مادر بلوچستان شہیدبی بی جانتاب عرف ہائی رہیسانی شہید رزاق گل بلوچ شہید حمید ریکی شہید عمر جان شہید سعود بلوچ اور شہید وہاب بلوچ کوخراج عقیدت شہداء آزاد ی کی قربانیوں کو دہرانا آزادی کی مشن کو جاری رکھنے کے لئے تجدید عہد ہے ۔بلوچ سالویشن فرنٹ
21.5.2014
بلوچ سالویشن فرنٹ کے ترجمان نے اپنے جاری کئے گئے بیان میں مادر بلوچستان شہیدبی بی جانتاب عرف شہید ہائی رہیسانی شہید رزاق گل بلوچ شہید حمید ریکی شہید عمر جان شہید سعود بلوچ اور شہید وہاب بلوچ کوجہد آزادی کی دوران غیر معمولی قربانیوں اور شہادت پر زبردست الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاہے کہ مادر بلوچستان سمیت تمام شہداء آزادی کو یاد کرنا اور ا ن کی قربانیوں کو دہرانا آزادی کی مشن کو جاری رکھنے کے لئے تجدید عہد ہے ترجمان نے کہاکہ شہداء کی ان گنت قربانیوں بے لوث عمل اور جانفشانی سے آج جہد آزادی ایک مکمل تحریک کی شکل میں جاری ہے اور تمام تر ریاستی جارحیت جبر وتشدد کے باوجود تحریک آزادی اپنی منطقی ہدف کے حصول کے لئے بے تاب ہے جبکہ شہدائے حریت کا کردار ہمارے لئے مشعل راہ ہے بلوچ دھرتی نے اپنی کھوکھ نے ایسے کئی سپوت جنم دیئے جو اپنے جرائت صلاحیت جدوجہد اور قربانیوں سے تاریخ کے صفحات میں ہمیشہ سرخرو ہوں گے ان کے نام تاریخ میں ہمیشہ امر رہیگی ترجمان نے کہاکہ شہداء کی جدوجہد نے ریاست اور ان کی گماشتون کی دوغلے پن بے ایمانی اور آزادی دشمنی سے پردہ ہٹایا ہے جو کہ عام حالات میں بلوچ عوام کو دھوکہ میں رکھ کر نام نہاد قوم پرستی کے لبادے میں انہیں آزادی کی جدوجہد سے دور رکھ کر غلام رہنے کی درس و تدریس کاکام کررہے تھے آج ان کی نام نہاد قوم پرستی کا پردہ بلوچ قوم کے بہادر اور ایماندار فرزندوں کی قربانیوں سے چاک ہواہے بلوچ عوام آزادی کی جدوجہد سے اپنی بھر پور وابسطگی کے ساتھ قدم قدم پر ان کے لئے مشکلات اور رکاوٹیں کھڑی کرچکی ہے قوم میں آزادی کا شعور اور بیداری کا سطح کہیں زیادہ بلندہے جو ریاست اور ان کے مقامی گماشتوں کے لئے فرسٹیشن اور بے چینی کا سبب ہے ترجمان نے کہاہے کہ بلوچ قوم تاریخ میں ایک باوقار اورآزاد قوم رہاہے بلوچ قوم کو پاکستانیت میں مدغم کرنا جھوٹ اور فریب ہے تاریخ اور زمینی حقائق کو غلط بیانی کے زریعہ نہیں جھٹلا یا جاسکتا آج ریاست کی جانب سے بلوچ قوم کو ناراض کہا جارہاہے جو کہ بے بنیاد ہے ناراضی کا اصطلاح زمینی حقائق سے میل نہیں کھاتا بلکہ متصادم ہے بلوچ ناراض نہیں غلامی کے خلاف جدوجہد کررہی ہے بلوچ غلامی کا زمہ دار ریاست اور ان کے ادارے ہیں تاریخ گواہ ہے کہ بلوچ قوم کی منتخب جمہوری اداروں اور آئینی حکومت اور آزاد حیثیت کو سلب کرکے پاکستانی نے ریاست فوج کشی کے زریعہ بلوچستان پر قبضہ کرکے اس کی اداروں کو ختم کرکے اپنے ادارے قائم کئے اور انہی اداروں کے لئے مراعات اور لالچ کے زریعہ ایسے لوگوں کا انتخاب کیا گیا جو بلوچ قوم کے نمائندہ نہیں بلکہ ریاستی گماشتہ کے طور پر کام کرکے ریاستی قبضہ کو کٹھ پتلیوں کی صورت میں برقرار رکھنے کا تسلسل پورا کررہے ہیں


