پارود اور گرد نواح میں ریاستی دہشت گردی اور فوج کشی سمیت مغربی بلوچستان کے علاقہ زاہدان میں ایرانی قبضہ گیر کی جانب سے 16بلوچ فرزندوں کی پھانسی بلوچ نسل کشی ہے دونوں قابض ریاست بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کررہے ہیں بلوچ سالویشن فرنٹ
16.4.2014
بلوچ وطن موومنٹ بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ اور بلوچ گہار پر مشتمل اتحاد بلوچ سالویشن فرنٹ نے اپنے جاری کئے گئے مرکزی ترجمان میں پارود اور گرد نواح میں ریاستی دہشت گردی اور فوج کشی سمیت مغربی بلوچستان کے علاقہ زاہدان میں ایرانی قبضہ گیر کی جانب سے 16بلوچ فرزندوں کی پھانسی کو بلوچ نسل کشی کا تسلسل قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ دونوں قابض ریاست بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے ساتھ اقوام متحدہ کی ودیعت کردہ حق آزادی کی جدوجہد کو کچلنے کے لئے بڑے پیمانے پر جنگی جرائم کا ارتکاب کررہے ہیں جبکہ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی علمبردار تنظیمیں طفل تسلیوں کے سوا کچھ نہیں کررہے ہیں چند ایک سرگرم تنظیمیں جو کاغذی کاروائیوں تک محدود ہے لیکن ان کی جانب سے عالمی سطح پر کسی بھی قسم کے بڑے پیمانے کے پیش رفت نظر نہیں آتی جو بلوچ قوم کے لئے لمحہ فکریہ ہے ترجمان نے کہاکہ ایران میں حالیہ چند ماہ کے دوراں 60سے زائد بلوچوں کی اجتماعی پھانسی ایران کے مکروہ اور گھناؤنے چہرے کو بے نقاب کرنے کے لئے کافی ہے دونوں قابض ریاست بلوچستان پر قبضہ کے بعد جنگی جرائم کا ارتکاب کرکے بلوچستان کو وحشت کدہ میں تبدیل کرچکے ہیں ترجمان نے شہداء پارود کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاہے کہ وہ بلوچ جہد آزادی کے سرمایہ اور میراث ہے ان کی قربانی جرات اور بے لوث کوششوں نے آزادی کی منزل کو قریب کردیا ہے ریاست اپنے تمام طاقت اور وسائل بلوچ تحریک آزادی کے خلاف استعمال میں لارہی ہے جبکہ پارود میں نہتے بلوچ آبادیوں اور خواتین بزرگوں اور بچوں کو شہادت جھگیوں اور جونپڑیوں کو جلانے کے واقعات کے زریعہ بلوچ عوام کی آزادی کی صفوں میں شمولیت کمزور نہیں ہوئی بلکہ شہادتوں اور قربانیوں نے آزادی کی چراغ کی لو کو اور بھی روشن کردیا ہے ترجمان نے کہاکہ ایران اور پاکستان جنگی جرائم کے زریعہ بلوچ قومی مسئلہ کو طول دیکر دنیا کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ بلوچ مسئلہ ان کی ممالک کی داخلی یا اندرونی مسئلہ ہے لیکن ان کا یہ پروپیگنڈہ زمینی صور تحال کے منافی اور بے بنیاد ہے جب کہ بلوچ مسئلہ قومی آزادی کا ہے جو ایک قومی اور عالمی مسئلہ ہے اور بین الاقوامی دنیا سے الگ تھلگ نہیں بلکہ جڑی ہوئی ہے تر جمان نے کہاہے کہ عالمی برادر ی اور مہذب دنیا کو چاہیے کہ وہ اپنی بین الاقوامی زمہ داریاں خلوص دل کے ساتھ ادا کر کے بلوچ قوم کی اخلاقی سیاسی اور سفارتی حمایت کو تیز کریں دونوں قابض ریاستوں کی بربریت اور وحشت کوعالمی سطح پر پوری طرح بے نقاب کرکے بلوچ قومی مسئلہ کے حل کے خیر خوائی کے ساتھ کردار اداکرکے تمام بین الاقوامی سیاسی فورمز اور اداروں کی پلیٹ فارم پر بلوچ قومی آزادی کی حق میں اور ریاستی دہشت گردی کے خلاف آواز بلند کرکے آزاد و جمہوری بلوچستان کے قیام کے لئے ہمارے ساتھ تعاون کریں امریکن کانگریس کی جانب سے بلوچ قومی آزادی کی حمایت تاریخی اور کلیدی اہمیت کی حامل ہے مہذب دنیا کو چاہیے کہ وہ امریکن کانگریس کی طرح بے باکی کے ساتھ بلوچستان کی آزادی کی غیر مشروط حمایت کریں


