نیو کاہان مری کیمپ پر ریاستی فورسز کا دھاوا بچوں اور خواتین پر تشدد املاک کی لوٹ مار جاری ریاستی دہشت گردی کا تسلسل ہے جو گزشتہ ساٹھ سالوں سے جاری ہے بلوچ سالویشن فرنٹ
2.4.2013
بلوچ وطن موومنٹ بلوچستا ن انڈیپینڈنس موومنٹ اور بلوچ گہار موومنٹ پر مشتمل الائنس بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کئے گئے ایک بیان میں کہا ہے کہ نیو کاہان مری کیمپ پر ریاستی فورسز کا دھاوا بچوں اور خواتین پر تشدد املاک کی لوٹ مار جاری ریاستی دہشت گردی کا تسلسل ہے جو گزشتہ ساٹھ سالوں سے جاری ہے اس سے قبل کئی بار مری کیمپ پر حملہ کرکے نہتے بلوچ آبادی کو نشانہ بنایا گیا اور اب تک مری کیمپ کے کئی بلوچ فرزند ریاستی زمین دوز ٹارچر سیلوں میں پس زندان ہیں جن میں سے کئی کو شہید کردیا گیا ہے ترجمان نے کہا کہ نہتے بلوچ آبادیوں پر حملہ ریاست کی نفسیاتی شکست کی واضع عکاسی کرتی ہے قبل ازین مری کیمپ بلوچی جرگہ ہال پر ریاستی جھنڈا گھاڑکر ریاستی فورسزنے مری کیمپ کو فتح کرنے کا تاثر دیا جو ریاست کی بوکھلاہٹ اور دم توڑتی قبضہ اور کمزور عملداری کوبے نقاب کرنے کے لئے کافی ہے ترجمان نے کہا کہ بلوچ اپنی آزادی شناخت اور قومی ریاست کے بحالی کے لئے جدوجہد کررہے ہیں دفاعی جدوجہد کا حق ہر قوم کو حاصل ہے کوئی بھی ہم سے دفاعی جدوجہد کا حق نہیں چھین سکتاہم اپنی آزادی کے مطالبے سے ایک انچ بھی پیچھے ہٹنے پر تیار نہیں بلوچ مسئلہ ناراضگی کا نہیں آزادی کاہے کوئی بھی قابض دیر تک کسی ملک پر اپنا قبضہ جاری نہیں رکھ سکتا تحریکوں میں جب شدت پیداہوتی ہے تو پھر روس جیسے سپر پاور بھی ٹوٹ کر بھکر جاتے ہیں قابض کوئی ماورائی قوت نہیں ہوتی کہ جس کو شکست نہیں دیا جاسکے ترجمان نے کہا کہ انسانی تاریخ ہماری لمحہ بہ لمحہ ہماری رہنمائی کرتا ہے کہ قبضہ گیر کو خاموشی سے نہیں بھگا یا جا سکتا بلکہ اس کے خلاف جدوجہد ہی وہ کلیدی عمل ہے جو کسی بھی قابض کے اعصاب زخمی اور مجروح کرسکتا ہے ترجمان نے کہا کہ جب کوسووو نارتھ اسٹیریااور خازیہ آزاد ہوسکتے ہیں تو بلوچ کیوں آزاد نہیں ہوسکتے ترجمان نے کہا کہ خالی ہاتھ بلوچ آبادیوں پر حملہ بین االقوامی جنگی اصولوں کی خلاف ورزی ہے


