×

ماشکیل مند اور دیگر بلوچ علاقوں میں ایرانی فورسز کی جانب سے راکٹ اور میزائل حملہ نہ صرف در اندازی ہے بلکہ اس میں ریاستی رضامندی کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا بلوچ سالویشن فرنٹ

ماشکیل مند اور دیگر بلوچ علاقوں میں ایرانی فورسز کی جانب سے راکٹ اور میزائل حملہ نہ صرف در اندازی ہے بلکہ اس میں ریاستی رضامندی کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا بلوچ سالویشن فرنٹ

17.12.2013
بلوچ وطن موومنٹ کے سربراہ اور بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی سیکریٹری جنرل میر قادر بلوچ نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ماشکیل مند اور دیگر بلوچ علاقوں میں ایرانی فورسز کی جانب سے راکٹ اور میزائل حملہ نہ صرف در اندازی ہے بلکہ اس میں ریاستی رضامندی کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا یہ کاروائیاں پیپلز پارٹی کی ایرانی حکومت سے معائدوں اور دوستی کا تحفہ ہے پیپلز پارٹی کی پوری تاریخ بلوچ دشمنی پر مبنی ہے پیپلز پارٹی اپنی قیام سے لے کر آج تک بلوچ قوم کی بدترین نسل کشی ہے بلکہ ان کی بلوچ دشمنی کا دائرہ کار نہ صرف مشرقی بلوچستان بلکہ مغربی بلوچستان میں بھی اسی شدت اور آب و تاب کے ساتھ جاری رہا پیپلز پارٹی حکومت کے دورہ ایران کے تمام دورے تعلقات اور معائدے بلوچ نسل کشی اور بلوچ قومی مفادات پر ضرب لگانے کی کوشش تھی تاکہ بلوچ ایک آزاد اور خود مختار ملک بننے کے بجائے پاکستان اور ایران کی غلامی میں زندگی بسر کرے انہوں نے کہاکہ بھٹو اور رضاشاہ پہلوی کی بلوچستان میں مشترکہ کاروائی اور بلوچ کش پالیسیاں تاریخ کے سیاہ باب ہے بے نظیر کے دور میں بھی ایرانی حکومت سے رفاقت اور ایمرجنسی دورے خفیہ بات چیت کا سلسلہ بھی بلوچ قوم کے خلاف مشترکہ مشن کا حصہ تھی جبکہ زرداری کے دور مین بلوچ قوم کے خلاف بدترین کاروائیاں کا سلسلہ جاری رہا اور آج تک بلوچستان میں جتنے بھی مسخ لاشوں کا سلسلہ جاری ہے ان کے پیچھے زرداری کاہاتھ تھا اور ان گروہوں کو پیپلز پارٹی نے بھر پور قوت فراہم کرکے منظم کیا بلوچستان میں مسخ لاشوں کا سلسلہ 2010میں پیپلز پارٹی کے دور میں شروع ہوا جو آج تک جاری ہیں ایرانی جہد کار شہید عبدالحمیدریکی سمیت کوئٹہ ڈسٹرکٹ جیل سے کل آٹھ بلوچ کو انہی کے دور میں ایران کے حوالہ کردیا گیاجبکہ بعد ازان عبدالمالک ریکی کو پھانسی دینے کے بعد ان آٹھ افراد کو بھی ایرانی ریاست کی جانب سے تختہ دار پر لٹکا یا گیا بلوچستان میں مسخ شدہ لاشوں کا سلسلہ اور ایران میں سرعام پھانسیوں کا سلسلہ مشترکہ ایجنڈا ہے جو جنگی جرائم پر مشتمل ہے جبکہ مشرقی بلوچستان میں پاکستا ن اور ایران کی مشترکہ کاروائیوں کا پہلا ہدف مرگ آپ واقعہ ہے جس میں شہید غلام محمد بلوچ لالا منیر اور شیر محمد بلوچ کو شہید کرکے ان کی مسخ لاشیں پھینکی گئی بیان میں کہاگیا ہے کہ ایران و پاکستان مل کر تین کروڑ سے زائد بلوچ قوم کو غلام بنائے ہوئے ہیں بلوچ قوم کی مشترکہ سرزمین کو تقسیم کرکے بلجبر قبضہ کے زریعہ نہ صرف بلوچ قوم کے وسائل لوٹ رہے ہیں بلکہ بلوچ قومی تشخص تاریخ زبان اور ثقافت کومسخ کررہے ہیں پاکستان میں بلوچ قوم کو پاکستانی قومیت اور ایران میں فارسی قومیت میں ضم کیا جارہا ہے ایران میں اپنے آپ کو بلوچ کہنے دفتروں اور تعلیمی اداروں میں بلوچی لباس پہن کر جانے پر بلکل پابندی ہے اور ان پابندیون کو توڑنے کاانجام ناقابل معافی جرم اور پھانسی ہے بیان میں کہاگیا ہے کہ مشرقی بلوچستان میں آزادی کی تحریک جاری ہے سیستانی بلوچستان کے بلوچوں کو چاہیے کہ وہ آزادی کی جدوجہد کو قوت فراہم کرے اور سیستان میں ایرانی گجروں اور پاسداران انقلاب کے لئے زمین تنگ کریں ایران جس وحشیانہ طریقہ سے بلوچ قوم کا قتل عام کررہی ہے سیستان بلوچستان کے بلوچوں کو اسی شدت کے ساتھ اس کے خلاف اٹھ کھڑا ہوکر آزادی کا علم بلند کرنا چاہیے شہدائے آزادی کا جدوجہد ہم سب کے لئے مشعل راہ ہے اسی مقصد کو لے کر انہوں نے اپنی جان قربان کی اور اسی مقصد کو لے کر ہم سب کو ان کی ادھورے مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچانا چاہیے

Previous post

شہداء کی لازوال جدوجہد اور قربانی ہمارے لئے مشعل راہ ہے ان کی بے لوث جدوجہد اورقربانیاں رائیگاں نہیں جائے گی شہید نثار مینگل شہید باز خان مری شہید قمبر چاکر شہید اصغر علی داد کوخراج تحسین بلوچ سالویشن فرنٹ

Next post

انسانی حقوق کے دعوی کرنے والی عالمی چیمپیئن انسانی حقوق کے دفاع میں مکمل طور پر ناکام ہوچکے ہیں اقوام متحدہ کے تشکیل کے دوسال بعد 10دسمبر کو اقوام متحدہ کی جانب سے انسانی حقوق کے عالمی دن کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا گیا۔بلوچ سالویشن فرنٹ