قلات اور اس کے ملحقہ علاقوں میں مجرمانہ ریاستی کاروائیاں بلوچ نسل کشی کاحصہ ہے بلوچستان کو 1947میں بلوچ قوم کی مرضی و منشاء کے خلاف فوجی کاروائی اور مداخلت کے زریعہ نام نہاد پاکستانی وفاق کا حصہ بنا یا گیا بلوچ سالویشن فرنٹ
8.4.2014
بلوچ وطن موومنٹ بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ اور بلوچ گہار موومنٹ پر مشتمل اتحاد بلوچ سالویشن فرنٹ نے اپنے جاری کئے گئے مرکزی ترجمان میں قلات اور اس کے گردو نواح میں نہتے اور عام بلوچ آبادیوں پر قبضہ گیر ریاستی فوج کی وحشیانہ کاروائیوں کو جاری ریاستی دہشت گردی کا تسلسل قرار دیتے ہوئے کہاکہ گزشتہ دنوں قلات اور اس کے ملحقہ دیہی بلوچ سول آبادیوں پر ریاستی فوج نے علی الصبح گن شپ ہیلی کاپٹروں اور جیٹ طیاروں سے وقفے وقفے کے ساتھ بمباری کی گئی اور جدید ہتھیاروں سے فائرنگ اور شیلنگ کے ساتھ کئی بلوچوں کی جھگیوں اور گھروں کو جلایا گیافضائی اور زمینی کاروائیوں سے کئی بلوچ خواتین بچے زخمی اور شہید ہوچکے ہیں اور کئی عام اور نہتے بلوچ فرزندوں کو ریاستی فورسز نے حراست میں لے کر لاپتہ کردیاہے ترجمان نے کہاہے کہ ریاست بلوچ تحریک آزادی کے ابھار اور شدت سے خوفزدہ ہوکر تمام تر انسانی و بیں الاقوامی ضابطوں اور قوانین کو پس وپشت ڈال کرجنگی جرائم کا ارتکاب کررہاہے قلات اور اس کے ملحقہ علاقوں میں حالیہ مجرمانہ ریاستی کاروائیاں بلوچ نسل کشی کاحصہ ہے ترجمان نے کہاکہ بلوچستان کو 1947میں بلوچ قوم کی مرضی و منشاء کے خلاف فوجی کاروائی اور مداخلت کے زریعہ نام نہاد پاکستانی وفاق کا حصہ بنا یا گیا تاریخی طور پر بلوچ سرزمین پاکستان کا حصہ نہیں جبکہ بلوچ قوم 63 سال سے اپنی قومی آزادی کے لئے ہزاروں جانوں کی قربانی کے ساتھ بلجبر قبضہ کے خلاف مزاحم اور برسر پیکار ہے جب کہ ریاست زبردستی اپنے قبضہ گیریت کو دوام دینے کے لئے قتل عام کرکے بلوچ قوم کو خاک و خون میں نہلا رہاہے اور اپنی تمام تر طاقت اور وسائل کو بلوچ قومی آزادی کے خلاف خرچ کررہی ہے تاکہ بلوچ ان کی عسکری دہشت سے خوفزدہ ہوکر آزادی کے صفوں سے دور ہے لیکن ریاست اپنی تما م ترطاقت استعمال کرنے اور اپنے زرخرید سیاسی حلیفوں اورپارلیمانی مہروں کو استعمال کرنے کے بعد بلوچ قوم کو نفسیاتی اور اعصابی طور پر کمزور کرنے میں ناکام ہوچکاہے اب وہ اپنی شکست چھپانے کے لئے عام آبادیوں بچوں اور خواتین کو نشانہ بناکر شہید کررہی ہے ترجمان نے کہا ہے کہ بلوچ قوم کی پانچ دہائیوں پر محیط آزادی کی جدوجہد کی تاریخ خون آلود اوراق کے ساتھ روشن اورزندہ ہے شہداء کے خون کے گرتے ہر قطرہ میں آزادی کی امید اور حوصلہ موجود ہے جہاں قومی رضاکار کسی بھی فروعی مفاد سے ہٹ کر مقصد کو زہن میں رکھتے ہوئے قربانیاں دینے پرگامزن ہے ایسی تحریکیں جو سائنسی بنیادوں اور فکری ونظریاتی ہتھیار سے لیس ہو ایسے سوچ آزادی کو دنیا کا کوئی سپر پاور شکست نہیں دے سکتا ترجمان نے کہاکہ بلوچ وطن میں ریاستی فورسز کی غیر معمولی نقل و حرکت راہ گیروں کی جامہ تلاشی کریک ڈاؤنز اور پکڑ دھکڑ اور اغواء نماء گرفتاریان 1947سے لے کر اب تک ایک تسلسل کے ساتھ جاری ہے جب کہ اس کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے کی دہشت گردانہ کاروائیوں میں ریاست کی جانب بلوچ آبادیوں پر جیٹ طیاروں کوبرا ہیلی کاپٹرز اور فوجی لڑاکا طیاروں کے زریعہ بمباری کا سلسلہ بھی ایک تسلسل رکھتی ہے ترجمان نے کہاکہ ریاست بلوچ قوم کی دفاعی جدوجہد کو کچلنے کے لے عالمی ضمیر کے سامنے ببانگ دہل خونریزی کا سلسلہ جاری رکھ کر بلوچ تحریک آزادی کو غیر ملکی ایجنڈے حصہ قرار دے کر جس طرح زمینی حقائق کو مسخ کر کے پیش کررہے ہیں لیکن اقوام متحدہ اور عالمی انسانی حقوق کے چیمپین ادارے خاموش تماشائی کے ساتھ ریاست کے گمراہ کن پروپیگنڈوں اور جنگی جرائم کو مسلسل نظر انداز کرکے ان کے گھناؤنے عمل کی مزمت کرنے بجائے بلواسطہ ان کی حوصلہ افزائی کا سبب بن رہے ہیں


