وائس فار مسنگ پرسنز لانگ مارچ تاریخی نوعیت کا حامل ہے شرکا ء نے ریاستی سنگینوں کے سائے تلے جانفشانی بہادری جرائت و استقامت کے ساتھ ریاستی دہشت گردی کا پرواہ کئے بغیر 700کلومیڑ طویل تکلیف دہ مرحلے کو طے کر کے تاریخ رقم کرلی بلوچ سالویشن فرنٹ
25.11.2013
بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری بیان میں وائس فار مسنگ پرسنز لانگ مارچ کو تاریخی نوعیت کا حامل لانگ مارچ قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ ماما قدیدبانک فرزانہ بانک سمی بلوچ کمسن علی حیدر اوربانک بی بی گل سمیت لانگ مارچ کے دیگر شرکانے ریاستی سنگینوں کے سائے تلے انتہائی جانفشانی بہادری جرائت صبر و استقامت اور انتہائی کھٹن حالات میں ریاستی دہشت گردی کا لمحہ بھر پرواہ کئے بغیر 700کلومیڑ طویل پیدل لانگ مارچ کے اس تکلیف دہ مرحلے کو طے کر کے ایک تاریخ رقم کرلی ان کی جدوجہد اور قربانیوں پھر ہم انہیں سلام پیش کرتے ہیں ان کایہ عمل تاریخ میں سنہرے حروف کے ساتھ یاد کیا جائیگا وائس فار مسنگ پرسنز کا یہ لانگ مارچ نہ صرف بلوچ قوم میں یکجہتی کی علامت بن گئی بلکہ بلوچ قوم میں ہمدردی کے جذبوں کو بھی ابھارا معصوم بچے بزرگوں نے انتہائی جوش و خروش کے ساتھ لانگ مارچ میں اظہار یکجہتی کی طور پر شریک ہوئی اور لانگ مارچ کے ساتھ بڑے پیمانے پر بلواسطہ اور براہ راست بلوچ عوام نے بھی اظہار یکجہتی کی اور ماماقدید کے کردار کو سراہا ترجمان نے کہاکہ مسنگ پرسنزبازیابی لانگ مارچ بلوچ قومی جہد آزادی کا تسلسل ہے جو کہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے ایک موثر آواز ثابت ہوکر عالمی سطح پر بے پناہ پزیرائی حاصل کی ہے ریاستی مشینری نے لانگ مارچ کے سامنے دیوار بننے کی بارہا کوششیں کی لیکن ماما قدیر اور لانگ مارچ کے شرکا ریاستی دہشت گردی لالچ اور دھمکیوں سے بے پرواہ ہوکر یخ بستہ اور تپتے دھوپ میں اپنا سفر جاری رکھتے ہوئے جمے رہے اور بلوچ لاپتہ افراد کی بازیابی کا تڑپ لے کربلند حوصلوں کے ساتھ اپنی منزل کو پہنچ گئے ایک ہزار دن سے زیادہ طویل علامتی بھوک ہڑتال اور لاپتہ افراد کی بازیابی کے حوالہ سے ان کایہ طویل پیدل مارچ اقوام متحدہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں یورپی یونین اور دیگر مہذب ممالک اور اقوام عالم کو جھنجوڑ نے کی مترادف ہے ترجمان نے کہاکہ پاکستانی ریاست عالمی قوانیں کے دائرہ کار سے آزاد ہوکر ہزاروں کی تعداد بلوچوں کو نہ صرف لاپتہ کرکے حراست میں لی ہیں بلکہ ہزاروں کی تعداد میں تلاش کرو اور مارو پالیسی کے تحت ریاستی اداروں نے بلوچ فرزندوں کو شہید کرکے ان کی لاشیں مسخ کرکے انہیں ویرانوں میں پھینکی جارہی ہے لاپتہ بلوچوں کے حوالہ سے ایمنسٹی انٹر نیشنل کے جامع رپوٹوں کے باوجود اقوام متحدہ کے بے حسی معنی خیز ہے حالانکہ قبضہ گیر کی جانب سے کھلم کھلا انسانی اور بین الاقوامی حقوق کی خلاف ورزی کی جارہی ہے مارو اور پھینکو کی پالیسیوں میں نہ صرف شدت آرہی ہے بلکہ اقوام متحدہ کی جانب سے ریاست کے لئے نرم گوشہ اور خاموشیوں کے گرد رہ کر قبضہ گیر بلوچ نسل کشی میں اپنے آپ کو حق بجانب سمجھ رہی ہے انسانی حقوق کی یہ تمام تر خلاف ورزیاں براہ راست جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں لیکن باوجود اس کے اقوام متحدہ زمینی حقائق کو مسلسل نظر انداز کرکے اتنے بڑے انسانی بحران اور خونریزی پرکردار ادا کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں جو ایک المیہ سے کم نہیں


