان کی قومی شہادت پر سرخ سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جدوجہد اور زندگی ہمارے لئے کھلی کتاب کی مانند ہے ان کی قربانی جزبہ ایثار اور فکر و فلسفہ کو مشعل راہ بناکر آزادی کا قافلہ روان دوان رہے گا انہون نے کہا کہ شہداء ہماری قومی ہیرو ہے جنہوں نے بلوچ قومی نجات کی جدوجہد میں کھٹن اور مشکل حالات کا سامنا کرتے ہوئے ریاست کی کسی بھی ہتھکنڈے کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے آخر دم تک آزادی کی جدوجہد سے فکری و عملی طور پر وابسطہ ہوکر خاک وطن پر قربان ہوگئے جن اقوام میں قربانی دینے والے بہادر سپوت موجود ہو اس قوم کو بڑے سے بڑا سپر پاور بھی شکست نہیں دے سکتا ترجمان نے کہا کہ اگر قوموں کی جدوجہد اور تاریخ پر نظر دوڑائی جائے توبرطانیہ امریکہ و جاپان سمیت کسی بھی ملک نے قومی تحریکوں کوزیر نہیں کرسکا بلکہ کیوبا چین اور ہندوستان افریقہ آج آزاد ملکوں کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر موجود ہے آج بلوچ وطن میں بھی ریاست اپنی تمام تر سامراجی ہتھکنڈوں کے ساتھ بلوچ قومی تحریک کو ریاستی دہشت گردی کے زریعہ دبانے کی جس مجرمانہ منصوبہ پر عمل پیرا ہے وہ ریاست کی ناکامی و نامرادی پر منتج ہے اپنی تمام طاقت استعمال کرنے باوجود بھی ریاست بلوچ تحریک کی حمایت اور بلوچ نوجوانوں کی شمولیت کوروک نہیں سکا ترجمان نے کہا کہ جہان قومی شعور کا سطح بلند ہو وہاں خوف و دہشت پھیلانے سے تحریک سے رشتہ نہیں توڑا جا سکتا بلوچ قومی تاریخ مزاحمت اور جدوجہد کی تاریخ ہے بلوچ قوم نے ہر بیرونی حملہ آور کا مقابلہ مزاحمت عزم اور بلند حوصلے سے کیا ہے کسی بھی طاقتور کی زور آزمائی کا پرواہ کئے بلوچ قوم اپنی کم وسائلی کے باوجود ان کا مقابلہ کیا ہے اور ہتھیار کوزیور بازو سمجھتے ہوئے ہمیشہ اپنی دفاع اور حفاظت کی ہے اور آج بھی بلوچ اپنے مقدرسے غلامی کی سیاہی مٹانے کئے لئے ایک آزاد مستقبل کے خوابوں کو عملی جامہ پہنانے کے لئے متحرک ہے ترجمان نے کہا کہ گزشتہ دنوں خاران میں متعدد گھروں پر چھاپہ مار کر عورتون اور بچون کو تشدد کا نشانہ بناکرتین بلوچ نوجوانوں خلیل بلوچ مقبول اور نور آحمد بلوچ کو اغواء کرکے لاپتہ کردیا جو کہ ریاست کی بوکھلاہٹ اور پریشانی کی عکاسی کرتی ہے ایسے کئی بلوچ نوجوانوں کے اغواء کے بعد بھی پاکستانی ریاست مقبوضہ بلوچستان کو اپنی زیر اثر لانے میں ناکام ہوگیا ہے جب کہ بلوچ جدوجہد کی طاقت او حمایت میں علاقائی و عالمی سطح پر اضافہ ہواہے


