قلات میں بلوچ بچیوں کی بے رحمی کے ساتھ قتل اور ان کی لاشیں پھینکنے کا عمل قابل مذمت اور انسانی وقا ر کی منافی عمل ہے ایسے گھناؤنے واقعات کا ابھار بلوچ قومی و قبائلی روایات کے منافی ہے بلوچ سالویشن فرنٹ
10.1.2014
بلوچ وطن موومنٹ بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ اور بلوچ گہار موومنٹ پر مشتمل الائنس بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے کہاہے کہ قلات میں دو بلوچ بچیوں کی بے رحمی کے ساتھ قتل اور ان کی لاشیں پھینکنے کا عمل قابل مذمت اور انسانی وقا ر کی منافی عمل ہے ایسے گھناؤنے واقعات کا ابھار بلوچ قومی و قبائلی روایات کے منافی ہے بلوچ روایات کسی بھی سطح پر اس طرح کے مجرمانہ عمل کا دفاع اور حوصلہ افزائی نہیں کرتا بلکہ بلوچ سماج خواتین کی عزت و تکریم کے حوالہ سے درخشان روایات کی امیں ہے چند لوگ ریاستی آشیر باد سے ایسے انسانیت سوز واقعات کا مرتکب ہوکر بلوچ معاشرہ کے اعلی قدروں کو آلودہ کرنے کی مزموم کوششوں میں مصروف ہے تاکہ ایسے گھناؤنے واقعات کے زریعہ دنیا کو بلوچ سماج کے حوالہ سے ایک غلط عکس دکھایا جا سکے ترجمان نے کہاہے کہ ریاست مختلف محازوں پر بلوچ قوم کے خلاف سرگرم عمل ہے ریاست اپنی غیر قانونی حاکمیت کی بنیادوں کو مضبوط اور مستحکم کرنے کے لئے بلوچ سماج میں تفرقہ اور انتشار پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ ایسے گھناؤنے واقعات میں ملوث ملزماں کی ہمیشہ سے دفاع کرتی ہے اور اس بار بھی ریاستی سطح پر ملزمان کی سرپرستی ریاست کی انہی پالیسیوں کا حصہ ہے جو پچھلے ساٹھ سال سے بلوچ قو م کے ساتھ روا رکھی جائے ترجمان نے کہاکہ قلات واقعہ میں ملوث افراد چائے کتنا ہی با اثر ہو انہیں کیفر کردار تک پہنچا جائے ان کی مجرمانہ عمل نہ صرف نا قابل معافی ہے بلکہ بلوچ معاشرہ پر ایک بد نما داغ ہے ہمیں ایسے ظالمانہ اور غیر انسانی روایات کی ہر سطح پر حوصلہ شکنی کرکے ایسے فرسود گیوں کو طشت ازبام کرنا چاہیے بلوچ سماج مہذب رسم رواج اور اعلی انسانی اقدار پر مبنی ہے جو کوئی بھی اس طرح کے غیر انسانی اور غیر اخلاقی عمل کا حصہ بن کر اسے بلوچ روایت خیال کرتاہے یہ ان کی بلوچ تاریخ سے نا بلدی اور ناواقفیت ہے بلوچ سماج معاشروں کے ایسے مجرموں کو انسانیت کا مجرم قرار دیتی ہیں ترجمان نے ڈگری کالج تربت پر فورسز کی چھاپہ اور بلوچ طلباء کی اغواء نما گرفتاری کو کاؤنٹر انسرجنسی کے پالیسیوں کا تسلسل قرار دیتے ہوئے کہاکہ قابض بلوچ راجی جہد آجوئی سے شکست کھاکر اپنی ناکامی چھپانے کے لئے سول آبادیوں کو نشانہ بنانے کے بعد دوسرے مرحلے کے طور اب تعلیمی اداروں پر دھاوا بول رہی ہے ریاست بلوچ تحریک آزادی کے مضبوط و مستحکم بنیادوں کو توڑنے کے لئے اپنی تمام تر وسائل اور طاقت کے استعمال کے باجود ناکامی سے بری طرح دو چار ہوکر اب سلسلہ وار تعلیمی اداروں کارخ کررہاہے لیکن اس بار بھی ریاستی دہشت گردی کو شکست ہوگی پچھلے کئی سالوں سے بلوچ سماج کو خاک و خون میں تڑپانے کے باوجود قابض ریاست بلوچ عوام کی آزادی سے والہانہ محبت اور دھرتی سے اٹوٹ رشتہ میں دراڈ پیدا نہ کرسکی نہ ہی بلوچ عوام کا اعتماد اور حمایت جیت سکا یہ بلوچ عوام کی پختہ شعوراور قومی بیداری کا عکاس ہے جب کہ چند لوگوں کو چلتے پھرتے روبوٹ بناکر ان کے ہاتھ میں اقتدار کی ڈھوری دیکر انہیں بلوچ مسیحا کے طور پر پیش کرنے کی شاطرانہ چالیں بھی چلا ئی ان اورکے زریعہ اپنے زہریلے نظریات کو پھیلانے اور بلوچ عوام کو گمراہ کرنے کرنے مجرمانہ کوششیں کرکے بلوچ قوم کو بجلی گیس نلکہ نالی اور شہری حقوق کے بے بنیاد مطالبات سے ہم آہنگ کرکے سیاسی رائے عامہ کو آلودہ کرنے کی کوشش بھی کی لیکن انہیں ہر سطح پر ناکامی و ناکامی کا سامنا کرنا پڑا جب کہ تربت ڈگری کالج پر چھاپہ ان کی غصہ فرسٹیشن اور بھوکلاہٹ کو نمایان کرتا ہے


