×

نیو کاہان مری کیمپ پر ریاستی فورسزکا دھاوا ریاستی دہشت گردی کا تسلسل ہے بلوچ قوم کو غلامی کے شدت احساس نے میدان جنگ میں کھڑا کردیا ہے بلوچ سالویشن فرنٹ

نیو کاہان مری کیمپ پر ریاستی فورسزکا دھاوا ریاستی دہشت گردی کا تسلسل ہے بلوچ قوم کو غلامی کے شدت احساس نے میدان جنگ میں کھڑا کردیا ہے بلوچ سالویشن فرنٹ

9.5.2013
بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں نیو کاہان مری کیمپ پر ریاستی فورسزکا دھاوا خواتین اور بچوں پر تشدد اور بلوچ فرزندوں کے اغواء کو جاری ریاستی دہشت گردی کا تسلسل قرار دیتے ہوئے کہا کہ بلوچ قوم کو غلامی کے شدت احساس نے میدان جنگ میں کھڑا کردیا ہے جس سے ریاست اور ان کی ارادوں کو ٹھیس پہنچی ہے کالونائزر اور ان کے گماشتون نے بلوچ قوم کو غلام رکھنے میں دہشت گردی کے تمام حربہ اور ہنر آزمائے لیکن انہیں ماسوائے شکست اور اور پسپائی کے اور کچھ ہاتھ نہ آیااب وہ اپنی شکست خوردگی اور ناکامی کو چھپانے کے لئے بے رحم دہشت گردی اور قومی نسل کشی کو وسعت دی ہے ترجمان نے کہا کہ قبضہ گیر سے نجات کا راستہ آزادی ہے اور آزادی جان کی امان مانگ کر حاصل نہیں کی جاسکتی بلکہ آزادی زندگیاں داؤ پر لگانے کا تقاضہ کرتی ہے مقبوضہ قوم کے لئے ریاستی تشدد انہونی اور حیرانی کی بات نہیں قبضہ گیر کے خمیر میں سرے سے یہ انسانی وصف شامل نہیں کہ رضاکارانہ طور پراپنی قبضہ اور اقتدار سے دستبردار ہوجائے بلوچ قوم کاپاکستان کی غلامی سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لے واحد صورت ان کی آزادی کی جہد و عمل میں بھر پو شرکت ہے غلامی کے ان تمام تکلیفوں اور عذابوں سے نجات پانے اور غلامی کی گہری پاتال سے نکلنے کے لئے بلوچ عوام نوآبادیاتی الیکشن سے دوررہ کر 10مئی کی رات سے لے کر 11مئی پورا دن اپنے گھروں میں رہ کر قبضہ گیریت کو جواز فرائم کرنے والی الیکشن کا مکمل بائیکاٹ کرکے احتجاجا اپنے گھروں سے نہ نکلیں اس صورت میں ان کی رائے آذادی کے حق میں شمار ہوگی بلوچ قوم جرائت مندی کے ساتھ قابض الیکشن کے خلاف احتجاجی عمل میں شریک ہو کر کسی کے دباؤ اور منت سماجت میں نہ آئیں اور کسی کی خاطر، رشتہ اور مروت میں اپنے آزادی کو داؤ پرنہ لگائیں ترجمان نے کہا کہ ریاست اور ان کی گماشتوں کی جانب سے بلوچ تحریک کے خلاف مجرمانہ اور گمراہ کن پراپیگنڈوں کو مسترد کرتے ہیں کہ جس میں قبضہ گیر اور ان کی خیمہ بردار جماعتوں کی جانب سے کہا جارہاہے کہ بلوچستان میں بیرونی مداخلت اور ہاتھ ہیں جب کہ ہم واضح کرتے ہیں کہ بلوچ وطن اور ان کی معاملات میں کسی بیرونی قوت کی مداخلت نہیں بلکہ قبضہ کی صورت میں مداخلت اور خلاف ورزی خود پاکستانی ریاست کررہی ہے بلوچ وطن قابض ریاست کی قانونی صوبہ اور یونٹ نہیں اور نہ ہی بلوچ قوم کسی ملک کے پراکسی وار کا حصہ ہے اور نہ ہی بلوچ قوم اس قسم کے سوچ کا متحمل ہوسکتا ہے اور نہ ہی بلوچ تاریخ میں ایسی روایت رہی ہے کہ بلوچ قوم کسی کا ایجنٹ بن کر اس کی جنگ کا حصہ رہاہے یہ قابض ریاست کی اپنی زہنیت اور فطرت ہے کہ ماضی میں انہوں نے برطانیہ اورآج امریکہ کے جنگ کومعاوضہ کی صورت میں لڑرہا ہے اور آج بلوچ سماج میں جو فرسودگیاں آئی ہیں اور ریاست اپنے لئے زرخرید اور گماشتے چن کر بلوچ تحریک کے مدمقابل کردیا ہے یہ فرسودگیاں ریاست کی جانب سے لائی گئی ہے بلوچ قوم اپنی قوت اورآزادی کی تحریک پر وشواس کریں یہ تحریک ان کی آزادی امن انصاف خوشحالی اور آزاد بلوچستان کی جدوجہد ہے بلوچ شہداء اور جہدکاروں نے بلوچ سماج کی گہرائی میں موجو د اس شاندار قوت کو آزادی کے تحریک کی شکل میں زندہ اور متحرک کردیا ہے جب کہ ریاست بلوچ قومی قوت اور انقلاب کا سامنا کرنے کے بجائے اسی عالمی قوتوں کی جنگ سے نتھی کرکے زہر آلود پراپیگنڈے کررہے ہیں ان کی اس پروپیگنڈے میں شامل بلوچ
سیاست کے نام پر پارلیمانی جماعتیں کھل کر ان کے مفادات کا تحفظ کررہے ہیں ان کی تمام تر تاریخ ریاستی کی گماشتگی پر مبنی ہے یہ انقلاب دشمن پارٹیاں جواپنی پیدائش سے لے کر آج تک بلوچ اور بلوچ قومی مقصد سے غداری کی ہے ان کا یہ کردار انہیں قومی سیاسی دھارے سے باہر کردیاہے اگر ان کی پوری تاریخ کا جائزہ لیاجائے چاہے بلوچستان میں تحریک کی صورت میں یا جمودی ادوار کی حالات میں انہیں عوام کی رضاکارانہ حمایت حاصل نہیں رہی ماسوائے ریاستی پشت پنائی اور جبر و طاقت کی ترجمان نے کہا کہ بلوچ قوم غلامی کی طوق کو اپنے گلے سے اتار کر اپنی تاریخ سے غلامی کا داغ مٹادے کیونکہ آزادی کا نعم البدل کٹھ پتلی ریاستی اقتدار نہیں بلکہ بلوچ قومی اقتدار اعلی ہے جو آزادی کی صورت کے ممکن ہے

Previous post

بلوچ عوام کا ریاستی الیکشن سے بائیکاٹ اور آزادی کے حق میں زبردست پیش قدمی تاریخی ریفرنڈم کی حیثیت رکھتی ہے قبضہ گیر بندوق کی نوک پر الیکشن کے لئے رائے عامہ اور بیساکھی بنانے کی کوشش کی اور 11 مئی کے دن بھی بلوچ شہری آبادیوں کو اپنی جارحیت کا نشانہ بناکر ب

Next post

الیکشن بائیکاٹ نے ریاستی قبضہ پر کاری ضرب لگادی ہے بلوچ عوام کی جانب سے انتخابی مہم میں عدم دلچسپی نے ایک طرف کرسی بردا ر گماشتہ جماعتوں کی پریشانی میں اضافہ کیا ہے تو دوسری طرف قومی بائیکاٹ نے قبضہ گیر کی نیندیں حرام کی ہے بلوچ وطن موومنٹ