×

میریوسف عزیز مگسی بلوچ تاریخ آزادی کا ناقابل فراموش کردار ہے جنہوں نے انگریز قابضین کے خلاف زبردست جدوجہد کی سعید یوسف بلوچ میر قادر بلوچ

میریوسف عزیز مگسی بلوچ تاریخ آزادی کا ناقابل فراموش کردار ہے جنہوں نے انگریز قابضین کے خلاف زبردست جدوجہد کی سعید یوسف بلوچ میر قادر بلوچ

31.5.2013
بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی چیئر مین سعید یوسف بلوچ مرکزی سیکریٹری جنرل میر قادر بلوچ اور مرکزی جوائنٹ سیکریٹری بانک حانی بلوچ ایگزیگٹو کمیٹی کے اراکین اے آر بلوچ زمور آزاد بلوچ اور شیہک بلوچ نے اپنے جاری کردہ مشترکہ بیان میں کہا کہ بلوچ قومی رہبر میر یوسف عزیز مگسی کی حصول آزادی کے لئے قربانیوں ،کوششوں اورتحریک آزادی میں ان کی سیاسی مزاحمتی علمی اور ادبی خدمات پر انہیں زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہیں یوسف عزیزمگسی نے قومی آزادی کے لئے جس راہ عمل کا انتخاب کیا وہ بلوچ قوم کے لئے مشعل راہ ہے ان کی بے لوث جدوجہد انقلابی طریقہ کار کثیر الجہتی طرزجدوجہد، عمل اور تجربات سے رہنمائی حاصل کرکے آزادی کے حصول کو ممکن بنا یا جا سکتا ہے یوسف عزیز مگسی بلوچ تاریخ آزادی کا ناقابل فراموش کردار ہے جنہوں نے انگریز قابضین کے خلاف زبردست جدوجہد کی اورقابض برطانیہ کے خلاف بلوچ قومی آزادی کے جدوجہد کی رہنمائی کرتے ہوئے آزاد بلوچستان کے قیام کے لئے نہ صرف علاقائی سطح پر کوششیں کرکے بلوچ قوم کو انگریز ی غلامی کے خلاف بیدار کیا بلکہ بیرونی دنیا سے بلوچ قومی آزادی کے لئے اخلاقی سیاسی اور سفارتی حمایت حاصل کرنے کے لئے اپنی صلاحیتوں کو بھر پور طریقہ سے استعمال کرکے آزاد بلوچستان کی قیام کو خطے کے امن کے لئے ناگزیر قرار دیا یوسف عزیز مگسی 1930میں روس جاکر باکو کانفرنس سے خطاب کیا جو لینن کی صدار ت میں منعقد ہورہا تھا اس کانفرنس میں انہوں نے منقسم بلوچ وحدت اور انگریزی قبضہ ومداخلت سمیت بلوچ قومی تاریخ جغرافیہ زبان ادب ثقافت ، اور آزاد بلوچ وطن کے قیام کے حوالہ سے سیر حاصل مقالہ پڑھی انہوں نے مزید کہا کہ بلوچ قوم کو اپنے قومی کرداروں کو قطعااور کسی لمحہ بھی فراموش نہیں کرنا چاہیے بلکہ ان کی فکر و فلسفہ حوصلوں اور آدرشوں کو تحریک آزادی کے لئے قوت اور طاقت کے طور پر استعمال کرکے ان کی رہنمائی ،غیر متزلزل کرداراور جفاکشی کو مشعل راہ بناکر اپنی صفوں کو مضبوط کرنا چاہیے انہوں نے کہاکہ بلوچ قوم اور ہندوستانی عوام کی جدوجہد سے انگریز اپنی قبضہ سے دستبردا ر ہوگیا لیکن خطے میں کئی ایک تنازعوں سمیت اپنی گماشتہ قابض ریاست کو ہندو اور مسلم تضادات کی بنیاد پر ہندوستان کی خونی اور جبری بٹوار اکرکے غیر فطری پاکستانی ریاست کی شکل میں سامراجیت اور قبضہ گیریت کوزندہ رکھا اور یہ ریاست مزہب اسلام کی بنیاد پر مصنوعی طریقوں سے مختلف قومون اور ریاستوں کو اکھٹا کر نام نہاد پاکستانی قومیت کو ابھارا مسلماں قوم کا تمام تر تصور زمینی و تاریخی حقائق سے میل نہیں کھاتا اگر مسلمان ایک قوم ہیں تو سعودی عرب انڈونیشیا یا دیگر عرب یا اسلامی ملکون پر جانے کے لئے ویزے کی ضرورت کیوں پڑتی ہے کوئی مسلمان کسی دوسرے مسلمان ملک کے قانونی تقاضوں اور بندشوں سے گزر کر آسانی سے اس ملک میں داخل نہیں ہوسکتا جب کہ قبضہ گیر جسے برطانیہ نے اپنی کالونیل ایجنٹ مقرر کرکے مزہب کے نام پر ایک غیر فطری ریاست سے منسلک کردیاجوآج ہندوستان افغانستا ن بلوچستان سندھودیش بنگال اور سنٹرل ایشیا ء کے ممالک کے لئے وبال جان بن چکے ہیں جو مزہب کو بہترین آلہ کے طور پر استعمال کرکے نہ صرف بلوچ اور سندھی خطے کو اپنے زیر نگین کردیا بلکہ مزہب کے نام پر دہشت گردی پیدا کرکے عالمی قوتوں کو بلیک میل کرکے ان سے امداد و پیسہ بھٹورنے کی بھر پور مہارت رکھتی ہے جب کہ بنگلہ دیش کی آزادی نے ثابت کردیا کہ کہ مذہب کے نام پر کسی قوم کو غلام اور ماتحت نہیں بنایا جا سکتا جو دیگر مقبوضہ قومون کے لئے مثالی جدوجہد کی حیثیت رکھتی ہے انہوں نے کہا کہ مڈل کلاس کے نام پر سیاست کرنے والے عناصر ریاستی گماشتہ ہیں جو انٹی سردار کا نام دیکر بلوچ قبائلی نظام کے خلاف ریاستی غرض و مفادات کی بنیاد پر غیر فطری نعرہ دیا اور آج ریاست کے صف اول کے گماشتوں میں شامل ہوکر بلوچ آزادی کی جدوجہد کو توڑنے کے لئے ریاستی مکروہ کوششوں میں برابر کے شریک ہیں بنیادی طورپر اگربلوچ قبائلی نظام کی تاریخ دیکھا جائے تو آج کے ریاستی اور سرمایہ دارانہ جمہوریت سے بلوچ قبائلی نظام ہزار درجہ بہتر ہے جس میں جھوٹ خیانت ،بے ایمانی ناانصافی کہیں بھی نظر نہیں آتی اور آج قبائلی نظام میں جو فرسوگیان آئی ہیں وہ قبضہ گیر کی سوچ کی پیداوار ہے جبکہ انٹی سردار کے نعرہ لگانے اور فرسودہ قبائلی سردار دونوں ایک ہی سکہ کے دو رخ ہے ان تمام مسائل کاحل نہ کہ پاکستانی سیاست ہے اور نہ ہی منافقت پرمبنی مڈل کلاس کی گھناؤنے سیاست بلکہ ایک آزاد وطن ان تمام مسائل کا حل ہے جس میں بلوچ قوم کے دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ قبائلی نظام جو ایک جدید اور سوشل انفراسٹکچر کی تقاضا کرتاہے جو بلوچ وت واجہی اور پولیٹکل پاور یعنی آزادی کی صورت میں اس سے نمٹا جاسکتا ہے جو مڈل کلاس کی منافقانہ اور بانجھ حل کی محتاج نہیں دنیا کے تمام پولیٹکل مفکر اس بات سے اتفاق رکھتے ہین کہ مڈل کلاس سامراج اور قبضہ گیر کی گماشتہ اور آلہ کار ہوتا ہے اس کے علاوہ مڈل کلاس کے لئے اب تک کوئی قابل ذکرتعریف سامنے نہیں آئی

Previous post

بلوچ وطن موومنٹ کے سنٹرل کمیٹی کے ممبراور بلوچ دانشور قلم کار شہید رحمت اللہ شاھین بلوچ اوربلوچ قومی جہد کار اور گلزمین بلوچستان کے بہادر سپوت شہید کمال بلوچ کو خراج تحسین پیش کی ہے بلوچ سالویشن فرنٹ

Next post

بلوچ قوم 28مئی کو یوم سیاہ کی طور پر مناکرقبضہ گیر اور ان کی انسانیت دشمن پالیسیوں کی شدید الفاظ میں مذمت اور مخالف کرتی ہے بلوچ سالویشن فرنٹ