فلسطین غزہ میں اسرائیلی جارحیت کی مزمت اسرائیل عالمی برادری اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کی خاموشی سے بھر پور فائدہ اٹھاکر جنگی قوانین کے مسلسل خلاف ورزی کررہی ہے. بلوچ سالویشن فرنٹ
بلوچ وطن موومنٹ بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ اور بلوچ گہار موومنٹ پر مشتمل الائنس بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کئے گئے بیان میں فلسطین کے علاقہ غزہ میں اسرائیلی جارحیت کی مزمت کرتے ہوئے کہاہے کہ گزشتہ چند ہفتوں میں اسرائیل نے آٹھ سو سے زائد فلسطینی باشندوں کو موت کے گھاٹ اتار کر شہید کرکے سفاکیت کی انتہاء کردی ہے فلسطین میں جاری بلا امتیاز کاروائیوں میں نوزائیدہ بچے خواتین اور معمر افراد کو بھی نشانہ بنا یا گیا ہے جبکہ زخمیوں کو لے جانے والے ایمبولینس گاڈیوں کو بھی ہدف بنا یا جارہاہے الجزیرہ ٹی وی نے غزہ میں اسرائیلی حملوں کے دوران سفید فاسفورس بموں کے استعمال کا انکشاف بھی کیا ہے
جبکہ اس کی تصدیق خود اسرائیلی فوج نے بھی کی ہے لیکن اسرائیلی جارحیت اور مظالم پر عالمی برادری مسلسل خاموشی کے ساتھ لب سے لئے ہیں انسانی حقوق کے چیمپیئن ممالک امریکہ اور یورپی یونیں اس سلسلے میں بلکل خاموش ہے اقوام متحدہ عرب لیگ او اوآئی سی کا کردار بھی دنیا کے سامنے ہے کہ وہ اسرائیلی کاروائیوں کی مزمت کرنے کے بجائے کھل کر ان کی پشت پنائی کررہے ہیں جبکہ اسرائیل عالمی برادری اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کی خاموشی سے بھر پور فائدہ اٹھاکر جنگی قوانین کے مسلسل خلاف ورزی کررہی ہے ترجمان نے کہاکہ جہان اقوام متحدہ اور امریکہ کے مفادات اور دلچسپیاں ہووہاں اقوام متحدہ بلاتاخیراورفوری مداخلت کرتا ہے لیکن جن ممالک میں ان کے مفادات اور دلچسپیاں میل نہیں کھاتے وہاں ریاستی دہشت گردی اور انسانی حقوق کے پائمالیوں پر گہری خاموشی اختیار کرتے ہیں ترجمان نے کہاکہ فلسطین کی طرح بلوچ وطن میں قبضہ گیر ریاست کے بلوچ نسل کشی پر مبنی کاروائیوں پر اقوام متحدہ کے دروازے پر بار بار دستک دینے کے باوجود اقوام متحدہ گہری نیند لے کر حساس اور سنگیں صورتحال کو مسلسل نظر انداز کررہاہے جبکہ ریاستی کاروائیوں پر کوئی ٹھوس کاروائی یاقابل زکر پیش رفت ادا کرنے سے مکمل قاصرنظر آرہاہے ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اقوام متحدہ عالمی قوتوں اور ان کے کالونیل ایجنٹوں کو تنبیہ کرنے کے بجائے انہیں بھر پور تحفظ فراہم کرتا ہے جس طرح اسرائیل اور قابض پاکستانی و ایرانی ریاست کو اقوام متحدہ کی مجرمانہ خاموشی سے کھلی چھوٹ ملی ہے ترجمان نے کہاکہ ریاست کی جانب سے ہزاروں بلوچ فرزندوں کی اغواء اور ہزاروں کی تعداد میں ان کے لاشیں پھینکنے کے سنگیں نوعیت کے واقعات کے باوجود اقوام متحدہ کے کانوں تک جوں نہیں رینگی اور وہ اب تک ریاست کے مرضی منشاء کو ٹھیس پہنچانے اور ان کے جارحیت و قبضہ گیریت کو سبوتاژ کرنے کے لئے سست روی کا مظاہرہ کررہاہے ترجمان نے کہاکہ اقوام متحدہ کا کردار اور مہارت سب کے سامنے ہے ان کے بے حسی اور مصلحت کا اندازہ فلسطیں اور بلوچستان میں واضح طور پر دیکھا جاسکتاہے کہ اس ادارے کا کردار کس قدر نامناسب اور کمزور ہے بلوچستان میں ہونے والے واقعات میں سے ایک بھی یورپین ممالک میں رونماہوتاتو اقوام متحدہ اور عالمی برادری آسمان کو سرپہ اٹھالیتے لیکن ستم رسیدہ بلوچ اور فلسطینی باشندوں پر ہونے والے مظالم پر مجرمانہ خاموشی سے ہم یہ اندازہ لگاسکتے ہیں کہ اقوام متحدہ مقبوضہ اور مظلوم قومون کے نمائندہ ادارہ نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کا مہرہ ہے


