مغوی بلوچ فرزندوں کا مقدمہ بین الاقوامی اہمیت اختیار کرگیا ہے بلوچ سالویشن فرنٹ
3.2.2013
بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان کی جانب سے جاری کئے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ مغوی بلوچ فرزندوں کا مقدمہ بین الاقوامی اہمیت اختیار کرنے اور اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ کی آمد کے بعدلاپتہ بلوچ جہد کاروں اور ان کی پھینکی گئی مسخ لاشوں کے حوالہ سے تمام شوائد و حقائق کی غیر جانبدارانہ تحقیق کے بعد براہ راست پاکستانی خفیہ ادارے اور بلوچستان میں قائم ان کی ڈیتھ سکواڈملوث پائے گئے پہلی دفعہ بلوچ سیاسی فورمز کی جانب سے ایک بین الاقوامی تحقیقاتی مشن کو مکمل اور جامع معلومات دی گئی جب کہ بلوچ آزادی خواہ جماعتون کی جانب سے تو اولین دن سے ہی پاکستانی خفیہ اداروں کو ہی بلوچ فرزندوں کی اغواء اور مارو اور پھینکو پالیسی میں ملوث قرار دیئے جا چکے تھے اور یہ واضح کیا گیا تھاکہ پاکستانی خفیہ ادارے مارو اور پھینکو پالیسی کے سلسلے میں ہر علاقہ میں اپنے خفیہ سیل اور یونٹ قائم کئے ہیں جو بلوچ جہد کاروں کو اغواء کرنے کے بعد انہیں شدید ذہنی اور جسمانی اذیت سے گزار کر شہید کرکے ان کی مسخ لاشیں پھینکتی ہے ان تما م حقائق نے قابض ریاست کی مجرمانہ کاروائیوں کو بے نقاب کیا جس کے بعد ریاست بڑی چالاکی سے اپنی طریقہ واردات تبدیل کرکے نئی نام نہاد آرمی ڈاکٹرائن پالیسی کے تحت مغوی بلوچوں کی لاشیں پھینکنے کے لئے خلقوں اور قصبوں میں آپریشن کو جواز بنا کر ان کی لاشیں پھینکنے کا سلسلہ شروع کی ہے ترجمان نے کہا کہ گزشتہ دنوں منگچر میں پہلے سے اغواء کئے گئے شہید اللہ رکھیا بلوچ اور بابل جتک بلوچ سمیت جو دیگر بلوچ فرزندوں کو شہید کرکے ان کی لاشیں پھینکی گئی اور جواز یہ بنایا گیا کہ یہ آپریشن میں مارے گئے حالانکہ شہید کئے گئے بلوچ فرزند پہلے ہی سے خفیہ اداوں کے تحویل میں تھے اور جن لوگوں کوشہید کیا گیا وہ بلوچ قوم کے ہاں مغوی کئے گئے بلوچوں کی فہرست میں بھی شامل ہے اور جن کی بازیابی کے لئے پہلی ہی سے آواز اٹھاہیء جارہی تھی قابض ریاست لاپتہ بلوچوں کو شہید کرنے کئے لئے اب ٹارگٹڈ آپریشن کا نام استعمال کرکے اپنی جارحانہ کاروائیوں کو وسعت دیکر عالمی دنیا کو فریب دینے کی کوشش کررہی ہے کہ وہ بلوچستان میں مزہبی انتہا پسندی کے خلاف کام کررہی ہے جب کہ حقائق اس کے برعکس ہے وہ انتہا پسندی اور دہشت گردی کا سب سے بڑا موجد ہے اس کی زیر سایہ دہشت گردی کی کاروائیاں کی جاتی ہے ترجمان نے کہا کہ حالیہ نام نہاد گورنرراج کو بھی دنیا کے آنکھوں میں دھول جھونکھنے کے لئے لگایا گیا نام نہاد گورنرراج قابض راج کا تسلسل ہے اس سے ہمیں کوئی سرو کار نہیں لیکن ایک بات کی وضاحت ضروری ہے کہ بلوچ تحریک آزادی کے ابھا ر اور پیش قدمی نے ریاست کو اضطراب میں ڈال دیا ہے حالانکہ قبل ازین قابض ریاست کی ملین فورسز بلوچستان کے کونے کونے میں تعینات کئے گئے ہیں جو بلوچ آزادی کے تحریک سے وابسطہ ہمدردوں اورحامیوں کو اغواء اور شہید کررہے ہیں ترجمان نے کہا کہ اقوام متحدہ زمینی حقائق جاننے کے بعد قابض ریاست کے خلاف کسی پس و پیش کے بغیر فورری کاروائی کا نوٹس جاری کرکے اپنی اثر رسوخ استعمال کرکے بلوچ وطن کو مقبوضہ اور متنازعہ خطہ قرار دے کر عالمی دنیا کو اس بات کی پابند کریں کہ بلوچستان کی آزادی تک بلوچ وطن سے متعلق کسی قسم کی معائدہ یا لین دین نہ کریں ترجمان نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جانب سے تمام حقائق اور جانکاری کے باوجود اگر اسی طرح خاموشی برقرا رہی تو ان سے بلو چ قوم کا اعتماد اٹھ جائیگااور اس کی بے جاء خاموشی کو اس کی جانبداری اور رضامندی سمجھا جائے گا


