مغربی بلوچستان آزادی کے لئے شہید مالک ریکی اور ان کے خاندان کے گرانقدر قربانیاں ہے ہزاروں لاشیں گرانے کے بعد بھی آزادی کا نیوکلیس ختم نہیں کیا جا سکتا. بلوچ سالویشن فرنٹ
22.6.2014
بلوچ وطن موومنٹ بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ اور بلوچ گہار موومنٹ پر مشتمل الائنس بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کئے گئے ایک بیان میں کہاہے کہ مغربی بلوچستان آزادی کے لئے شہید مالک ریکی اور ان کے خاندان کے گرانقدر قربانیاں ہے انہیں مغربی بلوچستان کی آزادی کے لئے عملی کوششوں قومی خدمات اور قربانیوں کے اعتراف میں خراج تحسین پیش کرتے ہیں ترجمان نے کہاکہ کہ شہید مالک ریکی اور ان کے بر سرپیکارساتھیوں نے شہید دادشاہ مبارکی شہید رحیم زردکوہی اور شہید بی بگر زرد کوہی سمیت مغربی بلوچستان کو ایرانی قبضہ سے نجات دلانے والے شہداء کا مشن جاری رکھتے ہوئے آزادی کی بیرک کو بلند کرکے
ایرانی قبضہ گیروں کے خلاف فعال اور عملی جدوجہد کی جبکہ شہید مالک ریکی نے سخت اور کھٹن حالات میں بھی مصالحت اور مفاہمت کی تمام تر پرفریب ہتکھنڈوں سے بالاتر ہوکر آزادی کی جدوجہد اور شہادت کو ترجیح دی ان کے خاندان کے متعدد افراد مغربی بلوچستان کی کاز آزادی کے جان قربان کردی جب کہ ان کے اس مشن کو ان کے نظریاتی ساتھیوں کے ساتھ ساتھ ان کے خونی رشتے اور سگے بھائیوں نے بھی جاری رکھتے ہوئے ان کی فکری اور نظریاتی تقلید کی اور اسی راہ عمل میں اپنی جان کی قیمت پر آزادی کی علم کو بلند رکھا ترجمان نے کہاکہ شہید مالک ریکی نے قربانی اور جدوجہدکے اعلی مثال قائم کرتے ہوئے ایرانی عدالتوں کے روبرو اخلاقی ملزم کی حیثیت سے انکار کرکے واشگاف الفاظ میں کہا کہ وہ مغربی بلوچستان کو ایرانی قبضہ گیروں کی آئنی پنجہ سے نکالنے کی جدوجہد کررہا ہے اور آذادی کے علاوہ ان کا کوئی مطالبہ نہیں جب کہ ایرانی عدالتوں نے ان کے خلاف پھانسی کا فیصلہ سنایا لیکن انہیں پھانسی دینے کے بجائے اندوہناک طریقہ سے قتل کیا گیاتاکہ مغربی بلوچستان میں اٹھنے والی آزادی کی جدوجہد کو مالک ریکی کی قتل شہادت سے پیغام دیا جائے کہ آذادی کے مطالبہ کرنے والوں کو اسی طرح موت کے گھاٹ اتارکر شہید کیاجائے گا ترجمان نے کہاکہ قبضہ گیر ریاستیں بے پناہ تشدد کی زریعہ یہ احمقانہ خیال کرتے ہیں کہ ان کے یہ حربہ آزادی کی تحریکوں کو ختم کرنے کا سبب بنے گا تو یہ ان کی بھول ہے جن قوموں کو آزادی کی منزل ملی ہے ان قوموں کے ساتھ بھی قبضہ گیر ریاستیں اسی طرح کے ظالمانہ اور غیر انسانی سلوک کرتے رہیں لیکن انہیں آزادی جیسے عظیم مقصد کی حصول سے نہیں روکا جاسکا ان پر بے پناہ ظلم کیا گیا ان کے ہزاروں سپوت انہیں راہوں میں مارے گئے لیکن آج وہ دنیا کے نقشہ میں آزاد قوموں کی حیثیت سے موجود ہے ترجمان نے کہا ہے کہ مغربی بلوچستان ہو یا مشرقی بلوچستان ہو دونوں قابض ریاستوں نے اپنے جارحانہ حربوں سے آزادی کی تحریکوں کو شکست دینے میں ہمیشہ ناکام رہی ہے ترجمان نے کہا کہ ہمیں کامل یقین ہے قبضہ گیر ہزاروں لاشیں گرانے کے بعد بھی آزادی کا نیوکلیس ختم نہیں کرسکتااور کسی جسد خاکی کو مسخ یا پھانسی دیکرشہید کرکے اس سے منسلک فکرآزادی کو کو بانجھ نہیں کیا جاسکتا ترجمان نے کہا کہ مغربی بلوچستان کے بلوچ باشندہ شہید مالک ریکی شہید دادا شاہ بلوچ اورہزاروں بلوچ شہداء کے راستہ کو اپناکر اپنی پیشانی سے ایرانی غلامی کا ہر نام و نشان مٹاڈالے جب کہ پاکستانی یا ایرانی قومیت بلوچ قوم کی شناخت نہیں بلکہ یہ غلامی کے بدنماداغ ہے


